anti riot bill political gimmick - mamata
مرکز کی یوپی اے حکومت کے خلاف نکتہ چینی کو کوئی موقع وزیر اعلی ممتا بنرجی نے اپنے فیس بک پوسٹ پر مرکز کی مجوزہ فساد مخالف بل کو سیاسی ایجینڈہ قرار دیتے ہوئے اس کی سخت تنقید کی ہے اور لکھا ہے کہ عام انتخاب 2014سے چند مہینوں نافذ ہونے والے مثالی انتخابی ضابطہ اخلاق سے قبل مرکزی حکومت فرقہ وارانہ تشدد ( امتناع اور انصاف تک رسائی) روک تھام بل 2013لا رہی ہے جو ریاستی حکومت کے دائرہ اختیار میں بلا وجہ کی دخل اندازی اور سیاسی انتقام جیسا ہے۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ ریاستی حکومتوں کے دائرہ اختیار میں مسلسل اور غیر ضروری مداخلت پوری طرح غیر و فاقی اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہم اپنی اقلیتوں سے محبت کرتے ہیں ہم ہر ذات ، نسل، مذہب، زبان وغیرہ کی بھی عزت کرتے ہوئے یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے اور ہم ان کا تحفظ اپنی فیملی کی طرح کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد کی روک تھام کے نام پر مرکزی حکومت ریاستی حکومتوں کے آئینی اختیارات ہڑپنا چاہتی ہے اور ہم اس کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں