جنگ آزادئ ہند میں حصہ لینے والے علمائے عظام - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2018-08-03

جنگ آزادئ ہند میں حصہ لینے والے علمائے عظام

جنگ آزادی میں علماء نے تلوار کیوں اٹھائی؟ اسلام تو امن اور سلامتی کا مذہب ہے۔ اسے تلوار سے کیا واسطہ ! ایک عام مسلمان اگر تلوار اٹھالے تو کہاجاسکتا ہے کہ اسے شاید اسلام کے معنی نہیں معلوم لیکن عالم تو اسلام کے معنی جانتا ہے ۔ اس کے باوجود تلوار اٹھالیتا ہے۔ کیوں ؟ اس لئے کہ اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ غیر اللہ کی طاقت پر بھروسہ مت کرو۔ ظالم اور جابر کے سامنے جھکنے کے بجائے حق کے لئے خود کو قربان کردو۔ یہی جہاد کا فلسفہ ہے ۔ جب ظالم اور جابر کا ظلم اور نا انصافی کی حد اپنے حدود سے تجاوز کرجائے تو پھر علماء کی ذمہ داری ٹھہرتی ہے کہ وہ ظالم اور جابر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور عوام کی رہنمائی بھی کریں ۔ چناں چہ اس فلسفے نے علماء کو متحرک کیا اور تاریخ کے مطالبہ پر جن علماء نے قلم ہاتھ سے رکھ کر تلوار اٹھا لی ان کے نام ذیل میں درج کیے جاتے ہیں ۔

