وحید مراد - جنوبی ایشیا کا مشہور اور بااثر اداکار - آپ بیتی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2021-01-30

وحید مراد - جنوبی ایشیا کا مشہور اور بااثر اداکار - آپ بیتی

waheed-murad
وحید مراد پاکستان کی فلم انڈسٹری کے پہلے سپر اسٹار باور کیے جاتے ہیں جن کی فلم "ارمان" نے اپنے دور کے تمام باکس آفس ریکارڈ توڑ کر تھیٹر میں 75 ہفتے مکمل کیے تھے۔ "چاکلیٹ ہیرو" اور "لیڈی کلر" کے لقب سے معروف وہ ایک ممتاز فلمساز، ہدایت کار اور اسکرپٹ رائٹر بھی رہے۔ بحیثیت اداکار انہوں نے تقریباً 125 فلموں میں کام کیا جن میں سے 52 فلموں نے سلور جوبلی، 32 فلموں نے گولڈن جوبلی اور چار فلموں نے پلاٹینم جوبلی منائیں۔ انہیں بعد از مرگ نومبر 2010ء میں پاکستان کے اعلیٰ اعزاز "ستارۂ امتیاز" سے نوازا گیا۔ پاکستانی رسالے "شمع" (کراچی) کے ایک قدیم شمارہ (فروری-1969) میں شائع شدہ ان کی ایک مختصر آپ بیتی قارئین کے تسکینِ ذوق کی خاطر پیش خدمت ہے۔
تعارف وحید مراد
پورا نام: وحید مراد
تاریخ پیدائش: 2/اکتوبر 1938ء
(تاریخ وفات: 23/نومبر 1983ء)
جائے پیدائش: کراچی
تعلیم: ایم۔اے
بحیثیت اداکار پہلی فلم: اولاد
بحیثیت فلمساز: جب سے دیکھا ہے تمہیں، انسان بدلتا ہے، ہیرا اور پتھر، ارمان، احسان، سمندر۔
بحیثیت فلمساز و ہدایتکار: اشارہ

چونکہ میں کراچی ہی میں پیدا ہوا تھا اور یہیں کی رہائش مستقل تھی اس لیے اپنا مستقبل بھی کراچی کے ساتھ ہی وابستہ کر کے تعلیم و تربیت حاصل کرنے لگا۔ والد صاحب پہلے ہی سے فلم کا کاروبار کر رہے تھے اور یہاں کے اچھے خاصے تقسیم کار تھے۔
سن شعور پر پہنچنے کے بعد میری طبیعت بھی خواہ مخواہ اس طرف راغب ہونے لگی۔ لیکن اس رغبت کے معنی یہ نہیں تھے کہ میں تعلیم کی طرف سے غافل رہتا یا دوسرے ناعاقبت اندیش نوجوانوں کی طرح گھر اور اسکول کی چہار دیواری پھلانگ کر نگارخانوں کی دنیا میں پہنچ جاتا۔ بلکہ پہلے خود کو کسی قابل بنانا ضروری سمجھا۔ میں اس حوصلہ اور جوش کا قائل نہ تھا جو مجھے ہمیشہ کے لیے صحیح راستہ سے ہٹا سکتا تھا۔ میرا عقیدہ ہے اگر آدمی اپنی جدوجہد اور ضبط و تحمل سے کام لے تو حالات کو ایک نہ ایک دن یقیناً اپنے تابع بنا سکتا ہے۔ اور پھر ہوا بھی ایسا ہی۔
میرے والد (نثار مراد) صاحب نے میرے علمی و فلمی شوق کو دیکھ کر میری حوصلہ افزائی کی اور سمجھایا کہ اگر تمہیں یہ دونوں ہی عزیز ہیں تو مستقبل کی خوش آئند گھڑیوں کا انتظار کیے بغیر دورانِ تعلیم ہی فلم میں دلچسپی لے سکتے ہو۔

اس اجازت کا ملنا تھا کہ میں نے نہ صرف فلمسازی کی بابت سوچنا شروع کر دیا بلکہ بڑے غور و خوض کے بعد ایک فلم بنانے کا اعلان بھی کر دیا۔ اس فلم کا نام تھا: "جب سے دیکھا ہے تمہیں"۔ فلمساز میں خود تھا اور ہدایت کاری کے لیے منور رشید کا انتخاب کیا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ میری پہلی ہی کوشش کامیاب ہو گئی۔ اور آئیندہ کے لیے حوصلے بلند ہو گئے۔ چنانچہ دوسری فلم "انسان بدلتا ہے" بنائی۔ اس کی ریلیز کے بعد حالات کچھ اس طرح میرے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے تڑپے کہ میں خود دنگ رہ گیا۔ میں جو سوچ بھی نہ سکتا تھا، قسمت مجھے زبردستی اس طرف متوجہ کرنے لگی۔ یعنی بیٹھے بٹھائے مجھے اداکاری کے لیے اکسایا گیا۔ میں خود اپنے کو اس قابل نہیں سمجھتا تھا اور اگر سمجھتا تو اپنی فلموں میں درپن کو ہیرو کیوں لیتا؟
لیکن ہدایت کار ایس۔ ایم۔ یوسف مصر تھے کہ تم یقیناً ایک اچھے اداکار ثابت ہو سکتے ہو۔ میں نے انکار کیا۔ مگر جب ایک معمر اور تجربہ کار ہدایت کار میری کامیابی کی ضمانت دینے لگے تو پھر بھلا میں بھی کیوں نہ تجربہ کے لیے تیار ہو جاتا؟ یعنی آپ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ مجھے اپنی نسبت خوش فہمی ہو گئی اور جب میں بحیثیت اداکار کیمرہ کے سامنے آیا تو محض اس خیال نے میرے اندر برقی رو بھر دی:
"یہ نہ بھولنا کہ تو ایک کامیاب فلمساز ہے اگر ایکٹنگ کے لحاظ سے ناکام رہ گیا تو تیری آئندہ ساکھ پر بڑا برا اثر پڑے گا"
مجھ سے اداکاری کے لیے کہا گیا اور مجھے میرے مکالمے بتائے گئے اور میں نے یہ سب کچھ اس طرح کیا جیسے میں کوئی پرانا اداکار ہوں۔ سب دیکھنے والے متحیر ہو گئے۔ ساتھ ہی یوسف صاحب نے اپنی عظمت کا اعلان کیا کہ:
"دیکھا ہے نا یہ فنکار۔ میں نہ کہتا تھا کہ نثار مراد کے گھر میں ہیرو موجود ہے اور وہ بلاوجہ باہر کا ہیرو لیتے ہیں"۔
بہرحال ابھی فلم بن ہی رہی تھی کہ دوسرے لوگوں نے میرے کام کی شہرت سن کر اپنی فلموں میں لینا شروع کر دیا۔ ابھی میں اپنی ذاتی فلم "ہیرا اور پتھر" کی ابتدائی تیاریوں میں لگا ہوا تھا کہ دوسری فلم "دامن" کے ساتھ دو تین فلموں میں اور کام کیا۔ اور جب سب نے میری ایکٹنگ کو سراہا تو اپنی تیسری فلم میں مرکزی کردار کے لیے میں نے خود کو ہی چنا۔
یہ وہ زمانہ ہے جبکہ میں کالج میں پڑھ رہا تھا اور پرویز ملک میرے عزیز کلاس فیلو اور دوست بن چکے تھے۔ ان کے مابین میرا ایک زبانی معاہدہ ہوا کہ میں فلمیں بناؤں گا اور تم ہدایتکار رہو گے۔ چنانچہ پرویز ملک ادھر سے فارغ ہوتے ہی ڈائرکشن کی تعلیم کے لیے پاکستان سے باہر چلے گئے۔ کچھ دن بعد میں نے "ہیرا اور پتھر" شروع کی تو ان کے واپس ہوتے ہی حسب وعدہ فلم کی ہدایتکاری کی ساری ذمہ داری ان ہی کے سپرد کر دی۔ اور یہ ہم دونوں کی خوش قسمتی ہے کہ میں بحیثیت ہیرو اور وہ بحیثیت ہدایت کار بےحد کامیاب رہے۔
"ہیرا اور پتھر" کے دوران اگرچہ میں سخت پریشان تھا کیونکہ اس میں میری ذمہ داریاں بڑی حد تک بڑھ گئی تھیں۔ بہرحال اللہ کا شکر ہے کہ مجھے میرے خواب کی صحیح تعبیر ملی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میرے تمام ساتھیوں نے مجھ سے بھرپور تعاون کا مظاہرہ کیا تھا اور پھر عوام نے بھی مجھے پسند کیا تھا۔ لاتعداد فلموں میں کردار ملنے لگے۔ اس لیے مجھے لاہور اور ڈھاکہ بھی جانا پڑتا۔ لیکن اس کے باوجود میں نے فلمسازی کی طرف سے غفلت نہیں برتی اور انتہائی مصروفیت کے باوجود اپنی نئی فلم "ارمان" کا اعلان کر دیا۔ 'ارمان' بھی بےحد کامیاب گئی۔ لیکن جب 'سمندر' نرم گئی تو کچھ سوچنے کا انداز بدلنا پڑا۔

اب میں اگلی فلم کی ڈائرکشن خود کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ چونکہ تعلیمی لحاظ سے بھی میں ایم۔اے سے فراغت حاصل کر چکا تھا۔ دوسرے، اب اپنے اندر ایک نئی تبدیلی کا خواہاں تھا۔ ایک نیا تجربہ ایک نیا راستہ۔ میرا اپنا خیال ہے کہ اگر کوئی مصروف و مقبول اداکار سنجیدگی کے ساتھ ہدایتکار بننا چاہے تو وہ ضرور کامیاب ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے تجربات اسے خواہ مخواہ سہارا دیں گے۔ میں نے سوچا کہ ہدایتکاری کا یہاں کوئی اسکول تو ہے نہیں اور نہ ہی یہ ہدایت کار کوئی سند یافتہ ہوتے ہیں، اس لیے میں بھی اپنے تجربات کی روشنی میں ایسا کر گزرنے میں حق بجانب ہوں۔
میں جب فلمساز تھا اور ہیرو نہیں تھا تو لوگوں نے میرے ہیرو بننے کے بعد مجھے "لیٹ آنے" کا طعنہ دیا۔ اب ڈر رہا ہوں کہ کہیں کہنے والے کل کو یہ نہ کہیں کہ گھر میں ہی ہدایتکار تھا اور بلاوجہ ادھر ادھر بھٹکتا پھر رہا تھا۔ اس لیے "اشارہ" میری ایسی فلم ہے جس میں نہ صرف ہدایت کار ہوں بلکہ اس میں گلوکار کی حیثیت سے بھی تجربہ کیا ہے۔ اس میں ایک گانا میں نے خود بھی گایا ہے اور ایک اداکارہ دیبا سے بھی گوایا ہے۔ اس میں ہم لوگ کہاں تک کامیاب ہوئے ہیں؟ یقیناً اس کا فیصلہ آپ لوگ ہی کریں گے۔۔۔ اور امید ہے کہ اس سلسلہ میں آپ لوگ مجھے اپنی رائے سے ضرور مطلع کریں گے۔

***
ماخوذ: ماہنامہ شمع (کراچی)۔ شمارہ: فروری 1969

Waheed Murad, the most famous and influential actors of South Asia.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں