اے پی
ستمبر میں سعودی عرب میں حج کے دوران بھگدڑ میں کم از کم2ہزار 4سو11حجاج جاں بحق ہوئے۔ یہ تعداد تین ماہ بعد مملکت کی تسلیم کردہ تعداد کی تی گنا ہے ۔ امریکی نیوز ایجنسی اے پی کے تازہ اعداد و شمار سے ثابت ہوتا ہے کہ 24ستمبر کو منیٰ میں بھگدڑ ، حج کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہلاکت خیز تھی ۔ سعودی عرب اپنے علاقائی شیعہ حریف ایران کی تنقید مسترد کرچکا ہے ۔ اس نے اموات کی تحقیقات میں ہاتھ بٹانے کی دیگر ممالک کی پیشکش کو بھی قبول نہیں کیا۔ شاہ سلمان نے المیہ کی تحقیقات کا فوری حکم دے دیا تھا لیکن بہت کم تفصیلات منظر عام پر لائی گئیں۔ نئی تعداد سرکاری میڈیا رپورٹ اور حج کے لئے اپنے شہریوں کو بھیجنے والے 180ممالک میں36ممالک کے عہدیداروں کے تبصروں پر مبنی ہے۔ سینکڑوں ہنوز لاپتہ ہیں۔ سعودی عرب نے سرکاری طور پر769اموات کی جو اطلاع دی تھی وہ26ستمبر سے تبدیل نہیں ہوئی ہے ۔ اے پی کی گنتی کے بموجب ایران سب سے زیادہ متاثر ہوا ۔ اس کے464حجاج جاں بحق ہوئے ۔ مالی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے305شہری گنوائے ۔ نائیجیریا کے274، مصر کے190بنگلہ دیش کے137، انڈونیشیا کے129ہندوستان کے120، کیمرون کے103اور پاکستان کے102حجاج جاں بحق ہوئے۔
2400 pilgrims died in Mecca's Hajj stampede, three times Saudi official toll
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں