Pakistan court adjourns hearing on Hafiz Saeed's plea
پاکستان کی ایک عدالت نے لشکر طیبہ کے بانی حافظ محمد سعید کی پیش کردہ ایک درخواست کی سماعت جو حکومت کی جانب سے اپنے دفاع کیلئے قانونی مدد خواہش کرتے ہوئے پیش کی گئی ہے تاکہ ممبئی 2008ء حملوں کے امریکی مقدمہ میں اپنا قانونی دفاع کرسکیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عمر عطا باندیال سے کل کہا کہ دفتر خارجہ امریکہ اور محکمہ انصاف نے امریکہ کی ایک عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کیا ہے کیونکہ اس نے سابق آئی ایس آئی سربراہ محمد شجاع پاشاہ اور دیگر پاکستانی عہدیداروں کو ممبئی حملہ کے سلسلہ میں سمن جاری کئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس لئے لاہور ہائی کورٹ کو اس وقت تک انتظار کرنا چاہئے جب تک کہ امریکی عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کرنے والی درخواست کا فیصلہ نہیں ہوجاتا۔ اس کے بعد ہی حافظ سعید کی درخواست کی سماعت ممکن ہے۔ چنانچہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ عمر عطا باندیال نے حافظ سعید کی درخواست کی سماعت 24 ستمبر تک ملتوی کردی۔ امریکہ کی عدالت نے مقدمہ ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے 2یہودیوں کے رشتہ داروں نے دائر کیا ہے۔ یہ حملے پاکستانی لشکر طیبہ کے ارکان نے کئے تھے جن سے ہندوستان کے تجارتی مرکز ممبئی میں نومبر 2008ء میں جملہ 166افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ امریکی شہری ربی جبرائیل نوح، ہولٹز برگ اور ان کی بیوی لیو کا حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ ان کے رشتہ داروں نے لشکر طیبہ کے ارکان کے خلاف 9مقدمے اور آئی ایس آئی کے عہدیداروں کے خلاف کئی مقدمے دائر کئے ہیں۔




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں