مصر میں محمد مرسی کی صدارت کے جائز ہونے کے لیے جاری امتحان میں عوام کی بھاری تعداد نے دستور پر ریفرنڈم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اسلام پسندوں اور سیکولر گروپ کے درمیان اقتدار کی شدید لڑائی اور طاقت و تشدد کے مظاہروں سے مجبور ہو کر صدر مرسی نے دستور پر ریفرنڈم کا اعلان کیا تھا۔
سیکولر اپوزیشن نے دستوری مسودہ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں جنسی مساوات کی ضمانت نہیں ہے ، اقلیتوں کو حقوق حاصل نہیں ہیں اور اظہار خیال کی آزادی بھی نہیں ہے۔ لیکن اب عوام کی اکثریت نے صدر مرسی کے دستوری ریفرنڈم پر بھاری تائیدی ووٹ دیا ہے۔ سڑکوں پر عوام نے مظاہرے کیے ، ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھے جس پر تحریر تھا : "ہم نئے دستور کی تائید کرتے ہیں"۔
قطعی نتائج کا انتظار ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں