آندھرا پردیش اسمبلی کا سرمائی اجلاس 3 جنوری تک ملتوی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-12-20

آندھرا پردیش اسمبلی کا سرمائی اجلاس 3 جنوری تک ملتوی

ریاستی قانون ساز اسمبلی کا اجلاس صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی جانب سے بھیجے گئے تلنگانہ مسودہ بل پر مباحث کے بغیر ہی 3 جنوری تک ملتوی کردیا گیا ہے۔ مسلسل چوتھے دن بھی آندھراپردیش کی تنظیم جدید بل 2013ء پر مباحث ممکن نہیں ہوسکے، کیونکہ علاقہ ساحلی آندھرا اور رائلسیما سے تعلق رکھنے والے ارکان نے احتجاج اور شوروغل کے ذریعہ کارروائی چلنے نہیں دی۔ اسپیکر این منوہر نے جنہوں نے شور وغل کے درمیان اجلاس ملتوی کردیا، اعلان کیا کہ سرمائی اجلاس کا 3 جنوری کو احیاء ہوگا۔ سرمائی اجلاس کا دوسرا مرحلہ 23 جنوری کو اختتام پذیر ہوگا۔ اسمبلی اجلاس کے دوسرے مرحلہ کا پہلا حصہ 3تا10 جنوری جاری رہے گا۔ سنکرانتی کی تعطیلات کے بعد 16 جنوری کو اجلاس پھر ایک بار شروع ہوگا، جو 23 جنوری تک جاری رہے گا۔ آج صبح میں اسمبلی کارروائی کاالتواء عمل میں آیا اورپھر 1:30 بجے اس کا دوبارہ آغاز ہوا تھا، جو جمعہ تک جاری رہنا تھا۔ اسمبلی میں تلنگانہ مسودہ بل پیر کے دن پیش کیا گیا۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے بل کا مسودہ روانہ کرتے ہوئے ریاستی ارکان مقننہ کی رائے طلب کی تھی۔ واضح ہوکہ مسودہ بل صدجمہوریہ کو 23 جنوری تک واپس کردیا جانا ہے۔ سیما آندھرا کے تلگو دیشم ارکان نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ مسودہ بل مباحث کے بغیر صدرجمہوریہ کوواپس بھیج دیں، تاکہ ریاست کی متحدہ ساخت برقرار رہ سکے۔ وائی ایس آر کانگریس کے ارکان نے ایوان میں ریاست کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے ایک قرار داد منظوری کا مطالبہ کیا۔ پارٹی وابستگی سے بالا تر تلنگانہ ارکان مقننہ اسپیکر پر مباحث شروع کرنے کیلئے دباؤ ڈال رہے تھے۔ سیما آندھرا اور تلنگانہ کے ارکان مقننہ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کا منصوبہ رکھتے ہیں، جو آج شام حیدرآباد پہنچنے والے ہیں۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی اپنے سالانہ درہ جنوبی ہند کے موقع پر ریاستی دارالحکومت پہنچیں گے ۔ اسی دوران چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی نے اسپیکر اسمبلی اور صدرنشین قانون ساز کونسل کو مشورہ دیا کہ وہ بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اجلاس طلب کرتے ہوئے مباحث شروع کرنے کے طریقہ کار پر غور وخوص کریں۔ عوام میں تلنگانہ بل پیش کئے جانے کے بعد پہلی مرتبہ لب کشائی کرتے ہوئے چیف منسٹر نے کہاکہ یہ مسئلہ انتہائی حساس ہے، ایسے کسی بل پر قبل ازیں کبھی بھی مباحث منعقد نہیں کئے گئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ مباحث دستور کے دائرہ کار میں ہونے چاہئیں، مباحث کے دوران قواعد اور روایات کا پاس و لحاظ رکھا جانا چاہئے، مباحث بلا اشتعال ہوں، تمام ارکان کو چاہئے کہ وہ مباحث میں حصہ لینے کے دوران اپنی زبان و لب و لہجہ پر قابو رکھیں۔ انہوں نے کہاکہ مباحث کے دوران اظہار خیال کے موقع پر ارکان کو چاہئے کہ وہ کسی کے جذبات اور احساسات کو ٹھیس نہ پہنچائیں۔ واضح ہوکہ چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی بھی ریاست کی تقسیم کی سخت مخالفت کررہے ہیں۔ انہوں نے اترپردیش اور بہار اسمبلیوں کی مثالیں پیش کیں، جہاں اتراکھنڈ اور جھارکھنڈ کی کے موقع پر مباحث کے دوران مسودہ بل میں ترامیم کیلئے شائستہ انداز میں تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

Andhra Pradesh assembly adjourned without debate on Telangana bill

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں