مودی اور امیت شاہ کا مستعفیٰ ہونا خارج از امکان - مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-11-11

مودی اور امیت شاہ کا مستعفیٰ ہونا خارج از امکان - مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ

نئی دہلی
پی ٹی آئی
مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج اس خیال کو مسترد کردیا کہ تحفظات پر نظر ثانی کے آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے ریمارکس کا بہار اسمبلی انتخابات کے دوران این ڈی اے کی امید وں پر منفی اثر پڑا ہے ۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ بہار اسمبلی انتخابات میں کچھ سماجی صورت حال کی وجہ سے عظیم اتحاد کا پلڑا بھاری رہا اور آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت یا پارٹی کے رہنماؤں کی بیان بازی کا نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ مہا گٹھ بندھن کا سماجی مساوات ہمارے اوپر بھاری پڑا۔ دیوالی ملن کے موقع پر یہاں نامہ نگاروں کے سوالات کے جواب میں راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پارٹی کے پارلیمانی بورڈ کے اجلاس میں بھاگوت کے بیان کے تناظر میں بحث نہیں ہوئی کیونکہ انہوں نے ایسا کچھ نہیں کہا تھا جس کا انتخابات پر اثر پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ بھاگوت کا بیان نقصان پہنچانے والا نہیں تھا ۔ انہوں نے تو یہی کہا تھا کہ لوگوں کو تحفظات کا فائدہ ملتے رہنا چاہئے۔ بہار کے نتائج کے تناظر میں آنے والے انتخابات میں تیسرے محاذ کے مضبوط ہونے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک انتخاب سے مستقبل کا اندازہ نہیں کیا جانا چاہئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں بھی یہی کہاجارہا تھا کہ بی جے پی کو واضح اکثریت نہیں ملے گی۔ ملک میں مبینہ طور پر بڑھ رہی عدم رواداری سے منسلک اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں سماجی اور فرقہ وارانہ خیر سگالی بنائے رکھنے کے لئے پابند ہے اور اسی سمت میں کام کررہی ہے ۔ اس سوال پر کہ اگر نتیش کمار کی زیر قیات مہا گٹھ بندھن سے لالو پرساد یادو کی آر جے ڈی علیحدہ ہوجائے تو آیا بی جے پی نتیش کمار کی مدد کرے گی۔ اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میں اس پر بات کرنا نہیں چاہتا، یہ صحیح نہیں ہوگا ، ہم بہار میں ایک مستحکم حکومت چاہتے ہیں ، ان کے حق میں عوامی فیصلہ آیا ہے ، انہیں حکومت چلانے دینا چاہئے ۔ اس سوال پر کہ آیا آر جے ڈی کے اقتدار میں واپسی سے بہار میں جنگل راج واپس آگیا ہے، راجناتھ سنگھ نے کہا کہ پہلے انہیں حکومت تشکیل دینے دیجئے، بعد میں ہم فیصلہ کریں گے کہ بہار میں کس طرح کی حکومت چل رہی ہے ۔ راجناتھ سنگھ سے جب یہ پوچھا گیا کہ بہار میں وزیر اعظم کی جانب سے کی کئی ریالیوں سے خطاب کرنے کے بعد بھی بی جے پی کو شکست ہوئی ہے اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر وزیر اعظم عوام سے اور انتخابی ریالیوں سے خطاب کرتا ہے ۔ اس سوال پر کہ بی جے پی کی شکست کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مودی عہدہ سے مستعفی ہوجائیں گے راجناتھ سنگھ نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ کس قسم کا یہ سوال ہے، انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کی شکست ہے، وزیر اعظم کی نہیں ۔ راجناتھ سنگھ جو بی جے پی کے سابق سربراہ رہ چکے ہیں ، اس بات کو بھی مسترد کردیا کہ پارٹی سربراہ امیت شاہ کو بہار شکست کے باعث ہٹا دیاجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ مزید6برسوں کے لئے پارٹی صدر برقرار ہیں گے۔ یہاں ان کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ در حقیقت پارٹی صدر کی حیثیت سے انہوں نے صرف دیڑھ سال کی تکمیل کی ہے ۔ وہ تین سالہ دور کے دو میعادیں مکمل کرسکتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے اس سوال پر کہ آیا آئندہ سال کے اوائل میں مغربی بنگال اور آسام کے انتخابات کے دوران بی جے پی کی جانب سے چیف منسٹر کے امید وار کو آگے بڑھایاجائے گا، اس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ ابھی اس مسئلہ پر کوئی غور نہیں کیا گیا۔ جب انتخابات آئیں گے اس وقت ہم اس پر فیصلہ کریں گے ۔ بی جے پی کی پارلیمنٹری بورڈ اس سلسلہ میں فیصلہ کرے گا ۔ اس معاملے پر ادیبوں کی طرف سے انعام اور اعزاز لوٹا دئیے جانے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ادیبوں کی تجاویز قابل قدر ہیں، انہیں مشورہ دینے چاہئے اور وہ ادیبوں سے بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ پارلیمنٹ کے سرمایہ اجلاس میں اپوزیشن کے تیکھے تیور پر مبنی رپورٹوں سے متعلقہ سوال پر انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ تمام ٹیم اپنا تعاون دے گی اور حکومت ان ملک کے مفاد میں تعاون طلب کرے گی۔

نئی دہلی سے پی ٹی آئی کی ایک علیحدہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم کی قیادت کو مضبوظ ، فیصلہ کن اور مقبول قرار دیتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ بہار کے انتخابی نتائج سے برانڈ مودی پر کوئی اثر پڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ بہار اسمبلی انتخابات میں نتیش کمار زیر قیادت عظیم اتحاد کی بے مثال کامیابی پر تبصرہ کی خواہش پر جیٹلی نے یہ بات کہی۔ نو تشکیل شدہ عظیم اتحاد جو جنتادل، آر جے ڈی ، کانگریس اتحاد پر مشتمل ہے243رکنی اسمبلی میں178 نشستوں پر قبضہ جمایا جبکہ این ڈی اے کو صرف58حلقوں پر کامیابی نصیب ہوئی یہ پوچھنے پر کہ آیا اس شرمناک شکست کا برانڈ مودی پر کوئی اثر پڑے گا ۔ جیٹلی نے کہا کہ ہرگز نہیں ۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ برانڈ کا لفظ میڈیا نے تراشہ ہے، قیادت مضبوط ، فیصلہ کن اور مقبول ہے ۔ وزیر فینانس نے بہار انتخابی نتائج کا سرمایہ کاری کے رجحان پر اثر پڑنے کا بھی امکان مسترد کردیا اور کہا کہ معاشی اصلاحات جاری رہین گے۔ سینئر بی جے پی لیڈر نے کہا کہ انتخابی نتائج سرمایہ کاروں کے اعتماد و رجحان میں رکاوٹ نہیں بنیں گے ، میں سمجھتا ہو کہ سرمایہ کار بیحد عقلمند ہوتے ہیں ۔ وہ حکومت کی کارکردگی دیکھیں گے ۔ وہ ہمارے انداز کارکردگی سے ہمارے بارے میں اندازہ قائم کریں گے اور ہم بہتر حکمرانی فراہم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بیشتر اصلاحات عاملہ فیصلوں سے ہوتے ہیں وہ جاری رہین گے۔ کئی مقننہ مسائل ہوتے ہیں جنہیں پارلیمنٹ میں منظوری ملے گی ، ان میں سے بعض میں تاخیر ہورہی ہے تاہم ا سکے اسباب دور کئے جائیں گے ۔ ملتویہ جی ایس ٹی بل سے متعلق سوال پر جیٹلی نے کہا کہ یہ حکومت کی ترجیح ہے اور وہ اسے منظور کروانے کی کوشش کرے گی۔

No harm done by Bhagwat remarks, says Rajnath, won't blame Modi either

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں