جب وقت قیام آیا - حجاب مقدمہ پر کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2022-02-27

جب وقت قیام آیا - حجاب مقدمہ پر کرناٹک ہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ

hijab-case-reserved-verdict-by-karnataka-high-court

مسلسل 11 روز کی نرم وگرم بحث کے بعد کرناٹک ہائی کورٹ کی سہ رکنی بنچ نے 'حجاب ' پر اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عام طور پر 'فیصلہ محفوظ' اس وقت رکھا جاتا ہے جب عدالت کے پیش نظر معاملہ بہت پیچیدہ ہو اور جس کے ہر نکتہ کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کیلئے ججوں کو مزید وقت اور مزید مواد درکار ہو۔ فیصلہ کو محفوظ رکھنے کا یہ مطلب بھی ہوتا ہے کہ عدالت اپنی بصیرت کی روشنی میں فیصلہ لکھنے سے پہلے متعلقہ معاملہ کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی طور پر قانونی اور آئینی جائزہ لینا چاہتی ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقوں کو اپنے مشورے اور تجاویز کو تحریری طور پر جمع کرانے کی بھی رخصت دیدی ہے۔


بہر حال فیصلہ جو بھی آئے ایسا لگتا ہے کہ حجاب کے مسئلہ پر 11 روز تک عدالت میں ہونے والی بحث کی کوکھ سے بہت سے دوسرے مسئلے بھی پردۂ ظہور پر آگئے۔ ان میں سے کتنے مسئلے دور تک اور دیر تک قائم رہیں گے اس کا ابھی کوئی اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ کچھ مسئلے ایسے بھی اٹھیں گے کہ جن کی دھمک سے اصل مسئلہ غائب ہوجائے گا۔ مثال کے طورپر ساتویں دن کی بحث میں، جب حکومت کے وکیل (ایڈوکیٹ جنرل) اورمدعا علیہان کے وکلاء کو مدعیان کے دلائل کا جواب دینا تھا ، ایک نیا ایشو اٹھا دیا گیا۔


اوڈوپی میں لڑکیوں کےگورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج کے وکیل ایس ایس ناگ آنند نےعدالت کو بتایا کہ حجاب کا یہ ایشو صرف اس وقت اٹھا جب چھ لڑکیوں نے یکم جنوری کو سی ایف آئی کے ایک اجلاس میں شرکت کرنے کے بعد کالج کے پرنسپل سے کلاس میں بھی حجاب لگاکر آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ وکیل نے بتایا کہ مسلم لڑکیوں کو کالج کے احاطہ کے اندر تک حجاب لگاکر آنے کی اجازت پہلے سے ہی تھی لیکن کلاس کے اندر حجاب اتارکر جانا ہوتا تھا۔ یعنی کالج کے وکیل نے کرناٹک میں جاری حجاب کے تنازعہ کی پوری ذمہ داری سی ایف آئی کے سر پر ڈال دی۔
سی ایف آئی کا پورانام 'کیمپس فرنٹ آف انڈیا' ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ پی ایف آئی (پاپولر فرنٹ آف انڈیا) کی اسٹوڈینٹ ونگ ہے۔ ایس ڈی پی آئی اس تنظیم کی سیاسی ونگ ہے۔


ہمیں اس امر کی کوئی تصدیق نہیں ہے کہ فی الواقع وہی ہوا جو مذکورہ کالج کے وکیل نے عدالت کو بتایا۔ لیکن عدالت نے اس اطلاع پر حکومت سے رپورٹ تو طلب کرہی لی۔ یہ بات عدالت کے ریکارڈ میں آگئی کہ کوئی سی ایف آئی نامی گروپ ہے جو اس پورے قضیہ میں ملوث ہے۔ چیف جسٹس نےپوچھا کہ سی ایف آئی کے تعلق سے کیا حکومت کے پاس انٹلی جنس کی کوئی رپورٹ ہے۔ اگلے ہی روز حکومت کے وکیل نے سی ایف آئی کے تعلق سے مہر بند لفافہ میں ایک رپورٹ عدالت کو سونپ دی۔ 'مہر بند رپورٹ' کا مطلب سادہ زبان میں یہ ہوتاہے کہ حکومت اس رپورٹ کوعدالت کے علاوہ کسی اور پر افشا نہیں کرنا چاہتی۔ یعنی مدعیان کو اس کے بارے میں نہ علم ہوگا اور نہ اس کے نکات پڑھ کر اس کا جواب دینے کا کوئی حق ہوگا۔ 'مہر بند' یا سیل بند رپورٹ کا براہ راست کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ لیکن اس کا استعمال سپریم کورٹ نے اپنے تیرہویں حکم نامہ کے ضابطہ نمبر سات سے حاصل اختیارات اورہندوستان کے قانون شہادت 1872 کے سیکشن 123 کے تحت کرنا شروع کیا تھا۔ وہاں صرف عدالت ہی حکومت سے 'سیل بند' رپورٹ طلب کرتی تھی اور ضرورت محسوس ہونے پر اسے فریق مخالف کو بھی دیدیتی تھی لیکن اب اس کا از خود استعمال حکومتیں مختلف ہائی کورٹس میں بھی کرنے لگی ہیں۔


حالانکہ کرناٹک ہائی کورٹ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا تھا لیکن حکومت نے اپنی طرف سے یہ رپورٹ 'سیل بند' پیش کی۔ یہی نہیں بلکہ ایڈوکیٹ جنرل نے کارروائی شروع ہوتے ہی عدالت کو مطلع کیا کہ اوڈوپی کے ایک کالج کے کچھ ٹیچرس کو دھمکانے کے الزام میں سی ایف آئی کے ممبران کے خلاف پولیس نے ایف آئی آربھی درج کرلی ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کا مطلب یہی ہے کہ ایک طرف جہاں حجاب پر ہنگامہ اور شرپسندی کرنے والوں کو اب تک ہاتھ نہیں لگایا گیا وہیں جنہوں نے حجاب کے حق کیلئے آواز اٹھائی یا طالبات کو اس پر آمادہ کیا ان کے خلاف اب پورے کرناٹک میں اور خاص طورپر اوڈوپی میں بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے گی۔ سی ایف آئی کی آڑ میں اب کس کس پر افتاد آئے گی نہیں کہا جا سکتا۔


اولین سطور میں خالص لڑکیوں کے جس سرکاری پری یونیورسٹی کالج کا ذکر آیا ہے اس کے پرنسپل 'رودرے گوڈا' کا کہنا ہے کہ اس کالج میں حجا پ پر کوئی ضابطہ بنانے کی ضرورت اس لئے نہیں پڑی کہ کلاس روم میں بچیاں حجاب پہنتی ہی نہیں تھیں اور کالج کے احاطہ میں حجاب پہن کر آنے کی کوئی ممانعت نہیں تھی۔ پرنسپل کی طرف سے عدالت میں یہ بھی بتایاگیا کہ پچھلے 35 برسوں میں ایسی صورتحال کبھی سامنے نہیں آئی لیکن اب لڑکیاں کلاس روم میں بھی حجاب کی اجازت کسی خارجی طاقت کی پشت پناہی کے سبب طلب کر رہی ہیں۔


چھٹے دن کی بحث کے دوران چیف جسٹس نے حکومت کے وکیل سے پوچھا تھا کہ اگر کالج لڑکیوں کوحجاب پہن کر آنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کریں تو کیا حکومت کو اس پر اعتراض ہوگا؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے جواب دیا تھا کہ یہ تو اسی وقت دیکھا جائے گا۔ یعنی حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے! حکومت نے یونیفارم کے ضمن میں5 فروری کو جو جی او جاری کیا تھا اس پر عدالت میں جواب داخل کرتے ہوئے اس نے لا اینڈ آرڈر کا بھی ذکر کیا تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل نے اپنی ساری بحث میں ایک طرف جہاں اس پر زور بیان صرف کیا کہ حجاب مسلمانوں کے لئے لازمی مذہبی عنصر نہیں ہے وہیں یہ بھی کہا کہ حجاب آئین کی دفعہ 25 کے تحت حاصل حقوق میں آتا ہی نہیں۔ اس کا یہی مطلب ہوا کہ کرناٹک حکومت مسلم طالبات کو حجاب کا نہ مذہبی حق دینا چاہتی ہے اور نہ دستوری۔ اوپر سے وہ حجاب پہننے کو لا اینڈ آرڈر سے بھی جوڑ رہی ہے۔

ابھی یہ واضح نہیں کہ عدالت کیا موقف اختیار کرے گی لیکن جو بھی ہو اسے لازمی مذہبی عنصر یا دستور کی دفعہ 25 میں سے ہی کسی ایک کو اختیار کرنا ہوگا۔ بعض وکلاء نے، خاص طور پر یوسف مچھالا، روی ورما کمار اور دیودت کامت نے قرآن کے حوالے بھی پیش کئے۔ لیکن سب سے تفصیلی قرآنی حوالے وکیل اے ایم ڈار نے پیش کئے۔ انہوں نے معقولیت کے ساتھ قرآن کو مطلوب حجاب اور پردہ کا مفہوم بھی سمجھایا۔ انہوں نے حساسیت کو واضح کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اس سہ رکنی بنچ کی خاتون جج، جسٹس جے ایم قاضی زیادہ بہتر طور پر سمجھ سکتی ہیں۔ بنچ کے دو ججوں، جسٹس ایس کرشنا دکشت اور چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے ان کے دلائل میں دلچسپی لی اور کچھ نوٹس بھی لکھے۔ جس سنگل بنچ میں سب سے پہلے یہ معاملہ گیا تھا اس کے جج، جسٹس دکشت نے مسٹر ڈار کے ذیعہ پیش کئے گئے حوالوں کو اہتمام کے ساتھ نوٹ بھی کیا اور کچھ نکتوں پر وضاحت بھی چاہی۔ امید یہ ہے کہ بنچ کیلئے جسٹس دکشت ہی اس مقدمہ کا فیصلہ لکھیں گے۔


یہ درست ہے کہ عدالتوں نے مسلمانوں کے بعض داخلی اور مذہبی معاملات پر غیر حساسیت کے ساتھ فیصلے دئے ہیں۔ یہ تخصیص صرف موجودہ حکمرانوں کے زمانہ میں آنے والے فیصلوں کے ساتھ ہی نہیں ہے۔ ماضی میں بھی یہ خوب ہوا ہے۔ خود بابری مسجد کے تعلق سے ہی تالہ کھولنے کا فیصلہ دوسرے حکمرانوں کے زمانہ میں ہوا تھا۔ لیکن چونکہ بابری مسجد مقدمہ کا 'حتمی فیصلہ' موجودہ حکمرانوں کے ہی زمانہ میں پر اسرار طور پر رونما ہوا ہے اس لئے عدالتوں پر مسلمانوں کا اعتماد متزلزل ہوتا جارہا ہے۔ ایک کے بعد ایک ایسے معاملے اٹھائے جارہے ہیں جن میں خود عدالتوں سے بھی مسلمانوں کو راحت نہیں مل رہی ہے۔ اس لئے اب ہر آہٹ پر مسلمان گھبرا اٹھتے ہیں۔ ان کا گھبرا اٹھنا فطری ہے۔


سماعت کے دوران بہت سے ایسے مواقع بھی آئے کہ جن کا ذکر دلچسپی سے خالی نہ ہوگا لیکن اس وقت میں سفر میں ہوں اور اس محدود کالم میں ان سب کا احاطہ ممکن بھی نہیں۔ عدالت نے ایک ایسی پٹیشن کو خارج کردیا جس کی رو سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ عدالت میڈیا کو حجاب اور برقعہ پوش خواتین اور طالبات کا تعاقب کرنے پر پابندی لگائے۔ تاہم عدالت نے یہ ضرور کہا کہ ایسےانفرادی واقعات میں کہ جہاں طالبات متاثر ہوئی ہوں وہ حکام سے تحریری شکایت کریں اور حکام اس پر کارروائی کیلئے پابند ہوں گے۔


لیکن تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ مسکان نامی جس لڑکی نے کچھ ہی دن پہلے شرپسند غنڈوں کو للکار کر بہادری سے ان کا مقابلہ کیا تھا اور جس پر متعدد حلقوں نے اسے انعام واکرام سے نوازا تھا، اس نے پولیس میں ان غنڈوں کے خلاف کوئی شکایت کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہے کہ اس کے کالج کے پرنسپل نے درخواست کی ہے کہ کوئی شکایت نہ کی جائے کیونکہ اس سے کالج کی بدنامی ہوگی۔ میرا خیال ہے کہ یہ طرز عمل درست نہیں ہے۔ شرپسندوں کے خلاف مضبوط اور موثر قانونی کارروائی ضروری تھی۔ ایسے میں تو اور بھی زیادہ ضروری تھی جب حجاب کے تعلق سے آواز بلند کرنے کے الزام میں مسلمانوں کے کچھ طبقات کے خلاف حکومت کرناٹک نے کارروائی شروع کردی ہے اور جس کے بارے میں خود کرناٹک ہائی کورٹ کے ریکارڈ میں بھی ذکر آگیا ہے۔
ایسے میں 'بہادر' مسکان کا یہ پسپا ہوجانے والا اقدام فہم سے بالا تر ہے۔ یہی تو وقت تھا جب شرپسندوں کی گردنوں میں قانونی طوق مضبوطی کے ساتھ ڈالاجانا چاہئے تھا!


***
(بشکریہ: کالم ردعمل / روزنامہ انقلاب / 27 فروری 2022ء)
ایم ودود ساجد
موبائل : 9810041211
Editor-in-Chief - VNI. Excecutive Member- Delhi Union of Journalists, Secretary- Peace for All Initiative
ایم ودود ساجد

Hijab case and its reserved verdict by Karnataka HC - Column: M. Wadood Sajid.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں