افسانہ اور ناول کا فرق - از وقار عظیم - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-09-12

افسانہ اور ناول کا فرق - از وقار عظیم

difference between Afsana and Novel

مختصر افسانہ ایک ایسی نثری داستان ہے جسے ہم آسانی سے آدھ گھنٹہ سے لے کر دو گھنٹہ تک میں پڑھ سکیں۔ اور جس میں اختصار اور سادگی کے علاوہ اتحاد اثر، اتحاد زماں و مکاں اور اتحاد کردار بدرجۂ اتم موجود ہو۔ اسے بھی افسانہ کی مکمل تعریف نہیں کہا جا سکتا اس لیے کہ موجودہ افسانہ میں فن کے لحاظ سے جو بلندیاں شامل ہو گئی ہیں ان کا تعلق بھی دوسرے فنون لطیفہ کی طرح صرف احساس سے ہے۔

افسانہ اور ناول:
افسانہ کے متعلق عام طور پر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ وہ ناول کی ایک مختصر شکل ہے۔ اس خیال کو غلط فہمی کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ افسانہ کی ابتدا ناول کے علاوہ دوسری چیزوں سے ہوئی۔ ناول سے افسانہ نے صرف آرٹ لیا اور اس آرٹ میں بھی ضرورت کے مطابق برابر تبدیلیاں ہوتی رہیں، یہاں تک کہ موجودہ صورت میں ناول اور مختصر افسانہ دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔
دونوں کا فن، دونوں کی لطافتیں، دونوں کی اچھائیاں اور برائیاں بالکل الگ ہیں اور اس لیے یہ سمجھنا کہ ناول کی جگہ افسانہ لے سکتا ہے، ایک بڑی نادانی ہے۔
اس بات کا ثبوت کہ افسانہ اور ناول دو بالکل جداگانہ چیزیں ہیں صرف یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے اچھے اچھے ناول نگار کامیاب افسانہ نگار نہیں بن سکے۔ اور بہت سے کامیاب نگار باوجود کوشش کے افسانہ نگاری کی دنیا میں کوئی ممتاز حیثیت حاصل نہیں کر سکے۔

اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم اس جگہ چند باتیں صرف اس لیے لکھتے ہیں کہ ناول اور افسانہ کا فرق زیادہ سے زیادہ نمایاں طور پر نظر آنے لگے اور لوگ اس غلط فہمی کا شکار نہ رہیں کہ ہر ناول لکھنے والا افسانہ بھی لکھ سکتا ہے، یا افسانہ، ناول کی کوئی بگڑی ہوئی مختصر شکل ہے۔

ناول اور افسانہ میں سب سے نمایاں فرق ان دونوں کا طول اور اختصار ہے اور صرف اس فرق کی وجہ سے دونوں میں بہت سے فنی اور لطیف فرق پیدا ہو گئے ہیں۔
افسانہ اور ناول کے لیے سب سے پہلی چیز اس کا پلاٹ ہے۔ بغیر کسی خاص بلاٹ کے افسانہ اور ناول کا وجود غیرممکن ہے لیکن ناول نگار اور افسانہ نگار دونوں اپنے اپنے مقصد کے لحاظ سے اس میں تبدیلیاں کرتے رہتے ہیں۔ اور اس موقع پر افسانہ نگار کو زیادہ دقت نظر اور باریک بینی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اسے نفسیات کا ماہر ہونا پڑتا ہے۔ اسے ناول نگار سے زیادہ مشاہدہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسے اس سے زیادہ گہری نظر انتخاب سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ اچھی اور بری چیز کو پرکھے بغیر اسے اپنے کام میں نہیں لا سکتا۔ اس لیے کہ ناول طویل ہوتا ہے، اس میں ہر واقعہ زیادہ سے زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا سکتا ہے اور ناول نگار ان تمام واقعات کو بغیر کسی پس و پیش کے بیان کر سکتا ہے جو اس کی نظر کے سامنے آئیں۔ اس کا نقطۂ نظر صرف ایک حقیقت بیں (Realist) کا سا ہوتا ہے جو ہر چیز کو بالکل اسی طرح ہمارے سامنے پیش کرتا ہے جیسی اس کے مشاہدہ میں آئی ہے۔ افسانہ نگار کو ایسے موقعوں پر صرف تصور آفرینی (Suggestibility) سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ لوگوں پر ان تمام واقعات کا اثر ڈالنا چاہتا ہے جو پیش آئے ہیں اور اس کے لیے یہ بھی مجبوری ہے کہ وہ انہیں تفصیل سے بیان کرنے میں معذور ہے۔ اس لیے وہ چند چیزوں کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ ان کے بیان کے بعد دوسری چھپی ہوئی چیزوں کا تصور خواہ مخواہ نظروں کے سامنے آ جائے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اسے نظر انتخاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ کس چیز کو بیان کرے اور کسے چھوڑے کہ زیادہ سے زیادہ اثر پیدا کر سکے۔

دوسری دقت جو ایک افسانہ نگار ایک ناول نگار کے مقابلہ میں زیادہ محسوس کرتا ہے، یہ ہے کہ وہ اپنے افسانہ میں صرف ایک واقعہ، ایک جذبہ، ایک تحریک یا ایک نکتہ بیان کر سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے پلاٹ کو زیادہ سے زیادہ سادہ اور حقیقی بنا سکے، اس لیے اس کا اہم فرض یہ ہو جاتا ہے کہ وہ ہر لمحہ اپنی توجہ صرف اپنے پلاٹ پر رکھے تاکہ وہ پیچیدہ نہ ہونے پائے اور اس کا مقصد اور اس کا اثر کسی طرح کم نہ ہو۔
اس لیے اسے ناول نگار کے مقابلہ میں کہیں زیادہ باخبر، متوجہ اور مصروف رہنا پڑتا ہے تاکہ وہ اپنے پڑھنے والوں کے دلوں پر ایک ہی اثر (Impression) قائم رکھے۔ جس اثر میں وہ شروع میں ڈوب چکے ہیں اس میں برابر ترقی ہوتی رہے۔ ان کا خیال کسی دوسری طرف نہ جائے اور اس مقصد کے لیے دوسری اہم ضرورت یہ ہے کہ افسانہ نگار ایک منٹ کے لیے بھی اپنے نقطۂ نظر میں فرق نہ آنے دے۔ افسانہ کے پہلے جملے سے اس کے آخر لفظ تک اس کا نقطۂ نظر یکساں رہے۔ وہ کچھ کہنا چاہے تو صرف اشارہ (Suggestion) سے کام لے۔

مختصر یہ کہ اس کی دقتیں ناول نگار سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسے زیادہ باخبر، زیادہ متوجہ اور زیادہ سے زیادہ فن کا پابند ہونا چاہیے۔
ناول نگار کی دنیا آزاد ہے اور اس کے بعد بھی اسے دلوں کو اپنے قبضہ میں کرنے کی زیادہ پرواہ نہیں۔ افسانہ نگار قید ہے۔ اس کی پابندیاں اس کے پاؤں کی زنجیریں ہیں۔ اس کے بعد بھی اس کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے پڑھنے والے کے دل کو اپنے اثر میں رنگ دے۔ اس کے گوشے گوشے پر صرف یہ حکمراں ہو۔ اس پر وہی جذبہ گہرا سے گہرا طاری کر سکے جو خود اس کے دل میں بسا اور رچا ہوا ہے۔ وہ ہر شخص کو اپنے سحر کی رنگین دنیا کا باشندہ بنا لے۔ کیا اس کے بعد بھی اس سے انکار ہو سکتا ہے کہ افسانہ نگاری کا فن، اگر کوئی حقیقی معنوں میں اسے فن سمجھے تو، ناول سے کہیں زیادہ دشوار اور بلند ہے؟

پلاٹ کو چھوڑ کر ہم افسانوی کرداروں کی طرف توجہ کریں تو ہمیں افسانہ نگار کی دقتوں کا زیادہ اندازہ ہو جائے گا۔ طویل ناول میں ہم اس کے کرداروں کو مختلف شکلوں اور مختلف حالتوں میں دیکھتے ہیں اور انہیں دیکھنے کے بعد ان کے متعلق اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں۔ انہیں کبھی ہم نے دوستوں سے، کبھی گھر والوں سے اور کبھی ہمسایوں سے ملتے جلتے، بات چیت کرتے، ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے دیکھا ہے، اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے ان کے متعلق جو رائے قائم کی ہے وہ ہماری ذاتی ہے۔ ناول نگار نے صرف واقعات بیان کر دئے اور اس کا فرض ختم ہو گیا۔ مختصر افسانہ میں یہ سب چیزیں ایک ساتھ نہیں دکھائی جاتیں اس لیے افسانہ نگار کو اپنے کرداروں کو ہمیشہ کسی نہ کسی خاص اضطراب (Crisis) کی حالت میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی ان کا ارتقا بھی دکھانا لازمی سا ہو جاتا ہے اور ان صورتوں میں بھی انتخاب اور دقت نظر کی ضرورت پڑتی ہے اور ناول نگار کے مقابلہ میں ایک دشوار کام سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

کرداروں کے علاوہ خود افسانہ کا انجام اس کی تحریک (Motive) کا عمل اور اس کا مقصد ایسی چیزیں ہیں جہاں افسانہ نگار کو ناول نگار سے زیادہ فن کی پابندیاں کرنی پڑتی ہیں۔ اسے مجبور ہونا پڑتا ہے کہ وہ حقیقی (Realistic) نقطۂ نظر کو چھوڑ کر کبھی رومانی، کبھی شاعرانہ، کبھی فلسفیانہ اور کبھی نفسیاتی نقطۂ نظر اختیار کرے لیکن اس کے باوجود بھی اتحاد اثر (Unity of Impression) اور فنی حقیقت (Artistic Truth) کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔
یہ سب کچھ ہے لیکن اس کے بعد بھی ہم آسانی سے یہ نہیں بتا سکتے کہ افسانہ کبھی ناول کی جگہ لے لے گا۔ اس لیے کہ جہاں لوگ شاعرانہ، فلسفیانہ، رومانی اور افسانوی حقیقتوں پر جان دیتے ہیں وہاں دوسری طرف انہیں خود حیات انسانی، اس کی پیچیدگیوں اور اس کی سادی اور پرکیف حقیقتوں سے بھی اتنی دلچسپی ہے کہ وہ ناول کو کھونا پسند نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی زندگیوں کو پورا مرقع، صحیح سے صحیح عکس اور اس کی غیرشاعرانہ تفصیلات کی مکمل تصویریں دیکھ کر زیادہ خوش ہوتے ہیں اور یہ چیز انہیں ناول کے سوا اور کہیں نہیں مل سکتی۔ مختصر افسانہ اس کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔

***
ماخوذ از کتاب:
افسانہ نگاری (تالیف: سید وقار عظیم)

The difference between Afsana and Novel. Article by: Waqar Azeem

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں