پٹرول کی قیمت میں ڈیڑھ روپئے کی کمی کا امکان
بین الاقوامی مارکٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی اور روپیئے کی قدر میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے امکان ہے کہ پٹرول کی قیمت میں آئندہ ہفتے ایک تا دیڑھ روپیئے فی لیٹر کی کمی کی جائے گی جبکہ پکوان گیس اور ڈیزل کی قیمتوں میں آئندہ چند دنوں یا ہفتوں میں اضافہ بھی ہوسکتاہے۔پٹرول کی قیمت میں ہر ماہ کی پہلی اور 16تاریخ کو اضافہ کیا جاتاہے اور امکان ہے کہ اس بار بھی15 اور16ستمبرکی درمیانی شب سے قیمتوں میں کمی کردی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے ڈیزل کی قیمت میں 3تا5روپیئے فی لیٹر کے اضافہ اور پکوان گیس کی قیمت میں فی سلنڈر 50روپیئے کے اضافہ کے امکان پر بھی غور کیاجارہاہے تاکہ سرکاری تیل کمپنیوں کو ہونے والے خسارہ کو کم سے کم کیاجاسکے۔ وزارت تیل کے سکریٹری ویویک رائے نے کہا کہ حال ہی میں روپئے کی قدر میں بہتری آئی ہے علاوہ ازیں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے تاہم کہاکہ ڈیزل اور پکوان گیس کی قیمتوں میں ایک مرتبہ کے اضافہ کا فیصلہ کرنا ایک سیاسی اور معاشی چیلنج ہے جس سے ہم نظریں نہیں چراسکتے۔ انہوں نے یہاں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کچھ بوجھ خود عوام کوبھی برداشت کرنا پڑے گا۔ یہ حکومت کو درپیش چیلنج ہے ۔ یہ ایک سیاسی چیلنج ہے۔ یہ ایک معاشی چیلنج ہے۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس سے ہم نظریں نہیں چراسکتے۔ مسٹر رائے نے کہاکہ سبسیڈی کا جوبوجھ ہے وہ ناقابل برداشت حدوں تک بڑھ گئی ہے اور حکومت کے بجٹ سے یہ رقم فراہم نہیں کی جاسکتی اور نہ تیل کمپنیاں اسے برداشت کرنے کے موقف میں ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ دو مہینوں میں آئیل سبسڈی20,000کروڑ تک پہنچ گئی ہے کیونکہ روپیئے کی قدر گھٹ گئی تھی اور درآمدات مہنگے ہوگئے تھے۔
Petrol price may come down by up to Rs. 1.50/litre

گفتگو میں شامل ہوں