شام میں نئی حکومت کے موضوع پر جنیوا کانفرنس - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-11-27

شام میں نئی حکومت کے موضوع پر جنیوا کانفرنس


واشنگنٹن
(پی ٹی آئی )
شام پر منعقد ہونے والے جنیوا کانفرنس ملک میں باہمی اتفاق رائے سے نیا عبوری انتظامیہ تشکیل دینے کے لیے بہترین موقع ہو گا ۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ شام میں غیر ملکی جنگجوؤں اور انتہائی پسندی کے بڑھتے خطرات کے انسداد اور شام کے علاقائی اقتدار اعلی کے احترام کو یقینی بنانے کے لیے عبوری حکومت کے قیام کی کوششوں میں ٹال مٹول ناقابل قبول ہے ۔ شام پر جنیوا کانفرنس کے اہتمام کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شام میں خانہ جنگی میں ملوث گروپوں پر غیر ملکی حکومتوں کے اثرات نمایاں ہیں لہذا اس تعلق سے انہیں بھی اہم روادا کرنا ہوگا ۔ خانہ جنگی کے خاتمہ اور نئی حکومت کے قیام کا انحصاری شامی عوام پر ہے اور امریکہ کے علاوہ اس کے حلیف ممالک حصول مقصد میں ان کی رہنمائی اور ان کے ساتھ تعاون ہی کرسکتے ہیں ۔ کیری نے واضح الفاظ میں کہا کہ خونر یزی کا خاتمہ اور شامی عوام کی دیرینہ زیر التواء خواہشات کی تکمیل کے لیے نئی قیادت ضروری ہے ۔ وائٹ ہاوز بہت پہلے یہ وضاحت کرچکا ہے کہ شام میں تشدد کا خا تمہ فوجی کاروائیوں سے ناممکن ہے کہ مسئلہ حل نہیں ۔وائٹ ہاوز پریس سکریٹر ی جوش ارنسٹ نے کہا کہ باہمی اتفاق رائے سے شام میں عبوری انتظامیہ کے قیاام اور جنیوا اعلامیہ کے نفاذ کے لئے جنیواکانفرنس بہترین موقع ہے ۔ شامی وعام کے آلام ومصائب اور خطہ پر خانہ جنگی کے عدم استحکام اثرات کے خاتمہ کی جانب یہ پہلا قدم ہوگا ۔ کیری نے سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹوں سے آگاہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہاکہ بین الاقوامی برادری شام پر جینیوا کانفرنس میں شرکت کے وقت آنکھیں کھلی رکھے گی۔ راہ میں آنے والی دشواریوں کی شدت کو نظرانداز کرنا کسی کے لئے بھی آسان نہ ہوگا۔ آئندہ چند ہفتوں میں حکومت اور اپوزیشن کو وفود تشکیل دینے کی ضرورت پڑے گی ۔ اور ہم اقواممتحدہ اور اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل جل کر ماباقی مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں گے ۔ ہمارے امور میں اسانتخاب کی ذمہ داری بھی شامل ہوگئی کہ کن ممالک کو مدعو کیا جائے اور سیاسی اقتدار کی منتقلی کے لئے جنیوا اعلامیہ کی جانب پیش رفت کس انداز سے ہو ۔ ارینسٹ نے کہا کہ صدر اوباما ہنوز اس موقف پر اٹل ہیں ، بشارالاسد کو اقتدار سے دست بردار ہونا ہی پڑے گا ۔ ان کے علاوہ عوام کا بھی یہی خیال ہے ۔ جنوری میں جینوا کانفرنس کے یہی اہم موضوعات ہوں گے اور اس موقع پر سیاسی اقتدار کی منتقلی پر بات چیت ہونی چاہئے۔ خانہ جنگی کے خاتمہ کا یہی واحد راستہ ہے۔ یہی ہمار ا نظریہ بھی ہے کہ فریقین کو بات چیت کی میز پر لاکر ہم اس عمل کی جانب پیش قدمی کرسکیں گے۔ ہم اس بات سے بھی پر امید ہیں کہ شام میں ہم ایک ایسی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوں گے جو حقوق انسانی اور اقلیتوں کے بنیادی حقوق کا احترام کرے گی۔
Secretary Kerry on Geneva Conference on Syria

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں