اجتماعی عصمت ریزی کیس - متنازعہ انٹرویو کا ٹیلی کاسٹ روکنے کا عزم - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2015-03-05

اجتماعی عصمت ریزی کیس - متنازعہ انٹرویو کا ٹیلی کاسٹ روکنے کا عزم

نئی دہلی
پی ٹی آئی
اجتماعی عصمت ریزی کیس( 16دسمبر 2012) کے مجرم سے انٹر ویو پر ہنگامہ کے دوران وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج تہاڑ جیل کے ڈائرکٹر جنرل کو طلب کرلیا جہاں یہ ڈاکو منٹری فلم بنائی گئی تھی ۔باور کیاجاتا ہے کہ ڈائرکٹر جنرل آلوک کمار نے وزیر داخلہ کو ان تفصیلات سے واقف کرایا ہے کہ مجرم مکیش سنگھ کے انٹر ویو کی اجازت کس طرح دی گئی تھی اوریہ کس طرح لیا گیا ۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ10منٹ کی ملاقات کے دوران ورما نے وزیر داخلہ کوجیل مینول اور بیرونی افراد سے قیدیوں کی ملاقات کے طریقہ کا ر کے مختلف پہلوؤں سے بھی واقف کرایا ۔ قبل ازیں وزیر داخلہ نے ان حالات کے بارے میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مماثل بیان دیا جن کے تحت برطانوی فلمساز کو انٹر ویو کی اجازت دی گئی تھی۔انہوں نے اس انٹرویو کی ٹیلی کاسٹ کو روکنے حکومت کے اقدامات سے بھی واقف کرایا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ اس بات کی تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے کہ جولائی2013میں مجرم کے انٹر ویو کی اجازت کس طرح دی گئی اور اسکا ذمہ دار کون ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزیر داخلہ نے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ ڈاکو منٹری8مارچ کو بی بی سی کے چینل4پر ٹیلی کاسٹ کی جائے گی۔ حکومت نے ضروری قانونی کارروائی کی ہے اور اس فلم کی نمائش پر پابندی کے احکام عدالت سے حاسل کرلئے ہیں ۔ ہماری حکومت16دسمبر2012کے واقعات کی ممکنہ سخت ترین اصطلاحات میں مذمت کرتی ہے اور کسی گروپ یا ادارہ کو تجارتی فائدہ کے لئے بدبختانہ واقعات سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گی ۔ خواتین کا احٹرام اور وقار ہماری تہذیب و روایات کے بنیادی اقدار ہین ۔ ہماری حکومت خواتین کی سلامتی اور وقار کو یقینی بنانے کی پوری طرح پابند ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے یہ بھی کہا کہ جب اس ڈاکو منٹری کے بارے میں پتہ چلا تو انہیں شخصی طور پر ٹھیس پہنچی ۔ انہوں نے کہا میں نے فوراً متعلقہ حکام سے بات چیت کی اور انہیں ہدایت دی کہ اسے کسی بھی حالت میں ٹیلی کاسٹ نہیں کیاجانا چاہئے۔ کل رات عدالت سے امتناعی احکام حاصل کرلئے گئے ۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ انہوں نے ان حالات کے بارے میں معلومات طلب کی ہیں جن کے تحت انٹر ویو کی اجازت دی گئی تھی ۔ انہوں نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ مستقبل میں کسی کو بھی عصمت ریزی کے مجرموں سے انٹر ویو کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے بھی کہا کہ حکومت بین الاقوامی سطح پر بھی ڈاکو منٹری کی ٹیلی کاسٹ کو رکوانے کی کوشش کرے گی ۔
قبل ازیں موصولہ اطلاع کے مطابق16دسمبر اجتماعی عصمت ریزی واقعہ کے مجرم سے انٹر ویو کے تنازعہ اور اس معاملہ میں حکومت کے سخت موقف کے پیش نظر وزارت اطلاعات و نشریات نے آج کہا کہ یہ انٹر ویو پروگرامنگ کوڈ کے مغائر تھا اور ٹی وی چینلوں کو مشورہ دیا کہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہو۔ مرکزی مملکتی وزیر اطلاعات و نشریات راجیہ وردھن راٹھور نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سابق یوپی اے حکومت نے2013میں بی بی سی کے ایک فلمساز کو16دسمبر اجتماعی عصمت ریزی کیس واقعہ کے مجرم مکیش سے انٹرویو کرنے کی اجازت دی تھی ، انہوں نے کہا کہ وزارت داخلہ نے مختلف وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اس پر اعتراض کیا ہے جب کہ وزارت اطلاعات و نشریات نے بھی اڈوائزری جاری کی ہے اس انٹر ویو پر جس میں مجرم نے کسی تاسف کا اظہار نہیں کیا ہے، ایک ہنگامہ برپا ہوگیا ہے۔ دہلی پولیس نے ایک ایف آئی آر درج کرلی ہے اور اس انٹریو کو نشر کرنے پر پابندی کے احکام عدالت سے حاصل کرلئے ہیں۔ راٹھور نے کہا نشریات کے مواد سے وزارت اطلاعات و نشریات کے پروگرامنگ کوڈ کی خلاف ورزی ہوتی ہے کیوں کہ اس میں خواتین کے خلاف توہین آمیز زبان اسعمال کی گئی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے خواتین کے خلاف تشدد بھڑک اٹھے گا ۔ علاوہ ازیں یہ معاملہ عدالت میں زیر دوراں ہے اور انٹر ویو کی وجہ سے عدالت کی تحقیر بھی ہوئی ہے اس کی وجہ سے نظم و ضبط کا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ یہ انٹر ویو ہمارے سماج میں خواتین کے ذۃنوں میں خوف کا احساس بھی پیدا کرتا ہے ۔ اس استفسار پر کہ اگر کوئی چینل انٹر ویو نشر کرے توکیا وزارت اس کے خلاف کارروائی کرے گی ، انہوں نے کہا کہ انٹر ویو کا مواد پروگرامنگ کوڈ کے مغائر ہے ۔ انہوں نے چینلوں کو مشورہ دیا کہ اس بات کو مد نظر رکھیں کہ ضابطہ کی خلاف ورزی نہ ہو۔ انہوں نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ وزارت ان حالات کے بارے میں تحقیقات کررہی ہے جن کے تحت تہاڑ جیل میں مجرم سے انٹر ویو لینے کی اجازت دی گئی ۔ ایک نامہ نگار کے اس استفسار پر کہ آیا حکومت اس بات سے واقف ہے کہ یہ انٹر ویو آن لائن دستیاب ہے، راٹھور نے کہا کہ آن لائن مواد اس شخص کے لیے دستیابرہتا ہے جو آن لائن ہوتا ہے ۔ یہ انفرادی معاملہ ہے ۔ اس کے برعکس پروگرامنگ چینلوں پر دستیاب مواد ہر ایک کی رسائی میں ہوتا ہے ۔ اسی لئے اس پر پروگرامنگ کوڈ کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حکومت، آن لائن مواد پر کوئی پابندی عائد کرنا نہیں چاہتی۔
امتناعی احکام تا حکم ثانی برقرار ہیں گے : عدالت

نئی دہلی سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب دہلی کی ایک عدالت نے آج کہا کہ16دسمبر اجتماعی عصمت ریزی کیس کے مجرم کے انٹر ویو کی ٹیلی کاسٹ یا براڈ کاسٹ پر پابندی سے متعلق احکام ، تا حکم ثانی برقرار رہیں گے ۔ دہلی پولیس نے کل مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کئے گئے امتناعی احکام کو ریکارڈ پر پیش کیا تو چیف میٹرو پولیٹین مجسٹریٹ سنجے کھنگوال کی عدالت نے احکام کا جائزہ لیا اور کہا کہ انٹر ویو کی نشریات پر امتناعی احکام برقرار رہیں گے ۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ انٹر ویو نشر کتا ہے تو پولیس اس کے خلاف کارروائی کرسکتی ہے ۔

حیدرآباد سے پی ٹی آئی کی علیحدہ اطلاع کے بموجب سابق مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے16دسمبر کے دہلی اجتماعی عصمت ریزی واقعہ کے ایک مجرم سے اندورن تہاڑ جیل انٹر ویو اور متنازعہ ڈاکو منٹری کی شوٹنگ کی اجازت دینے، وزارت داخلہ کے فیصلہ سے دوری اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ایسی کوئی اجازت جاری نہیں کی تھی ۔ میرے پاس ایسے کوئی کاغذات نہیں لائے گئے تھے۔ مجھے اس بارے میں کسی بھی بات کا علم نہیں ہے۔ وہ ، یہاں وزارت داخلہ کی جانب سے شوٹنگ کی اجازت دیے جانے سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب دے رہے تھے جبکہ وہ مرکز میں وزیر داخلہ تھے ۔انہوں نے اس وال پر اپنے تیز رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ(راجناتھ سنگھ) کو ذمہ دار مٹ ٹھہرائیے۔ انہوں نے میرا نام نہیں لیا ہے بلکہ آپ(صحافی) میر انام لے رہے ہیں۔ یہ بالکیہ غلط بات ہے ۔ شنڈے نے مزید کہا کہ انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی کا مشاہدہ کیا ہے جب کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے میرا کوئی حوالہ نہیں دیا ۔ میں نے راجیہ سبھا کی کارروائی کا مشاہدہ کیا ہے۔ راج ناتھ سنگھ نے میرے نام کا ہرگز تذکرہ نہیں کیا ۔ ہوسکتا ہے اجازت کسی دوسرے نے دی ہو ۔ میں اس بارے میں نہیں جانتا۔ واضح ہو کہ مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے آج پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی وزارت نے جولائی2013کو ڈاکیو منٹری کی شوٹنگ کے لئے کوئی اعتراض نہیں کیا اور سرٹیفکیٹ جاری کردیا تھا۔ راج ناتھ سنگھ نے اگرچہ شنڈے کا نام نہیں لیا ہے تاہم یہ بات یقینی ہے کہ سینئر کانگریس قائد ہی اس وقت وزیر داخلہ کے عہدہ پر فائز تھے ۔ ایک عہدیدار کے بموجب وزارت داخلہ کے جوائنٹ سکریٹری سریش کمار نے ڈاکیو منٹری بنانے والوں کو ایک مکتوب حوالہ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ حکومت کو ہائی سیکوریٹی جیل میں شوٹنگ پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے تاہم یہ بھی بتایا کہ اجازت کے لئے کئی شرائط عائد کی گئی تھیں اور شوٹنگ کے لئے ان کی خلاف ورزی کی گئی ۔ انہوں نے تیقن دیا کہ حکومت اس کی تحقیقات کا حکم جاری کرے گی اور مجرم مکیش سنگھ کو متنازعہ ڈاکیو منٹری میں دکھانے کی اجازت دینے پر ذمہ داروں کو قانون کے دائرہ میں لائے گی۔ سشیل کمار شنڈے ، تلگو اداکار منچو منوج کی منگنی کی تقریب میں شرکت کے لئے حیدرآبا دپہنچے تھے ۔

After blanket ban in India, BBC airs Dec 16 gangrape documentary in UK

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں