دہلی میں عظیم الشان جشن بہار 2015 مشاعرہ - ہزاروں محبان اردو کا اجتماع - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-04-06

دہلی میں عظیم الشان جشن بہار 2015 مشاعرہ - ہزاروں محبان اردو کا اجتماع

Mushaira-Jashn-e-Bahar-2015-Delhi
مشترکہ تہذیب کی علامت اور زبان ربط اردو، ہندوستان اور پاکستان کو قری لانے میں اور کشیدگی کو کم کرنے میں بہت اہم رول ادا کرسکتی ہے ۔اس خیال کا اظہار ملک کے سینئر صحافی کلدیپ نیر نے کل رات یہاں17ویں عطیم الشان مشاعرہ،'جشن بہار" کی صدارت کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوستی کی اہمیت ہے۔ گزشتہ26برس سے ہم14اور15اگست کی درمیانی رات کو سرحد پر شمعیں روشن کرتے رہے ہیں ۔ جب ہم نے اس کی شروعات کی تھی تو10-15لوگ شریک ہوئے تھے جب کہ سال گزشتہ یہ تعداد دیڑھ لاکھ تھی اور تمام لوگ، ہندوستان۔ پاکستان زندہ باد ، اور اردو زندہ باد جیسے نعرے لگارہے تھے ۔ نیر نے کہا کہ مذہب کے خطوط پر تقسیم غلط تھی لیکن جو ہوچکا وہ ہوچکا ۔ عوام ایک وسرے سے ملاقات کے خواہاں ہیں ان کی زبان اور تہذیب مشترک ہے ۔ گنگاجمنی تہذیب کی حفاظت کرنی ہوگی ۔ کل رات منعقدہ شاندار مشاعرے میں ہزاروں محبان اردو نے شرکت کی۔ شعرا ئے کرام سیاسی موضوعات سے اور ہمارے اپنے عہد کے سلگتے ہوئے مسائل سے لے کر فلسفہ حیات اور دیگر مسائل پر روشنی ڈالی جس سے زبا ن اردو وسعت پذیری اور چاشنی کا اظہار ہوتا ہے ۔ پاکستانی شعرائ کشور ناہید، امجداسلام امجد ، امریکہسے آئے ہوئے شاعر ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ، کنیڈا سے اشفاق حسین زیدی، سعودی عرب کے عمر سلیم العید روس اور چین کے ژانگ شیزوان نے اپنے اردو کلام سے سامعین کو مسحور کردیا ۔ اس مشاعرہ میں ہندوستان کی نمائندگی ممتاز شعرائ جیسے وسیم بریلوی، خوشبیر سنگھ شاد، پاپولر میرٹھی اور دیگر معروف شعرا نے کی۔ منصور عثمانی نے نہایت خوش اسلوبی سے مشاعرہ کی کارروائی چلائی۔ وائس چانسلر علی گڑ ھ مسلم یونیورسٹی لفٹننٹ جنرل ضمیر الدین نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی ۔ ملک کے اس سب سے غیر غیر سیاسی اجتماع میں ہندوستان اور پاکستان و نیز دیگر ممالک کے شعرائ نے سامعین کو اپنے کلام سے محظوظ کیا اور اس بات سے اتفاق کیا کہ اردو ، دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کو اور دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے میں اہم رول ادا کرسکتی ہے۔ وسیم بریلوی نے مشاعرہ سے قبل اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اردو ہر ایک کی زبان ہے۔ یہ کسی مذہب یا گروپ کی نہیں بلکہ ہر ایک کی ہے۔ اردو، ہندوستان کی مشترکہ تہذیب کی علمبردار ہے ۔ اردو، ہندوستان اور پاکستان کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں وسیلہ بن سکتی ہے۔ اس مقصد کے لئے اردو شعرائ کا باہمی تبادلہ ہی کافی نہیں بلکہ ہندی شعرائ کو بھی وہاں جانے کی ضرورت ہے ۔ آپ کو ہندی معاشرہ کے قلب تک پہنچنا ہے۔ یہ دونوں زبانیں ہمیں قریب لائیں گی ۔ لاہور سے ممتاز شاعر امجد الاسلام امجد نے کہا کہ اردو ہمیں باہم قریب لانے میں رول ادا کررہی ہے ۔ اس لئے کہ اگر کوئی ہمارے درمیان مشترک رہ گئی ہے توہ وہ زبان اردو ہے ۔ میڈیا اور سیاستدانوں نے ہمارے مابین اختلافات کو بڑھا وادیا لیکن اب زبان اردو میں وہ واحد مشترکہ قدر ہے جو ہمیں قریب لا سکتی ہے اور اس زبان کو استعمال کرتے ہوئے ہم محبت و خلوص کے ساتھ رہ سکتے ہیں ۔ غیر نفع بخش ادارہ جشن اور پاکستان کو قریب لانے اردو اہم رول ادا کررہی ہے ۔ جب تقسیم ہوئی تھی تو زمین دریا ، پہاڑ تقسیم ہوگئے لیکن چاند ستاروں اور اردو کی روشنی تقسیم نہیں ہوئی۔ مہمان خصوصی ضمیر الدین شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اردو کو مذہب سے نہیں بلکہ ملک و قوم سے جوڑیں ۔ اردو ہندوستان میں پیدا ہوئی اورہندوستان کی زبان ہے ۔ اردو ، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی(اے ایم یو) کے ہم معنی ہیں۔

Jashn-e-Bahar Trust presents Mushaira Jashn-e-Bahar 2015 at Delhi Public School (DPS), Mathura Road

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں