دیویانی کے خلاف کیس میں فاش غلطیوں کا انکشاف
ہندوستانی سفارتکار دیویانی کھوبر گڈے کے وکیل کی جانب سے یہ دلیل دئیے جانے کے ایک دن بعد کہ امریکی حکام نے دیویانی کی جانب سے ملازمہ سنگیتا رچرڈس کے ویزا کے لئے داخل کردہ دستاویزات کے مطالعہ میں غلطی کی ہے‘ ذرائع نے آج یہاں دیویانی کھوبر گڈے کی آن لائن ویزا درخواست کی اسکیان کی ہوئی نقول فراہم کی ہیں جن (کے مطالعہ) میں سنگین غلطیاں پائی گئی ہیں۔ ان غلطیوں سے امریکی وکیل پریت برارا کے دلائل کی توثیق ہوتی ہے۔ ویزا کے فارم میں 4500 امریکی ڈالر ماہانہ تنخواہ کا اندراج سنگیتا رچرڈ کی تنخواہ کا نہیں تھا بلکہ دیویانی کھوبر گڈے کی تنخواہ کے بارے میں تھا۔ تاہم امریکی حکام نے اسے غلط سمجھا جس کی وجہہ سے ان کی تحقیقات غلط سمت اختیار کرگئیں اور ان ہی تحقیقات کی بنیاد پر عائد کئے گئے الزامات بھی غلط ثابت ہوئے۔ دیویانی کھوبر گڈے کو جو نیویارک میں نائب قونصل جنرل کی حیثیت سے تعینات تھیں‘ ویزا دھوکہ دہی اور ملازمہ کو کم تنخواہ دینے کے الزام میں 12 دسمبر کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے گرفتاری کے طریقہ کار اور بعدازاں کی گئی توہین پر ہندوستان نے سخت ترین ردعمل کا اظہار کیا ۔ دیویانی کھوبر گڈے کی ویزا درخواست کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ 4500 امریکی ڈالر کی تنخواہ ملازمہ سنگیتا رچرڈ کی نہیں بلکہ اس کے آجر دیویانی کھوبر گڈے کی بنیادی یافت تھی۔ یہ معلومات یہاں امریکی سفارتخانہ کے عہدیداروں کو فراہم کی گئی تھیں تاکہ وہ اس بات کا واضح تعین کرسکیں کہ دیویانی اپنی ملازمہ سنگیتا رچرڈس کو ماہانہ 1560 ڈالر یافی ہفتہ 40گھنٹے‘ فی گھنٹہ 9.75 ڈالر ادا کرنے کیلئے کافی آمدنی رکھتی ہیں۔ سنگیتا رچرڈس اور دیویانی کھوبر گاڈے کے درمیان یہی معاہدہ طے پایا تھا۔
Devyani Khobragade case: Screenshot shows US officials misread info

گفتگو میں شامل ہوں