سعودی عرب میں گاندھی امن سائیکل ریلی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2019-06-10

سعودی عرب میں گاندھی امن سائیکل ریلی

Gandhi-Cycle-Rally-for-Peace

ایک ایسے وقت جبکہ مودی کی بی جے پی حکومت انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہو کر اقتدار حاصل کرنے کے بعد "سب کا ساتھ سب کا وکاس" کے نعرہ میں ایک فقرہ کا اضافہ کرتے ہوئے "سب کا وشواس" بھی اپنے نظریات میں شامل کر چکی ہے، ایسے میں بھگوا نظریات کی حامل جماعتوں اور خود بی جے پی قائدین کی جانب سے بابائے قوم مہاتما گاندھی کے نظریات کی نہ صرف مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو ہیرو باور کراتے ہوئے اسے ہندوؤں کا رول ماڈل قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک جانب کئی قائدین بابائے قوم کی سرعام مخالفت کر رہے ہیں تو دوسری جانب مہاتما گاندھی کے پتلے پر گولیاں چلانے والی ہندو واہنی کی خاتون لیڈر اسکولی طلباء میں ہتھیار تقسیم کرتی ہیں۔
ایسے ماحول میں بی جے پی حکومت کی جانب سے گاندھی جی کے 150 ویں یوم پیدائش کو دنیا بھر میں عظیم الشان پیمانے پر منانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

150 Years of celebrating the Mahatma
کے بینر تلے گاندھی جی کے نظریات کو فروغ دینے کے لئے دنیا بھر میں کئی پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں۔ حکومت ہند کی وزارت کلچر کی جانب سے منعقد کئے جا رہے پروگرامس کے تحت "گاندھی امن سیکل ریلی" مملکت سعودی عرب کے شہر ریاض اور جدہ میں منعقد کی گئی۔
3/جون کو عالمی یوم سائیکلنگ World Cycling Day کے موقع پر اس ریلی کا اہتمام کیا گیا۔ سفارت خانہ ہند ریاض نے "سعودی سائیکلنگ فیڈریشن" اور "ڈپلومیٹک کوارٹرز جنرل اتھارٹی" کے تعاون سے ڈپلومیٹک کوارٹرز میں اس ریلی کا اہتمام کیا۔ جمعہ کی صبح منعقدہ اس امن ریلی میں (150) ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد نے حصہ لیا، جن میں مختلف ممالک کے سفارتکار اور سعودی شہریوں کی کثیر تعداد شامل تھی۔ ریلی کو تین جتھوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے جتھے کو سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید نے جھنڈی دکھا کر روانہ کیا جبکہ نائب سفیر ڈاکٹر سہیل اعجاز خاں اور کونسلر شیل بھدرا نے على الترتیب دوسرے اور تیسرے جتھے کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا۔ اس ریلی میں حصہ لینے والوں کو سفارت خانہ ہند کی جانب سے اسنادات پیش کئے گئے جب کہ سعودی سائیکل فیڈریشن، ڈپلومیٹک کوارٹرز جنرل اتھارٹی اور ڈپلومیٹک کوارٹرس سیکیورٹی کے ذمہ داروں کو مومنٹو پیش کئے گئے۔

اس سیکل ریلی میں حصہ لینے والوں میں سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعيد، نائب سفیر ڈاکٹر سہیل اعجاز خان، بیگم سفیر ہند محترمہ فرح سعید، پرنسپل انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض شوکت پرویز، رکن منیجنگ کمیٹی انٹرنیشنل انڈین اسکول ریاض سلطان مظہر الدین، ممتاز سماجی کارکن شہاب کوتوکوڑ کے علاوہ ہندوستان اور دیگر ممالک کے سفارت کاروں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سفیر ہند ڈاکٹر اوصاف سعید نے گاندھی جی کے پیامِ امن کو دنیا بھر میں عام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس امن ریلی کو ڈپلومیٹک کوارٹرس میں منعقدہ اپنی نوعیت کا پہلا اور منفرد پروگرام قرار دیا۔ سفیر موصوف نے کہا کہ سربراہ مملکت سعودی عرب شاہ سلمان نے حال ہی میں مکہ مکرمہ میں منعقدہ کانفرنس میں اس بات کا اعادہ کیا کہ مملکت امن و سلامتی اور بھائی چارگی کو فروغ دینے کی پابند ہے۔ ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ گاندھیائی نظریاتِ امن کے تناظر میں مملکت سعودی عرب کے عزائم اور ویژن 2030 کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
گاندھی امن سیکل ریلی کے انعقاد میں تعاون کرنے والی مختلف سعودی ایجنسیوں سے اظہار تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر اوصاف سعید نے کہا کہ یہ ہند سعودی تعلقات کی چھوٹی سی شروعات ہے جسے بہت آگے تک جانا ہے۔

بات گاندھی جی کے نظریات کی ہو رہی ہو تو بھوپال کی نومنتجہ رکن پارلیمان سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا ذکر بھی ضروری ہے جنہوں نے گاندھی جی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ مختلف گوشوں سے تنقیدوں کے سبب انہوں نے اپنا بیان واپس لے لیا۔ پرگیہ ٹھاکر کے متذکرہ بالا بیان کے بعد مدھیہ پردیش بی جے پی کے ریاستی ترجمان انل سومترا نے مہاتما گاندھی کو پاکستان کے بابائے قوم قرار دے کر ایک نیا تنازعہ پیدا کر دیا تھا تاہم بی جے پی نے ان کے خلاف کاروائی کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی رکنیت سے خارج کر دیا۔
بی جے پی حکومت کی جانب سے گاندھی جی کی 150 ویں پیدائش دنیا بھر میں منائی جا رہی ہے اور ہندوستانی سفارت خانوں کی جانب سے مختلف پروگرام ترتیب دیئے جا رہے ہیں تا کہ دنیا بھر میں گاندھی جی کے نظریاتِ امن کو فروغ دیا جائے تو دوسری جانب بھگوا بریگیڈ سے تعلق رکھنے والے سیاسی اور غیر سیاسی قائدین گاندھی جی کے خلاف بیان بازی میں کوئی کسر چھوڑنا نہیں چاہتے۔

موافق و مخالف گاندھی نظریات کی اس کشمکش کے درمیان حکومت ہند کی جانب سے دنیا بھر میں گاندھی جی کے پیامِ امن کو پھیلانے کی کوششیں کامیاب ہوئی ہیں یا پھر بھگوا بریگیڈ مخالف گاندھی نظریات پھیلانے کامیاب ہوتا ہے؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔

***
بشکریہ:
روزنامہ اعتماد ، اتوار ایڈیشن، 9/جون 2019۔

Indian Embassy holds 'Gandhi Cycle Rally for Peace' in Riyadh

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں