کامرس و تجارت مستحکم بین الاقوامی تعلقات کا ذریعہ - وزیراعظم مودی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-09-30

کامرس و تجارت مستحکم بین الاقوامی تعلقات کا ذریعہ - وزیراعظم مودی

نیویارک
یو این آئی
امریکی میڈیا نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ نریندر مودی کے دورہ سے دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات میں بہتری واقع ہوگی ۔ امریکہ کے نہایت بااثر و سرکردہ اخبارات نیو یارک ٹائمس ، واشنگٹن پوسٹ اور دی یو ایس اے ٹو ڈے نے ہندوستانی وزیر اعظم کی بھرپور ستائش کی ہے۔ ٹائمس کے مطابق مودی، نیویارک پہنچے جہاں ان کا استقبال نہایت مقبول لیڈر کے طور پر کیاگیا ۔ مقامی اخبارات نے مودی کو تذکرہ’’ راک اسٹار‘‘ کے طور پر کیا ۔ میڈیا کے مطابق مودی کے وعدوں پر بھروسہ کیاجاسکتا ہے تاہم انٹل ایکچیول پراپرٹی ، ماحولیاتی تبدیلی اور ٹیکس پالیسی جیسے موضوعات پر نئی دہلی اور واشنگٹن کے مابین ہنوز اختلافات ہیں۔

پی ٹی آئی کی ایک علیحدہ اطلاع کے بموجب ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ موجودہ دور میں ٹریڈ اور کامرس کے زریعہ بین الاقوامی تعلقات کو آگے بڑھایاجاسکتا ہے ، ہندوستانی نژاد امریکی کمیونٹی کو یہ یقین دلایا کہ ان کی حکومت زراعت ، صنعت کاری اور خدمات جیسے کلیدی شعبوں پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے معیشت کو آگے کو آگے بڑھانے کے لئے پرعزم ہے ۔ مودی نے ہندوستانی سفیر برائے امریکہ ایس جئے شنکر کی جانب سے اپنے اعزاز میں دئیے گئے عشائیہ کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔ نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن پر تقریباً20ہزار افراد سے خطاب کرنے کے بعد مودی نے یہاں موجود منتخب مردو خواتین سے مختصر خطاب کیا اور اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ڈیولپمنٹ پرتوجہ مرکز کی ہوئی ہے اور ہندوستان کو سرمایہ کاری کا ایک اہم مرکز بنانے کی خواہاں ہے ۔ مودی کے مطابق وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی صحتمند معیشت کے لئے ایک تہائی زراعت ، ایک تہائی صنعت کاری اور ایک تہائی خدمات ضروری ہیں ۔ اگر یہ تینوں شعبے یکساں طور پر کارکرد رہیں تب کسی ایک شعبہ کے متاثر ہونے کے باوجود ملک کی معیشت پر بہت بڑا اثر نہیں پڑے گا۔
مودی نے مینو فیکچرنگ شعبہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سیکٹر پر ان کی حکومت خصوصی طور پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے، اس شعبہ میں چھوٹی ملازمتوں کے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے ۔ مودی نے مزید کہا کہ خدمات کے شعبہ میں سیاحت بہت بڑا مرکز ہے ، تخمینی طور پر3ٹریلین ڈالرس رقم سیاحت کے شعبہ میں لگائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے سیاحت کے شعبہ میں حاصل مواقع سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا ہے جب کہ ہمارا مقصد اس شعبہ کو فروغ دینا ہے ۔ مودی نے اس موقع پر دہشت گردی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی عوام کو تقسیم کرتی ہے جب کہ سیاحت سے اتحاد پیدا ہوتا ہے ۔ انہوں نے اس موقع پر گالیوں کی گڑ گڑاہٹ میں کہا کہ سیاحت کی ترقی سے آٹو رکشا اور ٹیکسی چلانے والے کے علاوہ چائے والے کو بھی فائدہ پہنچتا ہے ۔

پی ٹی آئی کی ایک علیحدہ اطلاع کے بموجب وزیر اعظم نریندر مودی نے امریکی کانگریس کے ایک اہم رکن تلسی گبارڈ اور جنوبی کیرو لینا کے گورنر نکی ہالے سے کل ملاقات کی ۔ امریکی ایوان نمائندگان میں واحد ہندو رکن تلسی گبارڈ نے مودی کو اپنی آبائی ریاست ہوائی کے ادرک کے پھولوں سے تیار ایک ہار پیش کیا ۔ گبارڈ نے اس سے قبل میڈیسن اسکوائر میں مودی کی تقریر بھی سنی تھی اور اس سے کافی متاثر ہوئی تھیں ۔ جنوبی کیرولینا میں خاتون کی حیثیت سے پہلی مرتبہ خدمت انجام دینے والی ہالے نے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون پر زور دیا۔

trade and commerce leads international relations, Modi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں