دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر - انشائیہ از محبوب خاں - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2020-08-09

دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر - انشائیہ از محبوب خاں



دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے۔۔!

غالب کے خطوط کو اردو ادب میں بڑی اہمیت حامل ہے۔ یہ وہ مقام تھا جہاں سے اردو نثر اپنی روایات سے ہٹ کر آسان پیکر سے آراستہ ہو رہی تھی۔اردو ادب کے آسمان پر نئی نثر کا آفتاب طلوع ہو رہا تھا۔ نثر نگاری کی ایک نئ نسل بھی بیدار ہو رہی تھی۔
غالب سے قبل قرون وسطی میں خطوط و فرمان فارسی آمیزش زبان میں لکھے جاتے۔ نامہ بری حکومت کے زیر نگرانی ایک اہم شعبہ ہوا کرتا تھا - ایک جگہ سے دوسری جگہ خطوط اور فرمان کو پہوچانے کے لیے شہ سوار رکھے جاتے ، جگہ جگہ سرائے اور رین بسیرے ہوتے ، راستے کی نشاندہی کے لیے کوس مینار کھڑے ملتے۔ اس سے قبل کبوتر اور دیگر ذرائع سے پیغام رسانی کا ذکر بھی ملتا ہے۔

کچھ سال پہلے تک خوبصورت پھولوں کے عکس اور تصویروں سے آراستہ لیٹر پیڈ پر دل کا مدعا بیان کیا جاتا ، ہجر اور کرب کی راتوں کی دہائی دی جاتی۔ اس خط کا ڈاک نظام بھی بہت دلچسپ ہوتا تھا۔ عام طور پر کتاب کے بیچ میں رکھ کر اسے منزل تک پہونچایا جاتا ، یا کبھی دوست احباب یا سہیلی کے ذریعے دستی بھیجتے ، کبھی گمنام جکہ پر گمنام پتھر کے نیچے چھپا ہوا کاغذ کا ایک ٹکڑا داستان ہجر بیان کرتا۔ لیکن یہ ڈاک سسٹم بہت حادثاتی بھی تھا کبھی کبھی فیل ہو جانے پر بہ قلم خود کو اک آگ کے دریا سے ڈوب کر تشدد کی منزلیں بھی طے کر نا پڑتا تھا۔ قرون وسطی میں ڈاک کا اگر اچھا نظام ہوتا تو گوسوامی تلسی داس لاش کے سہارے ندی نہ پار کرتے، سانپ کو پکڑ کر چھت پر نہ چڑھتے ، اور شاید ہم ان کی عظیم تخلیق رام چرت مانس سے بھی محروم ہی رہتے۔

مغلوں کے آخری دور میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے قدم ہندوستان میں جما لیے تھے اور ڈاک کے عمدہ نظام کےتحت انھوں نے ہندوستان کا پہلا ڈاک خانہ کلکتہ میں سنہ 1774 میں کھولا۔ بعد میں کئی اور بھی ڈاکخانے کھولے ، پہلا ڈاک ٹکٹ 1854 میں جاری کیا گیا۔

1857 کے بعد حکومت برطانیہ کے زیر سایہ ہندوستان میں ڈاک کا نظام مزید مضبوط ہوا۔ انگریز اپنی حکومت کے گوشہ گوشہ سے باخبر رہنا چاہتے تھے اسلیے انھوں نے ڈاک کے نظام کو بڑی اہمیت دی۔ ریلوے لائنیں بچھانے کا کام شروع ہوا۔ جگہ جگہ ڈاگ بنگلے بنائے گئے، جہاں ڈاک جمع ہوتی ، پڑھی جاتی ، جواب لکھوائے جاتے اور ڈاک آگے کو روانہ ہو جاتی۔
ڈاک کے لیے خاص ریل گاڑیاں بھی چلائی گئیں اور انھیں میل ٹرین کہا گیا اور ان میل ٹرینوں کا ٹھہراؤ بھی شہر اور قصبات کی اہمیت کے اعتبار سے رکھا گیا۔ RMS بھی شروع کیا گیا۔

کاغذ اور قلم سے خط لکھنا ہماری تہذیب کا اہم حصہ رہا ہے۔ غالب کے خطوط ہوں یا ، پنڈت جواہر لال نہرو کا اندرا گاندھی کے لیے جیل سے لکھے ہوئےخط یا پھر بیماری اور تنہائی کی حالت میں صفیہ اختر کے جان نثار اختر کو بھیجے گئے خطوط۔۔۔ جس کا مجموعہ "زیر لب" کے نام سے شایع ہو کر اردو ادب کا حصہ بن چکا ہے۔ ہاتھ سے لکھے خط کی جذباتی اور رومانی کیفیت کا کیا کہنا۔۔۔!

ہماری فلموں میں بھی خطوط کا استعمال خوب ہوا ہے۔ فلموں میں مغل شہزادوں کو کمل کے پھول کے ذریعہ اپنی معشوقہ کو خط بھیجنے کا منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہیں سنسان اور تاریک اندھیری رات میں ریل کے تنہا فرسٹ کلاس کمپارٹ مینٹ میں خوابیدہ صاحب جان کے پیروں پر رکھا ایک فورسٹ افسر کا خط جس میں صاحب جان کے خوب صورت پیروں کی تعریف اور زمین پر اتارنے کی صورت میں میلے ہو جانے کا خدشہ درج کیا گیا تھا۔ کاش صاحب جان کی ماں نرجس کا لکھا خط شہاب الدین کو وقت پر مل گیا ہوتا تو تو نرجس بالا خانے کی زینت نہ بنتی۔ وہ خط پوسٹ نہ ہو سکا اور منزل تک پہونچنے میں اسے 16 سال لگ گئے۔
لکھنؤ کی چھتوں پر دفتی کے ڈبے اور تار والے کھلونا فون سے مہرو اور ان کے منگیتر شاعر نسیم کے درمیان دل بیتاب کو سینے سے لگانے جیسی باتیں بھی سنائی دیں۔۔۔۔ لیکن جس خوب صورتی سے راج کپور نے اپنی ایک فلم میں پریم پتر کو فلمایا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اتفاق ہے کہ یہ پریم پتر ہی اس فلم کے کلائمیکس کی بنیاد بن گیا۔ جاتے جاتے فلم یہ بھی سیکھ دے گئی کہ پریم پتر کو کبھی محفوظ کر کے نہیں رکھنا چاہیے۔

انگریزوں کے جانے کے بعد بھی آزاد ہندوستان میں ڈاک کا وہی نظام رائج رہا ، وہ دن یاد کیجئے جب آپ بے صبری سے ڈاکیے کا انتظار کرتے تھے ، ہماری خوشی ، رنج و غم سب اس کے آمد اور آہٹ کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔ ڈاکیہ اب بھی ہے مگر اب وہ کسی بزرگ کی زندگی میں جوانی کے خواب کی طرح کبھی کبھار آتا ہے۔

خطوط کے علاوہ ٹیلیفون بھی پیغام پہونچانے کا ذریعہ تھا مگر وہ عام دسترس سے باہر کی بات تھی۔ ای میل باہر کے ملکوں میں رائج تھا اور اس پر پیسے لگتے تھے۔ بھلا ہو سبیر بھاٹیہ کا جس نے Hotmail لانچ کر کے فری ای-میل سروس کا آغاز کیا ہندوستان میں عوامی انٹرنیٹ 15/اگست 1995 میں آیا تب لوگوں نے ای-میل سے خط بھیجنا دیکھا۔ مگر انقلاب کی آمد تو ہونی تھی ، جی ایس ایم اور سی ڈی ایم اے تکنیک کے ذریعہ اب موبائل فون کی باری تھی اور 1995 میں موبائل فون کی خدمات شروع ہو گئی۔ بنگال کے وزیر اعلی جیوتی باسو نے پہلا فون مرکزی وزیر سکھرام کو کر کے 1995 میں موبائل فون کی سروس کا آغاز کیا۔

موبائل فون سے ٹیکسٹ میسیج (SMS) آہستہ آہستہ مقبول ہو رہا تھا اور جب یہ مفت کی سروس ہوگئی تو نئی نسل کی زندگی میں ہیجان برپا ہو گیا۔ طرح طرح کے شارٹ فارم اور الفاظ کے ابریسیشن بھی آ گئے۔ نٹیکسٹ میسیج کے ساتھ ساتھ تصویر بھیجنے کی سہولیات فراہم کرائی جانے لگی جسے MMS کہتے تھے۔
انھیں دنوں 2003 میں Skype کا آغاز ہوا جس سے ویڈیو اور روبرو گفتگو کی سہولیات ملی مگر کچھ ایسی بدقسمتی کہ چھوٹی کمپنی یا اسٹارٹ اپ کے وسائل بہت محدود رہتے ہیں اور جب ایسی کمپنیوں کو کوئی بڑی کمپنی ٹیک اور کرتی ہے تو وہ کامیاب ہو جاتی ہیں۔ Skype کو جب مائکروسافٹ نے خرید لیا تو وہ مقبول ہو گئی۔ لیکن ابھی ہندوستان میں انٹرنیٹ بہت عام نہیں تھا اور نہ ہی اس کی اسپیڈ تیز تھی۔

جس وقت ہم SMS اور MMS کی دنیا میں کھوئے ہوئے تھے اسی وقت یاہو کمپنی کے دو لڑکے جان کون اور برین ایکٹن ماؤنٹین ویو اسٹیشن کے سامنے کاسٹرو اسٹریٹ کے ریڈ راک کافی میں خاموشی سے بیٹھے اس بات پر غور کر رہے تھے کہ ٹیکسٹ ، آڈیو اور ویڈیو کو تیزی سے اور ڈھیر سارا بھیجنے کا کوئی ایپ تیار کیا جائے۔ یہ دونوں ریڈ راک کافی میں گھنٹوں بیٹھے سوچتے رہتے۔ ریڈ راک وہ کیفے ہے جہاں کبھی گوگل کے فاؤنڈر بچے بھی بیٹھے تھے۔ میں امریکہ کے بے ایریا کے اس کیفے میں خاص طور پر گیا تھا ، بیٹھا ، کافی پی،۔ دیکھا پورا ہال بھرا ہونے کے بعد بھی بے انتہا خاموشی کا عالم ہے ، سب اپنے لیپ ٹاپ میں کھوئے ہوئے ہیں۔ نہ جانے کل ان میں سے کون دنیا کو کیا سوغات دینے والا ہے؟ کیا پتہ آنے والے کل کا کوئی اور مارک یہاں سے پیدا ہو اور دنیا کو بدل دے۔

بہرحال 2009 میں ان دونوں کی وہاٹس ایپ کمپنی رجسرڈ ہوئی ۔ویڈیو اسٹریمنگ کا آئی ٹیم بہت مہنگا ہے اس لیے وہاٹس ایپ کو بہت مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی درمیان چین میں 2011 میں وی چیٹ we chat بھی بازار میں آ گیا اور چین میں بہت مقبول ہو گیا۔ 2013 میں ہی روس کے دو طلبا نے لندن میں " ٹیلی گرام " کمپنی قائم کی اور اس کا آپریٹنگ ہیڈ کوارٹر دبئی ( عرب امارات ) میں بنایا۔ اب وہاٹس ایپ کے کئی حریف میدان میں تھے، کمپنی کو بچانے کے لیۓ 2013 میں سیکوا نے 50 ملین ڈالر لگائے مگر نامناسب حالات میں وہاٹس ایپ کو فیس بک کے ہاتھوں 2014 میں بیچنا پڑا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاٹس ایپ کے بانیوں نے کبھی فیس بک میں نوکری کے لیۓ کوشش کی تھی اور ناکام ہوئے تھے۔

اب الفاظ کے کاغذی پیرہن سے آراستہ خطوط کا دور خواب کی بات ہو گئی ہے ، آپ کو کبھی خط لکھنے کا خیال بھی ہوا تو سڑک پر لیٹر باکس تلاش کرنے پر مایوسی ہوگی ، لیٹر باکس نہیں ملیں گے۔

آج مراسلاتی نظام نے بے حد ترقی کر لی ہے۔ وہاٹس ایپ اور دوسرے ایپ نے ساری دنیا کو ایک چھوٹے سے کمرے میں قید کر لیا ہے۔ موبائل سیٹ اور تیز رفتار انٹرنیٹ نے ادب صحافت ، فلم ، اسپورٹ ، فنون لطیفہ ۔۔۔ غرض دنیا کا سارا علم آپ کی مٹھی میں بند کر دیا ہے۔ اب ویڈیو پر براہ راست گفتگو میٹنگ عام ہوتی جا رہی ہیں۔ Zoom نے تو اس لاک ڈاؤن کے ماحول میں مشاعرے ، سیمینار اور بچوں کی کلاسیں بھی موبائل ایپ پر دکھا دیا۔
اب دیکھیے کہ مستقبل میں اس ترقی کی نیا سنگ میل کیا ہوگا ؟؟!!

The story of text messages. Article by: Mehboob Khan

1 تبصرہ:

  1. وہ بھی اک زمانہ تھا جب خط کے جواب کے انظار مین مھينون گزارنے پڑتے

    جواب دیںحذف کریں