1۔ مولانا احمد اللہ شاہ فیض آبادی: جنگ آزادی کے صف اول کے رہنما۔ مولانا نے وسط ہند اور اودھ کی ساری جنگوں میں حصہ لیا ۔ قصبہ محمدی میں ایک آزاد حکومت قائم کی ۔ کالن کیمبل نے قصبہ محمدی پر حملہ کردیا۔ سپاہیوں اور ہتھیاروں کی کمی کے باعث مجاہدین پریشان تھے ۔ مولانا نے پوائن کے راجہ سے مدد مانگی پوائن کا راجہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا ۔ اس نے مولانا کو پوائن آنے کی دعوت دی اور مدد کا وعدہ کیا ۔ جب مولانا وہاں پہنچے تو قلعہ کے اوپر سے ان پر حملہ کیا گیا۔ مولانا پوائن کے قلعہ کے سامنے شہید ہوگئے۔
2۔ مولانا فضل حق خیر آبادی: اکثر دیسی والیاں ریاست کو بغاوت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ۔ جنرل بخت خان کی فوج کے ساتھ 1857ء میں دہلی آئے اور جہاد کا فتویٰ مرتب کرکے پیش کیا ۔ دہلی شکست کے بعد اپنے خاندان کو لے کر دہلی سے نکل گئے۔ 2 سال تک خانہ بدوش زندگی گزاری، نومبر 1858ء میں گرفتار ہوئے۔ لکھنؤ میں مولانا پر مقدمہ چلا یا گیا اور کالے پانی کی سزا دی گئی ۔ ساری عمر سزا کاٹ کر1861ء میں انتقال کیا۔
3۔ حضرت حاجی امداد اللہ: شاملی کی جنگ میں مجاہدین کی رہنمائی کی۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد آپ مکہ معظمہ چلے گئے ۔ حاجی صاحب سید احمد شہید کی تحریک سے متعلق رہے ۔ 1867ء میں وفات پائی۔
4۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی: جنگ آزادی میں اپنے پیرومرشد حضرت حاجی امداد اللہ کے ساتھ کام کیا اور شاملی کی جنگ میں شامل رہے ۔1867ء میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔
5۔ مولانا رحمت اللہ کیرانوی: شاملی کے معرکہ میں دوسرے علماء کے ساتھ آپ بھی شاممل تھے۔ اس کے علاوہ کیرانہ ضلع مظفر نگر میں انگریزی فوجوں سے مقابلہ کیا اور مجاہدین کی رہنمائی کی۔آپ کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری تھا۔ گرفتاری سے بچنے کے لئے آپ مکہ معظمہ چلے گئے۔
6۔ مولانا الحاج رشید احمد گنگوہی: حاجی امداد اللہ کے خلیفہ تھے ۔ شاملی کے جہاد میں شریک تھے۔ جنگ کی سر گرمیاں ختم ہونے کے بعد گرفتار ہوئے ۔ مظفر نگر جیل میں رکھے گئے۔
7۔ مولانا مظہر اور مولانا منیر: شاملی کی جنگ میں حاجی امداد اللہ کے ساتھ تھے۔
8۔ مولانا سید اسحاق ٹونکی: دہلی کے معرکوں میں ایک فوجی دستے کے افسر رہے۔
9۔ مولوی لیاقت علی: الہ آباد کی شکست کے بعد نانا صاحب کے ساتھ رہے ۔ سید احمد شہید کی تحریک سے متاثر تھے ۔ قصبہ محمدی میں احمد اللہ شاہ کی آزاد حکومت میں بھی شریک تھے ۔ انقلابی رہنماؤں کے ساتھ نیپال چلے گئے تھے۔ لیکن وہاں زیادہ دن نہیں ٹھہرے رہے ۔ ہندوستان واپس ہونے کے بعد بمبئی میں گرفتار ہوئے ۔ الہ آباد لاکر ان پر مقدمہ چلایا گیا اور کالے پانی کی سزا ہوئی۔ وہیں 1892ء میں انتقال کیا۔
10۔ مولوی وہاج الدین عرف منو: مرادآباد میں انقلابیوں کی رہنمائی کی ۔ جب نواب رام کی فوج مجاہدین کی سرکوبی کے لئے مرادآباد پہنچی تو آپ نے نواب رام پورکی فوج سے مقابلہ کیا ۔
11۔ مفتی عنایت احمد کاکوروی: بریلی اور رام پور میں آپ کی سر گرمیاں رہیں۔ آپ خان بہادر، ان کے ساتھ تمام معرکوں میں حصہ لیا۔
12۔ مولوی رضی اللہ بدایونی: بدایوں کے صدیقی شیخ تھے ۔ جنگ میں عملی طور پر سر گرم حصہ لیا۔ جنگ کے بعد گرفتار ہوئے اور موت کی سزا دی گئی۔
13۔ شاہ غلام بولن سیوہاروی:مرادآباد کی انقلابی فوج میں شامل تھے ۔ جنگ کے بعد گرفتار ہوئے ، اور انڈومان بھیج دئیے گئے۔
14۔ مولوی کفایت علی کافی: نواب مجو خان کی آزاد حکومت میں صدر شریعت کے عہدے پر فائز رہے ۔ مرادآباد میں انقلابیوں کی ناکامی کے بعد گرفتارہوئے اور مرادآباد جیل کے سامنے پھانسی دی گئی۔
15۔ مولانا یحییٰ علی: تحریک مجاہدین کے بے مثل کارکن انبالے کے مقدمے میں پھانسی کی سزا ہوئی۔ اس سزا پر بے انتہا خوشی کا مظاہرہ کیا کہ شہادت کا درجہ ملے گا۔ یہ دیکھ کر جج نے سزا بدل دی اور جلا وطن کرکے انڈمان بھیج دئیے گ ئے۔
16۔ مولانا فیض احمد بدایونی: آگرے میں انقلابی عوام اور فوج کی کمان سنبھالی۔ بیگم حضرت محل اور مولانا احمد اللہ شاہ کے ساتھ تمام معرکوں میں شامل رہے ۔ بیگم حضرت محل کی فوج کے ساتھ نیپال چلے گئے۔
17۔ مولانا سید عالم علی: مرادآباد کے امام شہر تھے۔ تحریک میں سر گرم حصہ لیا۔ انگریزوں نے مجرموں کی جو فہرست تیار کی تھی اس میں آپ کا نام تھا۔ لیکن سر سید احمد خان کی کوششوں سے چھوٹ گئے۔
18۔ مولوی علاء الدین: دکن کے مشہور علماء میں سے تھے۔ حیدرآباد دکن کے انقلابی عوام نے انہیں کی قیادت میں انگریزورزیڈنسی پر حملہ کیا تھا۔
19۔ مولانا جلیل:علی گڑھ کے امام شہر اور خطیب۔ جنگ کا بگل بجتے ہی پانچ ہزار مجاہدین کے ساتھ میدان میں آئے ۔ اور انگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے ۔
20۔ مولوی واعظ الحق: پٹنہ کے مشہور عالم اور تحریک ولی اللہی کے خاص رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔ بہار کی تمام خفیہ مجالس میں شریک رہے ۔ تحریک کی ناکامی کے بعد وہ مکہ معظمہ چلے گئے۔
21۔ مولوی عبدالقادر لدھیانوی: پنجاب میں آزادی کی تحریک کو پروان چڑھایا۔ 1857ء کی جنگ میں اپنے بیٹوں کے ساتھ حصہ لیا۔ تحریک کی ناکامی کے بعد دہلی آگئے اور روپوش ہوگئے۔
22۔ سید محمد امین غازی: امروہہ کے سادات خانوادے کے فرد۔ سید احمد شہید کے ساتھی 1857ء کی جنگ آزادی میں عملی حصہ لیا۔

ماخوذ از کتاب : ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کا حصہ
تالیف : ڈاکٹر محمد مظفر الدین فاروقی

Muslim Ulema and India's freedom struggle.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں