دھرم پال گپتا وفا - نعت مرثیہ اور عرفان کا شاعر - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-09-08

دھرم پال گپتا وفا - نعت مرثیہ اور عرفان کا شاعر

naat
کہتے ہیں کہ کسی زمانے میں ایک باغبان کی ایک صرّاف سے دوستی تھی۔باغبان جب اپنے دوست سے ملتا ،اسے اپنے باغ میں آنے کی دعوت دیتا اور کہتا کہ فصلِ گُل ہے،بڑے رنگین و حسین پھول کھِلے ہیں۔آخر ایک دن صراف اپنے دوست کے باغ میں پہنچا تو وہ اپنے ساتھ اپنی کسوٹی بھی لے گیا اس نے باغ میں پہنچتے ہی ہر پھول کو اپنی کسوٹی پر کسنا شروع کیا اور ہر پھول کو مسل کر پھینکنے لگا۔صراف باغبان سے بولاکہ" تمہارے باغ کا کوئی بھی پھول ہماری کسوٹی پر پورانہیں اُتر رہا ہے،تم تو اِ ن کی بڑی تعریف کیا کرتے تھے" ۔باغبان نے مسکرا کر جواب دیا کہ" پھولوں کی کسوٹی اور ہوتی ہے اور وہ آپ کے پاس نہیں ہے ،اس لیے آپ پھولوں کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کر سکتے" ۔صراف بہت حیران ہوا اور بولا۔" کیا کوئی اور بھی کسوٹی ہوتی ہے؟ ہم تو ابھی تک اپنی کسوٹی ہی کو کسوٹی سمجھتے آئے ہیں اور ہماری کسوٹی پر آپ کے پھول نہیں اُترے،بس اتنا ہم جانتے ہیں۔"
باغبان سمجھ گیا کہ صرّاف میں اس لطیف شے کی کمی ہے جس سے پھولوں کے حسن و جمال اور رنگ و نکہت سے لطف اندوز ہوا جاتا ہے، یعنی وہ بالکل ہی ذوقِ جمال سے محروم ہے۔ ظاہر ہے کہ اسی طرح ایک ہی کسوٹی پر ہر شاعر کی شاعری کے معیار اور اس کے رنگ روپ کو بھی نہیں پرکھا جا سکتا۔ہر دَور ،حالات، تخیلات اور مشاہدات کےاظہار کے لیے شاعر اپنی جودتِ طبع کو کام میں لاتے ہوئے شعری تخلیقات کرتا ہے اور اسی کے اعتبار سے اس کی تخلیقات کے معیار ووقار کو سمجھنے اور پرکھنےکی ضرورت ہوتی ہے۔
آرٹ ایک فکریاتی حرکت (Ideological Activity) ہے جو ایک انسان کے اجتماعی جذبات اور خیالات کی نمائندگی کرتی ہے۔فن کاری حقیقت کو ایک مخصوص تخیلی پیکر دے کر اسے دوبارہ سے پیدا کرتی ہے۔فکری، تخیلی اور ذہنی تخلیق کے اسی عمل کو شعر و ادب سے تعبیر کیا سکتا ہے۔
وفاؔ صاحب کی تخلیقات میں ہم اس فکریاتی حرکت وعمل کو بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔ انہوں نے جس حد تک اپنی شعری کائنات کی تعمیر اور اس کی تزئین کاری میں تخیلات و مشاہدات اور فکری جواہر ریزوں کا استعمال کیاہے وہ یقینا" قابل ِتحسین ہیں۔یہاں پر ہم ان کے صرف انہیں کلام کو زیرِ بحث لائیں گے جن کا تعلق مرثیہ،نعت اور عرفانیات سے ہےاور انہیں کلام کی روشنی میں یہ طے کرنے کی کوشش کی جائے گی کہ وفاؔ صاحب کےکلامِ میں کس نوعیت کی تخیلاتی بلندی اور معنوی ارتقا پایا جاتاہے۔سب سے پہلے کائنات کی تخلیق اور اس کے خالق کے حوالے سے دھرم پال گپتا وفاؔ کا جو کلام ہمارے سامنے آتا ہے اس میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسرارِ ہستی کوحاصل کر نے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔
انسانوں کی بھیڑ سے اٹھتے ہوئے شور میں یوں تو بے انتہا آوازیں شامل ہوتی ہیں لیکن ایک حقیقی شاعر اور سچّےعارف کو وہی آواز اپنی طرف کھینچتی ہے جومعنوی اور روحانی اسرارسے پُر ہو۔آئیے دیکھتے ہیںوفاؔ صاحب کے اُس کمالِ عرفان کو کہ جہاں انہیں انسانوں کے اجتماع سے اٹھتی ہوئی آوازوں میں سےصرف وہی آواز سنائی دیتی ہےجس میں رازِ خداوندی پوشیدہ ہو۔دیکھیں شعر:
انسان کی خدمت میں ہے رازِ ہستی
ہر سانس کی آواز ہے سازِ ہستی

کر فرض ادا اور نتیجے کو نہ دیکھ
گیتایہی بتلاتی ہے رازِ ہستی

ہر سانس انا الحق کی صدا دیتا ہے
کیا خوب کھُلا دار پہ رازِ ہستی

وفا ؔ صاحب کے کلام کا مطالعہ کرنے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک انسان دوست،محب وطن،قومی یکجہتی کے علم بردار اور بشر نواز شاعر تھے ،وہ ہر ایک آواز میں سازِ ہستی اور ہر ایک انسان میں رازِ ہستی کویافت کر لینے کی صلاحیت رکھتےہیں۔
اگر ہم گزشتہ اور موجودہ زمانے میں لکھی جانے والی مختلف زبانوں کی ادبی تخلیقات کا جائزہ لیں تو ان میں سے بیشتر تخلیقات معاصر معنویتوں سے معمور نظر آئیں گی لیکن کیا ہم یقین کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے لکھنے والوں نے سماجی وابستگی کی شرط کے ساتھ تخلیقی قوت کا اظہار کیا ہوگا؟ شاید نہیں۔کیونکہ ایسا کرنا آرٹ اور تخلیق کے معنوی امکانات کو محدود کرنے جیسا ہوگا۔ہمارے تخلیق کاروں نے الگ الگ طرح سے اپنے تخلیقی تجربوں کے اسرار کا انکشاف کیا ہے۔یہ انکشافات ایک دوسرے سے بہت مختلف ہوتے ہیں۔شاعر ہو یا نثر نگار ،اپنی اپنی تخلیقی کاوشوں میں دونوں کو عجب طرح کی نیرنگیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔شاعروں میں اکثر ایسے ہوتے ہیں جو شعر کے موضوع کے انتخاب کے بجائے کسی مترنم لفظ یا خؤش آہنگ ترکیب کو کھپانے کی غرض سے شعر کہتے ہیںاور شعر میں ایک عمدہ مضمون پیدا ہوجاتا ہے۔ بعض صرف اپنے مشاہدے کو نقل کر دینا چاہتے ہیں اور مشاہدے کو کن لفظوں اور ترکیبوں کے ساتھ ساتھ پیش کرنا ہے اس سے انہیں غرض نہیں ہوتی جب کہ کچھ ایسے تخلیق کار ہوتے ہیں جو اپنے فن پارے کی صورت گری سے قبل مترنم الفاظ اور خوش آہنگ ترکیبوں کے ساتھ موضوع کو بھی اپنے ذہن میں رکھتے ہیں۔انہیں میں سے ایک دھرم پال گپتا وفاؔ بھی ہیںجنہوں نےمختلف شعری اصناف میں اپنی تخلیقات کے جوہر دکھائے اور ہر ایک صنف میں اس کے اصول و لوازم کی نہ صرف پابندی کی بلکہ اپنے تخیلقی تجربوں کا لوہا بھی منوایا۔

جس طرح سے ان کے کلام میں موضوعات کا تنوع،معنوی امکانات ،مترنم الفاظ اور شعری آہنگ موجود ہےوہ کم ہی شاعروں میں نظر آتا ہے۔ان کے کلام کو خواہ جس زاویے سے دیکھا جائےان میں انسان پیکر بشریت میں ہونے کے باوجود خدائی تخلیق کا ایک بے مثال اور لازوال مظہر نظرآتاہے۔اگر چہ دھرم پال گپتا وفاؔ کی آواز اردو شعرو ادب کی دنیا میںدیر سے ابھری لیکن دیر سے ابھرنے والی اس آواز کے آہنگ سے قطعی یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اردو دنیا میں ایک زمانے تک غیر معروف رہنے والی یہ آواز شعری آہنگ اور تخیّلات کی بلندیوں سے عاری تھی بلکہ سچ تو یہ ہے کہ دیر ہی سے سہی وفاؔ صاحب کی یہ آواز بہت سی معروف آوازوں پر غالب آجانے کی قدرت رکھتی ہے ۔ان کے کلام کے مطالعے سے اس بات کا بھی اندزاہ لگایاجاسکتا ہے کہ ان کی شعری کائنات کسی خاص نظریے، رجحان یا تحریک سے وابستہ نہیں ہے بلکہ پوری انسانی بستی کو اپنے اندر سمیٹےہوئے معلوم ہوتی ہے جن کابراہِ راست رشتہ خدا اور اس کےبندوں سےہے۔

ایک متحرک اور تیز رفتار پیشے یعنی صحافت سے وابستگی کے باوجود گپتا وفاؔ کی شاعرانہ طبیعت میں ایک قسم کی طمانینت نظرآتی ہے۔ انہوں نے اپنےکلام میں جہاں مختلف النوع موضوعات و مسائل کو سمیٹا ہےوہیں ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام اور بانی ِ اسلام سے ان کا جذباتی لگائو عقیدت کی حد تک ہے۔اس کے علاہ انہوں نے ہندوستان کے تقریبا" سبھی مذاہب اور ان کے پیشوائوں کا ذکر اپنے کلام میں کیا ہے اور ہر ایک کے ساتھ ایک ہی سی الفت و محبت اور جذباتی لگائو کا اظہار بھی کیا ہے، یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ کوئی بھی عارف اور انسان دوست شاعر،ادیب یا صوفی سنت محض کسی خاص دھرم،نظریے یا خیال کا پابند نہیں ہوتا بلکہ اس کی نظر میں سب سے اہم اگر کوئی مذہب ہوتاہے تو وہ ہےانسانیت ۔اپنے اسی دھرم اور انسانی جذبے کو انہوں نے ہمیشہ سارے نظریوں،تحریکوں اور رجحانوں پر فوقیت دی۔جو ان کے کلام میں جا بجا دیکھے جاسکتے ہیں۔

وفاؔ صاحب کی شاعری کا یہ بھی ایک خصوصی امتیاز ہے کہ اس میں سارے مذاہب کےگرووں،دیوتائوں،پیروں اور پیغمبروں کی تعریف ان مذہبوں کے بنیادی عقیدوں کے مطابق کی ہے۔جہاں تک اسلامی عقائد اور اصول کی تفہیم کا سوال ہے اس کے حوالے سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ، وہ حضور پاک ؑ کی تعریف میں نعتیہ کلا م ،حضرت علی ؑ کی منقبت اور امام حسین ؑ کی شہادت کے حوالے سےپیش کیے جانے والے مرثیوں میں کس حد تک اسلام کے بنیادی اصولوں کی پابندی کرتے ہیں۔ان کے کلام میں موجود معنوی امکانات سے یہ بھی انداز ہ ہوتا ہے کہ انہوں نے اسلامی اصول و عقائد کا بڑی گہرائی سے مطالعہ کیا ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام کا ایک بڑا حصہ حضور پاکؑ اور خانوادہ رسالت مآب کی تعریف و توصیف سے مزین ہے ۔
کہا جاسکتا ہے کہ جس وقت رسالت مآب اور ان کے خانوادے کے حوالے سے ان کی شعری تخلیقات وجود میں آتی ہیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ وادئ مدینہ و نجف اور کربلا کے مسافرہوں۔ اسی حوالے سے وفاؔ صاحب کی شعری کائنات کے ایک مخصوص رُخ کو سمجھنے کے لیے ان کے کچھ اشعار نقل کیے جارہے ہیں جن میں علم و عرفان کی تجلیاں دیکھی جا سکتی ہیں،ملاحظہ کریں یہ اشعار:
عرش سے جن پہ فرشتوں کے سلام آتے ہیں
مژدہ باد آج نبیوں کے امام آتے ہیں

بشر جہاں میں وہ اعلیٰ مقام ہوجائے
کہ جس کے دل میں ترا احترام ہوجائے

محبوبِ خدا ،ہادیء دیں،فخرِ دو عالم
اے شمعِ ہدیٰ ،نورِ احد،حُسنِ مجسم
درج بالامختلف اشعار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ کس حد تک انہوں نے احترام آدمیت کا خیال رکھا ہے۔ہرلحظہ اور ہر لمحہ پیغامِ انسانیت کو عام کرنے کی کی سعی جمیل کی ہے، خواہ جو بھی صورت ِحال ہو ان کے پیش نظرمعیارِ انسانیت اور وقارِ آدمیت کو باقی رکھنا ہی انسانوںکا اولین فریضہ ہے۔ جہاں پرمسجدوں میں محمد عربی ؑ کی صلائے عام کی بات کرتے ہیں اس میں نماز ،روزے،حج اور دوسرے اسلامی ارکان کی باز گزشت سنائی نہیں دیتی، بلکہ اس پیغامِ عام میں سب سے اہم اور با معنی جملہ یہی سنائی دیتا ہے کہ دوسری قوموں کے ساتھ اس طرح باہمی سلوک روا رکھا جائے کہ اپنے پرائے کا تصور ہی باقی نہ رہے اور اسی کا نام انسا ن دوستی اور مذہب شناسی ہے۔
دھرم پال گپتا وفاؔ نے اپنی شاعری میں منقبت کو بھی خصوصی طور پر جگہ دی ہے۔ انہوں نے نہ صرف حضرت علیؑ سے اپنی بے پناہ عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے بلکہ ان کے بیٹے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺکے نواسے امام حسین ؑ کی لازوال قربانی کو بھی انسانیت کے لیے احسان عظیم قراردیا ہے ۔ظاہر ہے کہ حق و باطل کی اس جنگ میں شہادتوں کے باوجود بھی حق کی لازوال فتح کا اصول نافذ رہا اور رہتی دنیا تک اسلام کے نام پر دہشت گردی پھیلانے والے یزید کی کھُلی ہوئی شکست ہو ئی اور اسلام کا پیغامِ امن و آشتی دنیا کے سامنے امام حسین ؑ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت سے ہمیشہ کے لیے محفوظ ہوگیا۔

وفاؔ صاحب نے امام حسینؑ کی شہادت اور ان کے پیغام کو اپنے مرثیوں میں اس طرح پیش کیا ہےکہ اردو شاعری میں ان کا کلام ان کے ہم عصروں میں ممتاز نظر آتا ہے۔انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے امام حسین ؑکے پیغامات کو دنیا تک بخوبی پہنچایا، جنہوںنےہر دَور کے انسانوں میں جابر حکمرانوں اور ظالم بادشاہوںکے خلاف آوازِ بغاوت بلند کرنے کی جراءت و ہمت پیدا کی ۔ امام حسین ؑ نے ظالموں اور جابروں کے چہروں پرپڑی ہوئی دھرم اور مذہب کی نقابوں کو الٹ کر جو پیغام دیا اس سےظالموں کے چہرے ہمیشہ کے لیےبے نقاب ہوگئے اور کربلا کی ا س جنگ کے بعد قیامت تک کے لیے امام حسین حق اور یزید باطل کا استعارہ بن گیا۔دھرم پال گپتا وفاؔ نے کس حد تک امام حسین کی شخصیت کا عرفان حاصل کیا اس کا اندازہ درج ذیل اشعار بخوبی لگایا جاسکتا ہے:
سلامی ابنِ حیدر ،جنگ کرنے رن میں آتے ہیں
مہ و خورشید حاضر کے لیے سر کو جھکاتے ہیں
چراغِ حق پرستی اِک نظر سے کرتے ہیں روشن
جہاں میں شمعِ باطل اپنے دامن سے بجھاتے ہیں
۔۔۔۔۔
کفن سے رہ گئیں محروم لاشیں جب شہیدوں کی
تو ذرّے خاک کے روئے لپٹ کر جسمِ اطہر سے
کہا جا سکتا ہے کہ گپتا وفاؔ ایک بڑے شاعر ہیں جن کے کلام میں سچائی اور حق پرستی کی آواز گونجتی ہے،ایسا اس لیے کہا جا رہاہے کہ جو سچا شاعر ہوتا ہےاس کے یہاں بڑی شاعری کے امکانات صاف دیکھے جاسکتے ہیں۔بڑی شاعری کے لیے صرف جذبات ہی اہم نہیں ہوتے بلکہ وہ شاعرانہ قالب بھی اہم ہوتاہے جواُن جذبوں میں شاعرانہ رفعت و بلندی پیدا کرتا ہے۔ان کی شاعری نہ تو رجحانوں کے زیرِ سایہ پروان چڑھی اور نہ ہی رجحانوں کے زیرِ اثر ان کی تفہیم کی جانی چاہیے۔رجحان آتے رہیں گے اور جاتے رہیں گے لیکن ان کی شاعری اپنے قاری سے محروم نہیں ہوگی۔کیونکہ انہوں نے جن موضوعات کو اپنی شاعری میں پیش کیا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے ہیں۔

ڈاکٹر علی عباس
اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو
پنجاب یونیورسٹی، چنڈی گڑھ
موبائل: 9988371214

Dharampal Gupta Wafa, a poet of Naat and Marsiya. Article by: Dr. Ali Abbas

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں