تنظیم اسلامی تعاون کو غیر رکن ممالک کے تنازعات کی یکسوئی کا کوئی حق نہیں - ہندوستان - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-09-12

تنظیم اسلامی تعاون کو غیر رکن ممالک کے تنازعات کی یکسوئی کا کوئی حق نہیں - ہندوستان

اقوام متحدہ
پی ٹی آئی
ہندوستان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی مسودہ قرار داد پر اعتراض کیا ہے کہ تنظیم اسلامی تعاون(او آئی سی) دیگر تنازعات کا حل پیش کرسکتی ہے۔ ہندوستان نے سختی سے کہا ہے کہ اس گروپ کو” غیر رکن مملکتوں” سے متعلق تنازعات کی یکسوئی کا کوئی حق نہیں ہے ۔ اقوام متحدہ اور تنظیم اسلامی تعاون کے درمیان تعاون کی مسودہ قرار داد کل جنرل اسمبلی میں پیش ہوئی اور ووٹنگ کے بغیر قبول کرلی گئی ۔ ہندوستان کے نائب مستقل نمائندہ بھگونت بشنوئی نے قرار داد کو موضوع پر پچھلی قرار دادوں سے اہم انحراف قرار دیا ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پچھلی قرار دادوں میں کہا گیا کہ او آئی سی ، مشرق وسطیٰ امن مساعی میں موزوں اور جامع امن کے قیام کے مقصد کے حصول کے لئے تعاون کرے گی تاہم موجودہ قرار داد کے اصل پیراگراف میں او آئی سی کے اس رول سے آگے جانے کی بات کہی گئی ہے ۔ آج پیش مسودہ قرار داد کے بموجب او آئی سی ، دیگر تنازعات کا حل پیش کرسکتی ہے ۔ او آئی سی کا رول اس طرح بڑھانے میں کیا معقولیت ہے، یہ واضح نہیں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی ، علاقائی تنظیم بھی نہیں ہے جیسا کہ اقوام متحدہ چارٹر کے تناظر میں سمجھا گیا ہے ۔ بشنوئی نے کہا کہ ہم ووٹ کا مطالبہ نہیں کرتے ۔ ہم اپنے موقف کا اعادہ کریں گے ۔ او آئی سی کو مشرق وسطیٰ امن مساعی سے آگے کسی تنازعہ یا غیر او آئی سی رکن ممالک سے متعلق تنازعات کی یکسوئی میں مدد کا کوئی حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے متن پر مباحث میں تعمیری انداز میں حصہ لیا اور واضح الفاظ میں اپنی رائے رکھی ۔ انہوں نے کہا کہ تبادلہ خیال اس مسئلہ کی یکسوئی کے بغیر اچانک ختم کردیا گیا۔ کوئی باہمی قابل قبول مفاہمت نہیں ہوسکی۔ او آئی سی کی جانب سے کوویت کے نمائندہ نے مسودہ، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں پیش کیا۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ چارٹر کی رو سے زبان ، مذہب یا تاریخی اتفاق کی بنیاد پر تنظیموں کا کوئی رول نہیں ہوتا ۔
نیویارک
پی ٹی آئی
اقوام متحدہ قیام امن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے اقوام متحدہ قیام امن مشن میں سب سے زیادہ حصہ ادا کرنے والے ملک ہندوستان سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی خدمات میں مزید اضافہ کرے ۔ بطور خاص قیام امن کو برقرار رکھنے مدد دینے والوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے ۔ انڈر سکریٹری جنرل برائے فارفیلڈ سپورٹ اتل کھرے جو فی الحال ہندوستان میں ہیں وہاں سینئر عہدیداروںسے ملاقات کررہے ہیں جن میں وزیر خارجہ اور فوج کے سربراہ شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان اسٹیفا نے دوجارک نے یہ بات کل یہاں نامہ نگاروں سے کہی۔ کھرے نے ہندوستان کی جانب سے اقوام متحدہ میں نمایاں خدمات کی ستائش کی اور ہندوستانی حکومت پر زور دیا کہ وہ قیام امن کو برقرار رکھنے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ کرے جس کی شدید ضرورت ہے ۔ کھرے13تا15ستمبر ڈھاکہ جائیں گے ۔ جہاں توقع ہے کہ وہ سینئر سرکاری عہدیداروں سے مباحث کریں گے جس کے دوران اقوام متحدہ کی کارروائیوں سے متعلق چیلنجوں اور مواقع کے بارے میں غور کیاجائے گا۔

OIC has no locus standi to resolve disputes of non-members

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں