نقاب - سعودی خوتین کی جلد کی خوبصورتی کا راز
ایک ماہر امراض جلد نے سعودی عرب میں خواتین کی جلد کی خوبصورتی کا راز پالیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے چہرے کی جلد نقاب کی بدولت سورج کی شعاعوں اور گرم موسمی حالات کے مضر اثرات سے محفوظ رہتی ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ خوبصورت جلد کی حامل ہوتی ہیں ۔سعودی عرب کے ایک مقامی اخبار الشرق نے قتید کے مرکزی اسپتال کے ماہر امراض جلد (ڈرماٹالوجسٹ) نجات ال نذر کے حوالے سے لکھا ہے کہ سعودی خواتین دنیا میں سب سے زیادہ صحت مند اور خوبصورت جلد کی مالک ہیں کیونکہ انہیں چہرے کا نقاب سورج کی شعاعوں کے ضرررساں تابکاری اثرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ڈاکٹر نجات ال نذر کا کہنا ہے کہ چہرے کا نقاب خواتین کو سورج کی روشنی کے بہت سے مضر اثرات سے بچاتا ہے ۔ اس کی وجہ سے ان کے چہرے پر قبل از وقت جھریاں نہیں پڑتی ہیں، جلد خشک اور سخت نہیں ہوتی اور وہ جلدی سرطان کی مختلف اقسام سے بھی محفوظ رہتی ہیں ۔ سورج کی حدت سے بچنے کی وجہ سے سعودی خواتین کی جلد بہت زیادہ نرم ، ملائم، خالص اور خوبصورت ہوتی ہے۔
اس ماہر نے بتایا ہے کہ جلد کے سب سے نقصان دہ امراض سرطان( جلدی کینسر) سے متعلق ہیں اور متعدی بیماریاں ہیں۔ خواہ وہ بیکٹریل ہوں، وائرل یا فنگل ہوں ۔ اس کے علاوہ سخت قسم الرجی کی وجہ سے جلد متاثر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے خواتین کو تجویز کیا ہے کہ وہ اپنی جلد کی حفاظت کریں اور صبح10بجے سے سہ پہر4بجے تک سورج کی براہ راست تمازت سے بچنے کی کوشش کریں۔ سورج کے سامنے زیادہ دیر رہنے سے بھی گریز کریں ، لمبی آستینوں والی قمیص پہنیں اور سر پر ہیٹ ڈالیں ۔ آنکھوں کے تحفظ کے لئے دھوپ سے بچاؤ کے چشمے بھی پہنے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں مزید کہا ہے کہ سورج سے بچاؤ کے لئے کاٹن کے کپڑے پہنے چاہئیں ۔ ان کا رنگ ہلکا ہونا چاہئے ۔ خواتین کو لیزر سرجری یا ویکسنگ سمیت جلدکے علاج کے بعد سورج کی تیز روشنی سے بچنے کے علاوہ زیادہ درجہ حرارت کے ماحول میں جانے سے گریز کرنا چاہئے اور گرم پانی بھی استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جلد پر لیزر کے علاج کے بعد برف کی ڈلیوں سے ٹکور کی جائے تاکہ اس کو سرخ ہونے سے بچایاجاسکے ۔
اس ماہر نے بتایا ہے کہ جلد کے سب سے نقصان دہ امراض سرطان( جلدی کینسر) سے متعلق ہیں اور متعدی بیماریاں ہیں۔ خواہ وہ بیکٹریل ہوں، وائرل یا فنگل ہوں ۔ اس کے علاوہ سخت قسم الرجی کی وجہ سے جلد متاثر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے خواتین کو تجویز کیا ہے کہ وہ اپنی جلد کی حفاظت کریں اور صبح10بجے سے سہ پہر4بجے تک سورج کی براہ راست تمازت سے بچنے کی کوشش کریں۔ سورج کے سامنے زیادہ دیر رہنے سے بھی گریز کریں ، لمبی آستینوں والی قمیص پہنیں اور سر پر ہیٹ ڈالیں ۔ آنکھوں کے تحفظ کے لئے دھوپ سے بچاؤ کے چشمے بھی پہنے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں مزید کہا ہے کہ سورج سے بچاؤ کے لئے کاٹن کے کپڑے پہنے چاہئیں ۔ ان کا رنگ ہلکا ہونا چاہئے ۔ خواتین کو لیزر سرجری یا ویکسنگ سمیت جلدکے علاج کے بعد سورج کی تیز روشنی سے بچنے کے علاوہ زیادہ درجہ حرارت کے ماحول میں جانے سے گریز کرنا چاہئے اور گرم پانی بھی استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی ہے کہ جلد پر لیزر کے علاج کے بعد برف کی ڈلیوں سے ٹکور کی جائے تاکہ اس کو سرخ ہونے سے بچایاجاسکے ۔
Secret weapon of Saudi women skin

گفتگو میں شامل ہوں