AAP Monitoring facilities in Delhi schools
دہلی حکومت کے وزیر تعلیم کو سماج میں بہتر انسان بنانے کا ذریعہ قرار دیتے کہاکہ دارالحکومت میں تعلیم کو تجارت نہیں بننے دیا جائے گا اور مفت ولازمی تعلیم قانون کا جائزہ لیا جائے گا۔ سسودیا نے آج یہاں یونیسکو کی عالمی تعلیم نگرانی رپورٹ 2014-2013 جاری کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اس موقع پر ہندوستان میں یونیسکو کے نمائندے شیگیروادیاگی اور ہندوستان میں یونیسکو کے تعلیم کے چیف الیشریوماروو بھی موجود تھے۔ سسودیا نے کہاکہ تعلیم کا کام افرادی وسائل پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ آدمی کو بہتر انسان بنانا ہے۔ ہمارے سماج میں بدعنوانی، دہشت گردی اور مذہبی منافرت اور ذات پات جیسی لعنت کی موجودگی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام مکمل طورپر ناکام ہوگیا ہے۔ سسودیا نے کہاکہ بدعنوانی سماج میں اس قدر سرایت کرگئی ہے کہ چاہے آئی ایس آفیسر ہویا کلرک، قصبے کا ڈگری کالج کا گریجویٹ ہو یا انڈین مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کا فارغ التحصل کسی کے بارے میں یہ ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے کہ وہ بدعنوان نہیں بنے گا۔ سسودیا نے کہاکہ ہمیں تعلیمی نظام کو بدلنا ہوگا اور تعلیم کے ہدف مقرر کرنے ہوں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ دہلی میں تعلیمی نظام کو تجارت نہیں بننے دیا جائے گا۔ پرائیویٹ اسکولوں کو بند تو نہیں کیا جائے گا لیکن انہیں تجارت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور سرکاری اسکول کے نظام کو اتنا مضبوط بنایا جائے گا کہ لوگ خانگی اسکولوں میں جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مفت و لازمی تعلیم قانون کا بھی جائزہ لیا جائے گا کیونکہ پورے ملک میں ایک طرح کا قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں