پولیس قوم کے لیے باعث شرم - سپریم کورٹ کی برہمی - Taemeer News | A Social Cultural & Literary Urdu Portal | Taemeernews.com

2013-04-26

پولیس قوم کے لیے باعث شرم - سپریم کورٹ کی برہمی

سپریم کورٹ نے ہندوستانی پولیس کو جانوروں سے بھی بدتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جانور بھی شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن ہندوستانی پولیس بھی اس سے بھی کئی گزری معلوم ہوتی ہے۔ دہلی پولیس سے وضاحت طلب کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے دریافت کیا کہ ایک نوجوان لڑکی کو جو اسپتال کے باہر احتجاج کررہی تھی، پولیس نے تھپڑ کیوں مارا تھا۔ عدالت عظمی نے اترپردیش کی حکومت سے بھی استفسار کیا کہ علی گڑھ میں گذشتہ ہفتہ ایک 60سالہ خاتون کو پولیس نے کیوں زدوکوب کیا تھا؟ اس پر حلف نامہ پیش کیا جائے۔ ان دونوں واقعات کی ہو بہو منظر کشی تمام ٹی وی چینلوں پر کی گئی۔ ان مناظر کو دیکھنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججوں نے کہاکہ پولیس کا یہ وحشیانہ رویہ پوری قوم کیلئے باعث اہانت ہے۔ اترپردیش کے واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے ججوں نے کہاکہ آج ملک بھر میں ہر روز پولیس عہدیدار جس طرز عمل کا اظہار کررہے ہیں، ان سے تو حیوان بہتر نظر آتے ہیں۔ شاید وہ بھی اس طرح کی درندگی کا مظاہر نہیں کریں گے۔ یوپی اے حکومت سے استفسار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کیا آپ کی حکومت میں تمام قوم کو شرمسار کرنے والی کوئی اور حرکت باقی ہے؟ اترپردیش کے چیف سکریٹری کو اس سلسلہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ جسٹس جی ایس سنگھوی کی زیر صدارت بنچ نے اترپردیش کے سرکاری وکیل گورو بھاٹیا کی سرزنش کرتے ہوئے کہاکہ آپ کی حکومت کے پاس کوئی شرم و حیا باقی بھی ہے؟ واضح رہے کہ پانچ سالہ بچی کی عصمت ریزی پر احتجاج کرنے والی لڑکی کو تھپڑ رسید کرنے والے ایک پولیس عہدیدار کو معطل کردیا گیا ہے۔ اس واقعہ پر وزیراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے تبصرہ کرتے ہوئے اسی شام کہا تھا کہ ایسی وحشیانہ حرکت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ عوامی برہمی سے نمٹنے کے دوران پولیس فورس کو حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ شہریوں پر پولیس کی بربریت کے واقعات کے سلسلہ میں سپریم کورٹ نے اپنی سخت برہمی اور تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ ان واقعات کو روکنا بے حد ضروری ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ علی گڑھ میں ایک چھ سالہ لڑکی کی نعش کوڑے دان سے دستیاب ہونے پر مقامی خواتین نے زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ اس لڑکی کو بھی عصمی ریزی کے بعد ہلاک کردیا گیا تھا۔ پولیس نے اس واقعہ پر ایف آئی آر درج کرسے بھی انکار کردیا تھا۔ احتجاج کرنے والی خواتین کو پولیس نے نہایت بے دردی کے ساتھ زدوکوب کیا تھا۔ عدالت عظمی نے کہاکہ ان کی ضمیر کو کیا ہوگیا تھا وہ غیر مسلح خواتین کے ساتھ اس طرح کا وحشیانہ سلوک کررہے تھے۔ پولیس عہدیدار ایسا رویہ کیوں کر اختیار کرسکتے ہیں۔

Police behaviour worse than mad animals', will intervene directly: SC

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں