بولیویا کے صدر سے اسپین کی معذرت خواہی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-07-11

بولیویا کے صدر سے اسپین کی معذرت خواہی

اسپین کے وزیر خارجہ نے بولیویا کے صدر ایومر الیس سے معذرت خواہی کی پیشکش کی۔ اسپین نے کہاکہ گذشتہ ہفتہ صدر ایوامرالیس کے طیارہ کو راستہ نہ دینے سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ہیں اس کے سلسلہ میں صدر بولیویا سے معذرت خواہی کی جاتی ہے۔ تاہم اسپین نے کہاکہ صدر بولیویا کے طیارہ کو اسپین کی علمداری میں داخل ہونے سے نہیں روکا گیا۔ اسپین نے اس وقت معذرت خواہی کی جبکہ ایک دن قبل بولیویا کی حکومت نے لاپاز میں تعینات اسپین کے سفیر کو طلب کرکے صدر مرالیس کے طیارہ کو راستہ نہ دینے کے سلسلے میں وضاحت طلب کی۔ صدر مرالیس ماسکو میں انڈین اقوام کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد وطن واپس ہورہے تھے۔ بولیویا کا طیارہ ویانا میں اترا اور وہاں 13گھنٹے رکا رہا۔ اس دوران آسٹریا کے حکام نے طیارہ کی تلاشی لی اور امریکی سی آئی اے کے کنٹراکٹر ایڈوارڈ اسنوڈن کا پتہ چلانے کی کوشش کی۔ ایڈوارڈ اسنوڈن نے امریکی سائبر جاسوسی کا بھانڈا پھوڑ دیا تھا۔ اسنوڈن، امریکہ کی جانب سے ساری دنیا کے فون اور ای میل ٹیاپنگ کے پروگرام کا پردہ فارش کررہا تھا۔ اسنوڈن اس وقت ماسکو کے ایرپورٹ کے ٹرانزٹ زون میں مقیم ہے۔ وہ ہانگ کانگ سے 23جون کو ماسکو آیا تھا، وہ اس وقت سے ماسکو کے ٹرانزٹ زون میں مقیم ہے۔ پرتگال، فرانس اوراسپین نے صدر بولیویا ایومرالیس کے طیارہ کو اپنی فضائی علمداری سے گذرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ صدر مرالیس کا طیارہ ماسکو سے روانہ ہوا تھا۔ صدر مرالیس کے طیارہ میں اسنوڈن کی موجودگی کا شبہ کرکے ان ممالک نے صدر بولیویا کے طیارہ کو راستہ نہیں دیا۔ اسپین کے وزیر خارجہ نے کہاکہ اگر اس سلسلہ میں کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہی کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔ میڈریڈ نے صدر بولیویا کے طیارہ کو اسپین کے جزیرہ میں اتر کر ایندھن لینے کی اجازت دیدی۔ جب بولیویا کے وزیر خارجہ نے تحریری طورپر یقین دلایاکہ اسنوڈن طیارہ میں نہیں ہے تو طیارہ کو اسپین کے جزیرہ میں ایندھن لینے کی اجازت دیدی گئی۔ بولیو یا کے وزیر خارجہ کے تحریری تیقن کے بعد جزیرہ کناس میں طیارہ کو اتارنے کی اجازت دی گئی۔ اسپین کے وزیرخارجہ سے سوال کیا گیا کہ کیا امریکہ کی طرف سے یہ اشارہ دیا گیا تھا کہ صدر مرالیس کے طیارہ میں اسنوڈن کی موجودگی ہوسکتی ہے تو انہوں نے کہاکہ جو رپورٹ وصول ہوئی ہے وہ یورپ سے میڈیا کو وصول ہوئی تھی۔

Spain 'would apologize' to Bolivian president

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں