مدھیہ پردیش دینی مدارس - گیتا کی تعلیم سے ریاستی حکومت دستبردار
مدھیہ پردیش کے دینی مدارس میں بھگوت گیتا کے اسباق شامل کرنے کے فیصلہ پر تنازعہ کے بعد حکومت نے اس سلسلہ میں اعلامیہ واپس لے لیا ہے۔ چیف منسٹر شیوراج سنگھ چوہان نے آج اس بات کی وضاحت کی کہ دینی مدارس میں گیتا کی تعلیم شامل کرنے کے جو احکامات جاری کئے گئے تھے وہ واپس لے لئے گئے ہیں۔ بھوپال میں نامہ نگاروں سے بات چیت کریت ہوئے انہوں نے کہاکہ اس پر جو تنازعہ پیدا ہوگیا ہے وہ مناسب نہیں ہے۔ سال 2013-14 کے تعلیمی سال کیلئے سرکاری اردو اسکولوں میں بھگوت گیتا کی تعلیم شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ حکومت خود اپنی ناکامیوں کی پردہ پوشی کرنے کیلئے یہ ایک نیا تنازعہ پیدا کیا ہے۔ یکم اگست کو ایک نئے اعلامیہ میں شیوراج سنگھ کی حکومت نے کہا تھا کہ تیسری جماعت سے آٹھویں جماعت تک انگریزی زبان میں اور پہلی اور دوسری جماعت کیلئے ارد میں گیتا کی تعلیم پر مبنی اسباق شامل کئے جائیں گے۔ حکومت کے اس فیصلہ پر تنقید کرتے ہوئے کانگریس نے کہاکہ دراصل یہ آر ایس ایس کا منصوبہ ہے‘ جسے حکومت نے اپنے ایجنڈے میں شامل کرلیا ہے تاکہ الیکشن سے قبل معاشرہ کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرتے ہوئے سیاسی فوائد حاصل کئے جاسکیں۔ اسی دوران مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن عارف مسعود نے حکومت کے اعلامیہ سے دستبرداری کا خیرمقدم کیا ہے۔ کل شام ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گیتا کے علاوہ دیگر مذاہب کے اسباق بھی اسکولی کتابوں میں شامل کرنے کے پراجکٹ روک دئیے گئے ہیں۔ ان میں پیغمبر اسلامﷺ کی حیات مبارکہ‘ واقعہ کربلا‘ گرونانگ دیو‘ گوتم بدھ‘ مہاویر سوامی‘ عیسیٰ مسیح اور اجمیر کے خواجہ غریب نواز سے متعلق اسباق شامل ہیں۔ کرسمس‘ بی بی فاطمہؓ کی حیات مبارکہ‘ ہولی‘ عید‘دیوالی‘ اونم‘ دسہرہ‘ گروپرو اور مہاویر جینتی پر بھی اسباق‘ نظمیں اور معلومات مختلف ان جماعتوں کی نصابی کتب میں شامل کی گئی ہیں۔ اردو کتابوں میں گیتا کے صرف دو پیام شامل کئے گئے ہیں جنہیں مذہبی یا فرقہ وارانہ نوعیت کا قرار نہیں دیا جاسکتا۔
Chouhan government's notification on Gita in schools withdrawn

گفتگو میں شامل ہوں