مغربی بنگال کے سرکاری اسکولوں کی بدحالی
مغربی بنگال کے علاقے کولکتہ ، ہوڑہ ، چوبیس پرگنہ اور مرشدآباد کے سرکاری اسکولوں کا تعلیمی اور انتظامی نظام کافی بدحال ہو چکا ہے اور اس کے اسباب پر اب تک پردہ پڑا ہوا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسکولوں میں جو تصادم ہو رہے ہیں اس کا اہم سبب اساتذہ کی بدعنوانی ہے۔
ریاست کے کالجوں میں چھاتر یونین کے نام پر لیڈری چمکائی گئی تو اساتذہ نے بھی اپنی یونین بنا لی۔ اساتذہ اور طلبا کے درمیان کی کڑی "گارجین کمیٹی" کو بےاثر بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلبا و اساتذہ کے درمیان کوئی بہتر رابطہ قائم نہ ہو سکا اور اسکولوں میں تشدد اور تصادم پر کوئی قابو پانے والا نظر نہیں آتا۔
سرپرستوں کے ایک بڑے طبقے کا کہنا ہے کہ اسکول اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر اپنے تعلقات اور فنڈ نما رشوت کے بدلے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ آج اسکولی بچوں میں ان کی عزت گھٹ گئی ہے اور اب احتجاج کی شکل میں تصادم برپا ہو رہا ہے۔
ریاست کے کالجوں میں چھاتر یونین کے نام پر لیڈری چمکائی گئی تو اساتذہ نے بھی اپنی یونین بنا لی۔ اساتذہ اور طلبا کے درمیان کی کڑی "گارجین کمیٹی" کو بےاثر بنانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ طلبا و اساتذہ کے درمیان کوئی بہتر رابطہ قائم نہ ہو سکا اور اسکولوں میں تشدد اور تصادم پر کوئی قابو پانے والا نظر نہیں آتا۔
سرپرستوں کے ایک بڑے طبقے کا کہنا ہے کہ اسکول اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر اپنے تعلقات اور فنڈ نما رشوت کے بدلے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ آج اسکولی بچوں میں ان کی عزت گھٹ گئی ہے اور اب احتجاج کی شکل میں تصادم برپا ہو رہا ہے۔
west bengal govt schools bad condition
گفتگو میں شامل ہوں