ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کے لئے جئیں گے اور مریں گے - وزیراعظم مودی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2014-09-20

ہندوستان کے مسلمان ہندوستان کے لئے جئیں گے اور مریں گے - وزیراعظم مودی

نئی دہلی
پی ٹی آئی۔ یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ‘ہندوستان کے لئے جئیں گے اور ہندوستان کے لئے اپنی جان دیں گے اور وہ (ہندوستانی مسلمان) دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے اشاروں پر نہیں ناچیں گے ۔ مودی نے سی این این کو دئیے گئے ایک شاذو نادر انٹر ویو میں کہا کہ ’’میری دانست میں وہ(القاعدہ عناصر) ہمارے ملک کے مسلمانوں کے تعلق سے نا انصافی کررہے ہیں ۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان ، ان عناصر کی دھن پر رقص کریں گے تو وہ عناصر واہمہ میں مبتلا ہیں ۔‘‘ سی این این کے فرید زرکریا نے انٹرویو کے دوران صدر القاعدہ کے جاری کردہ ویڈیو کے بارے میں صوال کیا تھا۔ اس ویڈیو میں ہندوستان۔ جنوبی ایشیاء میں القاعدہ کے قیام کی کوشش کی اپیل کی گئی تھی اور صدر القاعدہ نے اس اپیل میں کہا تھا کہ وہ(صدر القاعدہ ) مسلمانوں کو ‘کشمیر اور گجرات میں در پیش ’’استبداد‘‘ سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔ مودی سے اس بارے میں بھی سوال کیا گیا کہ ہندوستان کے170ملین مسلمانوں میں سے کوئی بھی القاعدہ کا رکن نہیں ہے یا بہت تھوڑی ہی رکن ہیں اگرچہ افغانستان اور پاکستان میں گروپ کے ارکان ہیں۔
سوال کنندہ نے یہ استفسار کیا تھا کہ’’ وہ کیا بات ہے جس نے اس فرقہ( مسلمانوں) کے تعلق سے شبہات پیدا نہیں کئے ہیں؟‘‘ مودی نے جواب دیا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اس تعلق سے وہ کوئی نفسیاتی یا مذہبی تجزیہ کرنے کے لئے اتھاریٹی نہیں ہیں۔’’لیکن سوال یہ ہے کہ آیا دنیا میں انسانیت کی مدافعت کی جانی چاہئے یا نہیں ۔ انسانیت پر یقین رکھنے والوں کو متحد ہونا چاہئے یا نہیں ۔ یہ بحران کسی ایک ملک یا کسی ایک نظریہ کے خلاف نہیں ہے بلکہ ساری انسانیت کے خلاف بحران ہے ۔ اس لئے ہمیں اس کو انسانیت اور غیر انسانیت کے درمیان لڑائی سمجھنا چاہئے ۔ اس سے ہٹ کر کچھ اور نہیں۔‘‘ یو این آئی کے بموجب ملک کی سب سے بڑی اقلیت(مسلمانوں) کے خلاف بی جے پی کے بعض ارکان پارلیمنٹ کے حالیہ فرقہ وارانہ بیانات پر نریندر مودی کی’’خاموشی‘‘ پر تنقید کے بیچ آج مودی نے زور دے کر کہا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاسکتا ۔ یہ مسلمان ملک کے لئے جئیں گے اور ملک کے لئے اپنی جان دیں گے ۔ اگر القاعدہ گروپ یہ سمجھتا ہے کہ ہندوستانی مسلمان اس کی دھن پر رقص کریں گے تو یہ گروپ واہمہ میں مبتلا ہے ۔
مودی نے القاعدہ لیڈر ایمن الٖظواہری کے حالیہ اعلان کے پس منظر میں ریمارکس کئے۔ الظواہری نے اپنے اعلان میں کہا تھا کہ ان کا عسکریت پسند گروپ‘ہندوستانی شاخ قائم کرے گا ۔ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعدا پنی نوعیت کے اس پہلے انٹر ویو میں مودی نے کہا کہ’’مجھے یقین ہے کہ ہندوستانی مسلمان اپنے وطن کے لئے کوئی برا نہیں چاہیں گے ۔‘‘ یہاں یہ بات بتا دی جائے کہ مودی کے دورہ امریکہ سے قبل سی این این انٹر نیشنل کے لئے فرید زکریا کے لئے اس انٹرویو کے اقتباسات آج آئی بی این پر لائیو پیش کئے گئے ۔ مکمل انٹرویو اتوار21ستمبر کو ٹیلی کاسٹ کیاجائے گا۔ اس سوال پر کہ آیا وہ(مودی) یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ‘ ہندوستان کے ساتھ واقعتا ایک فوجی اتحاد کا خواہاں ہے ، مودی نے اثبات میں جواب دیا اور کہا کہ’’ہندوستان اور امریکہ کے درمیان کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں ۔ دنیا بھر کے ممالک سے امریکہ نے عوام کو جذب کیا ہے اور دنیا کے ہر حصہ میں ہندوستانی موجود ہیں ۔‘‘
وزیر اعظم نریندر مودی نے یقین ظاہر کیا کہ امریکہ اور ہندوستان اپنے فوجی اتحاد کو گہرا کرسکتے ہیں۔ مودی نے اعتراف کیا کہ دونوں ممالک کے ردمیان تعلقات میں کئی نشیب و فراز آئے ہیں ۔، 21ویں صدی کے پہلے ربع حصہ میں تبدیلیاں تورونما ہوئیں اور اب انہیں یقین ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید گہرے ہوں گے ۔ہندوستان اورا مریکہ تاریخ اور تمدن کے اعتبار سے ایک دوسرے سے گویا بندھے ہوئے ہیں ۔ مودی نے خیال ظاہر کیا کہ ہند۔ امریکہ تعلقات کو دہلی اور واشنگٹن کے حدود ہی میں نہیں دیکھاجانا چاہئے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک ، کہیں زیادہ وسیع پس منظر ہے۔ مودی کے ریمارکس پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے سینئر بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین نے کہا کہ وزیر اعظم نے جو کچھ کہا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ وہ اور پارٹی ہمیشہ ہی اس پر یقین رکھتے ہیں ۔ کانگریسی رہنما سندیپ دکشت نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں کو حب الوطنی کا کوئی سرٹیفکیٹ دینے کی ضرورت ہے۔ فتح پوری مسجد کے امام مفتی مکرم احمد نے کہا کہ وزیر اعظم کا بیان ان سیاستدانوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو’’لو جہاد‘‘ کی اپنی مہم کے ذریعہ فرقہ وارانہ بھائی چارہ کی فضا کو مکدر کررہے ہیں۔

Indian Muslims will live, die for India, says PM Narendra Modi

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں