Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-05-31 - بوقت: 16:14

عالم اسلام پر نفاق کا الزام ۔۔۔؟!

Comments : 2
alam-islam-par-nifaq-ke-badal
زیرنظر مضمون دراصل فیس بک پر پیش کردہ ایک جواب ہے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کے اس مضمون کا، جو سعودی عرب کے خلاف "عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل" کے عنوان سے دو قسطوں میں تحریر کیا گیا اور جسے رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں مختلف اردو اخبارات کے پرنٹ ایڈیشن میں شائع بھی کیا گیا تھا۔
درج ذیل آن لائن ویب پورٹل پر ان دو قسطوں کو ملاحظہ کیا جا سکتا ہے:
ملت ٹائمز: عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل (1)
ملت ٹائمز: عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل (2)
ڈاکٹر اجمل منظور کی اجازت کے بعد، 'تعمیرنیوز' کی پالیسی کے مطابق، مضمون کی ترتیب، تہذیب و تدوین کے ساتھ اسے یہاں صرف اسی لیے شائع کیا جا رہا ہے کہ ۔۔۔ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کے سامنے موضوع کا دوسرا رخ بھی واضح ہو سکے۔

مدیر اعزازی : مکرم نیاز (حیدرآباد)

عالم اسلام پر نفاق کا الزام اور 'فقیہ عصر'؟!
ہوئے کس درجہ فقیہانِ 'دكن' بے توفیق !!

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کو عموماً حنفی فقہ کا ایسا سلجھا ہوا غیر متعصب مقلد عالم دین سمجھا جاتا رہا ہے جن کے سعودی عرب سے اچھے تعلقات تھے۔ اور شاید اسی خوشگوار تعلقات کی بنیاد پر شاہی مہمان بن کر وہ حج بھی کرتے رہے ہیں، اپنے ادارے المعھد العالی الاسلامی کیلئے سعودی مالی تعاون بھی حاصل کیا اور کہا جاتا ہے کہ اپنی اولاد کا مدینہ یونیورسٹی میں داخلہ بھی مفت دلوایا ہے۔

یہ مضمون جس نے رمضان مبارک میں طبیعت کو مکدر کر کے رکھ دیا اور جو "سماعون للكذب " کا ایک بے مثال شاہکار ہے، اسے پڑھتے ہوئے یقین نہیں آ رہا ہے کہ یہ تحریر بھی انہی مولانا خالد سیف اللہ صاحب کی ہے جنہوں نے حج کی واپسی پر بھی ایک ایسا مضمون تحریر کیا تھا جس میں سعودی عرب کی بھرپور ستائش کی گئی تھی۔
اور اس موقع پر ایک ایسی شخصیت کی یاد آئی جسے لوگ سید گہر والا سلمان حسینی کہتے ہیں۔ جنہوں نے بھی ایک زمانے میں کچھ زیادہ ہی سعودی عرب کی ملائی کھا رکھی تھی۔ اسی مملکت سے باپ اور بیٹے دونوں نے مفت میں تعلیم حاصل کی، اپنے ادارے کٹولی کے لیے بھی خوب خوب مملکتی تعاون بٹورا ، سعودی شاہوں کے پاس انہوں نے مبارکبادی کے خطوط بھی بھیجے۔ لیکن کیا وجہ بنی جو وہی جانتے ہوں گے، کہ اچانک سعودی مخالف بن گئے اور وہی سعودی عرب جو کل تک ان کا مربی، سرپرست اور متبرع کبیر تھا اچانک دنیا کی سب سے بڑی ظالم اور مجرم حکومت بن گئی جس کے خلاف پورے مسلمانوں کو لام بند ہونے کے لئے للکارا گیا ، آل سعود کے جرائم کے عنوان سے بےشمار الزامات لگائے گئے، حدیثوں سے غلط استدلال کر کے آل سعود کو نعوذباللہ ماں بہن کی گالی دینے کی لوگوں سے اپیل بھی کی گئی۔

کیا یہ ناگزیر نہیں کہ مولانا خالد سیف اللہ صاحب کے مضمون کا عربی ترجمہ کر کے سعودی سفارت خانہ کو بھیجا جائے؟ اس قسم کے دو رخی افراد ہی سعودی عرب کے خرچہ پر بار بار حج اور عمرہ پر جاتے ہیں اور انہیں کھلم کھلا دھوکہ دیتے ہیں۔ اور دوسرے ہمیں خود سوچنا چاہیے کہ ہماری اچھائیوں کا غلط ترجمہ تو کچھ مکتب فکر کے دریدہ دہن سعودی عرب کو بھیج دیتے ہیں مگر ہم ان کی بدبودار خباثتوں سے سعودی عرب کو کتنا باخبر کراتے ہیں۔۔۔؟
تقلیدی تحریکیوں کا حال یہ ہے کہ یہ ملوکیت کے سخت مخالفت کرتے ہیں لیکن دین سے لیکر دنیا تک ہر جگہ وارث اپنے بچوں کو ہی بناتے ہیں۔ در اصل حقیقت میں اصلی جڑ تقلید کی کھائی ھے۔ ان کے یہاں ملوکیت صرفـ"آل سعود" کی مبغوض ہے. وگرنہ اسی ملوکیت میں اگر زینی دحلان جیسے لوگوں کو مملکہ کا قاضی بنا دیا جائے تو وہی ملوکیت محبوب ہی نہیں جان سے بھی پیاری ہو جائے گی۔

مملکت توحید پر بلا ضرورت کچھ بھی لکھ مارنا آج کل کا جدید ترین فیشن ہے۔ بہت سے مبغضین مملکت اکٹھا ہو کر دو چار گالی دیدیتے ہیں اور دل کی بھڑاس نکل جاتی ہے۔
پہلے محسن عثمانی ندوی کا زہر اور اب خالد سیف اللہ رحمانی صاحب کا اس پر تیل ڈالنا کہیں کوئی طے شدہ پروگرام تو نہیں ؟؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ سلمان ندوی کو مسلم پرسنل لاء بورڈ میں واپس لانے کی تیاری ہو رہی ہو؟ اور اس کا غاز سعودی عرب پر گرایا جا رہا ہو۔ اس انڈسٹری (آل سعود کو گالی دیکر اپنا الو سیدھا کرنا) پر روک لگنی چاہئے۔

جناب خالد سیف اللہ صاحب نے اتنے اہم منصب پر فائز ہو کر بھی من گھڑت باتوں اور بہت ساری ایسی افواہوں پر اعتماد کر کے یہ مضمون لکھ مارا ہے جن کے متعلق سعودی عرب نے سرکاری سطح پر تردید بھی کی ہے۔ ممکن ہے کچھ باتیں درست بھی ہوں لیکن ایک شخص اپنے بیان میں معمولی سچ کے ساتھ بلا تحقیق جھوٹ کی اتنی لمبی فہرست بھی آمیزش کر لے گا اس بات کی توقع موصوف سے بالکل نہیں تھی۔ لیکن انسانی نظروں سے گرانے اور ناقابل اعتبار بنانے کیلئے اللہ سبحانہ وتعالی کوئی نہ کوئی سبیل نکال ہی دیتا ہے۔

سعودی عرب پر جو الزامات متذکرہ دو قسطوں میں عائد کیے گئے ہیں ، ان کے مختصر جواب درج ذیل ہیں:

1-
عالم اسلام پر نفاق کے گہرے بادل کے عنوان سے ایک لمبی چوڑی تمہید نفاق کے لئے باندھی ہے اور آخر میں جا کر عربوں خصوصاً ال سعود پر اسے بڑی عیاری سے چسپاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ جو ایک سراسر تہمت الزام اور حرمت والے مہینے میں اپنے محسنین کے ساتھ احسان فراموشی اور دغا بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایک دوسرے کی کردار کشی کرنے سے محفوظ رکھے۔

2-
صاحبِ مضمون تمہید کے آخری حصے میں فرماتے ہیں:
((خلافت راشدہ کے بعد بنو امیہ اور بنو ہاشم بلکہ خود بنو ہاشم میں بنو عباس اور علویین کے درمیان ایسا کارزار برپا ہوا کہ ہزاروں مسلمان شہید ہو گئے، لوگوں نے خود اپنے رشتہ داروں اور قرابت مندوں کو قتل کر کے اپنی تلوار کی پیاس بجھائی، اورجب تک تاتاریوں نے خود ان کو تہہ وبالا نہیں کر دیا، وہ آپس میں ایک دوسرے کی خون ریزی میں مبتلا رہے۔))
قارئین کرام! کیا یہ زبان کسی ملحد مستشرق اور اہل سنت کے دشمن رافضیوں کے طرز پر نہیں ہے؟! حضرت والا نے بنو امیہ اور عباسیہ کی روشن تاریخ اور خدمات اسلام کو بھلا کر اس طرح ان کا نقشہ کھینچا ہے جس سے لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی کشت و خون میں بتا دی۔ نعوذ باللہ

3-
مولانا موصوف نفاق کے بارے میں آگے چل کر لکھتے ہیں:
((جب مسلمانوں کی قوت ایمانی پختہ رہی تو یہ فتنہ کمزور رہا اور جب مسلمان ضعف ایمانی کا شکار ہو گئے تو یہ فتنہ طاقت ور ہو گیا))
میں نہیں سمجھتا موصوف کا یہ اصول صحیح ہے۔ کیوںکہ نفاق مسلمانوں کی قوت ایمانی پختہ ہونے کے وقت ہی ہوتا ہے۔ اور کمزوری کے وقت نفاق کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس وقت سارے منافق اور تقیہ باز کھل کر سامنے آ جاتے ہیں۔ منافقت یا تقیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ بصورت دیگر اگر مسلمانوں کی حالت ایمانی اور حکومتی ہر اعتبار سے مضبوط ہو تو سامنے کھل کر آنے والے نفاق وتقیہ کی چادر اوڑھ لیں گے۔ لیکن موصوف یہ اصول بیان کر کے عربوں خصوصاً آل سعود کو منافق بتانا چاہتے ہیں، جبکہ یہ بات کچھ ہضم نہیں ہو رہی ہے، کیوں کہ وہ حاکم ہیں اور فی الحال مد مقابل میں سارے تقیہ باز اور منافق کمزوری کا شکار ہیں۔ پھر انہیں منافقت کرنے کی کیا ضرورت؟!

4-
نفاق کے تعلق سے ابو عثمان النھدی کی ایک روایت ذکر کی ہے لیکن نسبت نہدی نہ لکھ کر مہدی لکھا ہوا ہے۔ اب یہ معلوم نہ ہو سکا کہ یہ کتابت کی خامی ہے یا اس کا معاملہ کچھ مولانا علی میاں ندوی کی طرح ہے؟ کہ جب شیخ صلاح الدین نے مولانا علی میاں ندوی کے اوپر اپنی کتاب ذو الوجہین لکھ کر ان کے پاس بھیجی تو انہوں نے یہ کہ کر واپس کر دیا کہ اس میں بزرگوں کو کلاب کہا گیا ہے۔ حالانکہ وہ فرقہ کٌلّابیہ لکھا ہوا تھا۔

5-
مولانا موصوف نے منافقین کے بارے میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے یہ پیشین گوئی نقل کی ہے کہ قیامت کے قریب ہر قوم کی قیادت اہل نفاق کے ہاتھ میں آجائے گی:
"لاتقوم الساعۃ حتیٰ یسود کل قوم منافقوھا" (المعجم الاوسط، حدیث نمبر: 7715)
سوال یہ ہے کہ اس طرح کی پیشین گوئی اللہ اور اسکے رسول کے علاوہ کیا کوئی امتی کر سکتا ہے؟ ویسے ایک صحابی اس طرح بغیر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف اشارہ کئے کہہ بھی نہیں سکتا۔ اسی لئے یہ روایت ضعیف ہے علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے ( ضعیف جدا ) کہا ہے انظر حدیث رقم : 4779 فی ضعیف الجامع.
ممکن ہے جناب کو حدیث کا ضعف معلوم رہا ہو لیکن چونکہ روایت سے قرب قیامت میں حکام کے منافق ہونے کا ذکر ہے۔ اور یہ قرب قیامت چل رہا ہے، حرمین شریفین پر آل سعود حاکم ہیں۔ اب روایت چاہے ضعیف ہو یا صحیح، حرمین کے حکام منافق ثابت تو ہوئے!!!!

6-
(( یہ تو امراء اور قائدین کا حال ہوا، دوسری طرف جو درباری علماء اور منصب دار ہوں گے ، وہ بھی ایسے اسلام دشمن قائدین کی ہاں میں ہاں ملائیں گے، ان کی تعریف کریں گے، انہیں یقین دلائیں گے کہ ان کا ہر فیصلہ درست ، ہر قدم مبارک اور ہر عمل عدل وانصاف کے مطابق ہے))
یہ تو ایک مخصوص تحریک کا طرز فکر ہے کہ وہ سعودی کے علماء کو درباری علماء کہہ کر پکارتے ہیں۔ ان کے یہاں علماء حق وہی ہیں جو حکام کے خلاف مظاہرہ کریں لوگوں کو اکسائیں اور خروج کے قائل ہوں۔ اس پر کچھ مزید کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

7-
سقوط خلافت عثمانیہ تک عالم اسلام کے بارے میں مسلم حکمرانوں کے تعلق سے لکھا ہے:
((عمومی طور پر ایسانہیں ہوتا تھا کہ مسلمان حکمراں یہودی اور نصرانی ایجنڈے کو اپنے ملک میں نافذ کریں))
یعنی 1924 کے بعد مسلم حکمراں بالخصوص عرب حکمران ایسا کرتے ہیں نعوذ باللہ۔

8-
((غرض کہ عالم اسلام کے بڑے حصہ خاص کر مشرق وسطیٰ پر ایسے آمروں کو اقتدار پر فائز کیا گیا، جو صرف نام کے مسلمان تھے، یاکسی خاص مذہبی تہوار کے موقع پر مسجد یا عیدگاہ آجاتے تھے؛ ورنہ اپنے دل ودماغ کے اعتبار سے پوری طرح یہودیوں، عیسائیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ تھے، اور زبان سے مصلحتاً موقع بہ موقع اپنی مسلمانیت کا اظہار کرتے تھے۔))
مشرق وسطی کی اصطلاح مشہور ہے جس میں تمام عرب ممالک آتے ہیں۔ پھر کیا موصوف کے بیان کے مطابق عرب حکمرانوں خصوصاً سعودی حکمرانوں کا یہی حال رہا ہے؟! اس نقطے پر غور و فکر قارئین کی ذمہ داری ہے۔

9-
(لارنس آف عربیہ کو عرب ایسے نجات دہندہ شخص کی طرح دیکھنے لگے، جیسے کوئی مرید اپنے شیخ کو یا کوئی سعادت مند شاگرد اپنے استاذ کو دیکھتا ہے۔))
یہ شخص بالکل انگریزوں کی طرف سے جاسوس تھا جو ترکوں کے خلاف آل شریف کو بھڑکانے آیا تھا جن کی حجاز پر حکومت تھی۔ اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوا ۔ آل شریف نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر دی اور اس طرح انگریزوں کی مدد سے آل شریف نے ترکوں کو حجاز سے نکال باہر کردیا۔
اس سے آل سعود وغیرہ کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن موصوف نے جس طرح اپنی عبارت میں لفظوں کو جوڑا ہے اس سے ہر قاری پہلے آل سعود کو سمجھے گا اور یہی مطلوب ہے۔

10-
موصوف کہتے ہیں:
((مملکت سعودی عرب کا قیام بھی انگریزوں ہی کے تعاون سے ہوا تھا)).
یہ بالکل رافضیوں والی بات ہے جس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔

11-
موصوف بے لاگ کہہ رہے ہیں: ((سیاسی اور معاشی نظام کو کبھی بھی حکومت (سعودی عرب) نے قانون شریعت کے سانچہ میں ڈھانے کی کوشش نہیں کی))۔
صاحبِ مضمون اپنے دعوے میں کتنے سچے ہیں اسے جاننے کے لئے میری فیس بک ٹائم لائن کی یہ پوسٹ ملاحظہ کیجیے:
سعودی نظام حکومت: افواہوں اور حقائق کے بیچ میں

12-
((اگرچہ ان کی دماغی صحت کے بارے میں مغرب کے ایک حلقہ کی طرف سے سوالات کھڑے کئے جا رہے تھے؛ لیکن عمومی طور پر یہ رائے تھی کہ وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں))۔
موصوف شاہ سلمان کے بارے میں دین دار نیم پاگل ثابت کر کے کہنا کیا چاہتے ہیں؟! کیا جس طرح قطر میں فہد بن حمد کو کٹر دین پرست نیم پاگل کا الزام لگا کر قید کر دیا گیا کیوں کہ وہ ملک میں انقلاب کے سخت مخالف تھا اسی طرح شاہ سلمان کو شاہی تخت سے ہٹا دیا جائے؟! غیر معتبر یورپی پروپیگنڈوں پر اعتماد کر کے اس طرح نتیجہ نکالنا کیا معنی رکھتا ہے؟!

13-
((بجا طور پر تمام مسلمان اس وقت سب سے زیادہ تشویش اپنے مقامات مقدسہ کے بارے میں محسوس کرتے ہیں))
جناب والا کو یہ تشویش ابرہان زمانہ حوثی باغیوں کی طرف سے میزائل حملے یا رافضی ایران کی طرف سے حرمین پر قبضے کو لیکر نہیں ہے۔ بلکہ حضرت کو وہاں پھیل رہی فحاشی اور حرمین کے انتظامی امور میں یہود و نصاری کے دخیل ہونے پر تشویش ہے۔
کیا ایسا واقعی ہے؟ اس پر کوئی ثبوت کیوں نہیں پیش کیا جاتا؟

14-
مخلوط تعلیم، مخلوط تفریح اور سینما وغیرہ کو ایسا رنگ دیکر پیش کیا ہے گویا سعودی عرب کوئی یورپی ملک ہو۔ بالکل ویسے ہی جیسے رافضی اور تحریکی عام طور سے مملکہ کے بارے میں پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔

15-
((محمد بن سلمان نے خود بیان دیا ہے کہ وہابیت کو کسی مذہبی جذبے کے تحت قبول نہیں کیا گیا تھا، امریکہ کے اشارہ پر قبول کیا گیا تھا، اور وہابیت نے سعودی عرب کو بہت نقصان پہنچایا ہے))
یہاں دیکھیں مولانا کس طرح کھل کر اپنے محسن سعودی عرب کے خلاف تازیانہ پیش کر رہے ہیں۔ رافضیوں کی کاٹ چھانٹ کر غلط بیانی کے ذریعے جو بات پھیلائی گئی اسی کو یہ جناب صحیح مان کر بن سلمان کی طرف منسوب کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔ اس کی حقانیت اور اعدائے مملکت کی دشمنی کا پردہ چاک کرنے کیلئے محمد بن سلمان کا مکمل انٹرویو یہاں ملاحظہ فرمائیں:

مملکت اور نظریے کے خلاف پروپیگنڈہ - سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی طویل گفتگو

16-
((ایک خبر یہ بھی آچکی ہے کہ فرانس کے دورے میں 26/اپریل 2018ء کو انہوں نے پوپ فرانسس کے ساتھ ایک ایسے معاہدہ پر دستخط کیاہے، جس کے تحت پورے سعودی عرب میں چرچ کھولنے کی بات طے پائی ہے، ۔۔۔۔اس میں حرمین کا بھی استثنا نہیں ہے))
اس پروپیگنڈے کو ذکر کرکے مولانا موصوف اپنی کس دشمنی کا بدلہ چکانا چاہتے ہیں؟ نیز اپنے بھکتوں میں کیسی مقبولیت حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ قطر میں باقاعدہ جس وقت گرجا گھر بنایا جا رہا تھا اسی وقت اسے خبر نہ بنا کر سارے اعدائے مملکت سعودی عرب کے تعلق سے یہی پروپیگنڈہ پھیلا رہے تھے جسکی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اب موصوف کا قطر والی خبر چھوڑ کر اس پروپیگنڈے کو ذکر کرنا اس سے کیا پتہ چلتا ہے؟

17-
((عالم اسلام میں سوائے ترکی کے ،نیز عالم عر ب اور خلیج میں سوائے قطر کے اکثر ممالک اس بڑی منافقانہ سازش کو قبول کر چکے ہیں))
اب سمجھ میں آگیا حضرت نے کیسی راہ نکالی ھے سلمان ندوی کی طرح۔ سارا مسئلہ جیب کا ہے ورنہ ترکی اور قطر کا معاملہ اور ان کا نفاق کون نہیں جانتا؟!

18-
((ایک ظالم وجابر آمر (السیسی) نے مصر میں عوام کی منتخب حکومت جو” الاخوان المسلمون“کے زیر انتظام تھی، کو طاقت اور پیسے کے بل پر معزول کیا؛ تاکہ فلسطینیوں کا کوئی پُرسان حال باقی نہیں رہے، اور اسرائیل کے پڑوس میں کوئی ایسا ملک نہیں رہ پائے، جو اسرائیل کے عزائم میں رکاوٹ بن سکے))
یہ بات پوری کی پوری سلمان ندوی کی لگ رہی ہے۔
اور السیسی یہودی نواز ہے یا اخوان المسلمین یہودیوں کے عزائم کو پورا کرتے ہیں اور کس طرح منافق بن کر الیکشن جیتتے ہیں انکی ساری عیاری جاننے کیلئے اس ویڈیو کو ضرور دیکھیں:
Video by Abo Sofyan Almorabet

19-
((افسوس کہ ہمارے ان حکمرانوں کو یہ بھی توفیق نہیں ہو سکی کہ وہ اس اعلان کے خلاف سخت رد عمل کا اظہار کرتے اور دو ٹوک انداز پر ٹرمپ کی تردید کرتے،))
امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے حوالے سے محترم یہ افسوس کر رہے ہیں۔ حالانکہ مذمتی بیان کے ساتھ ساتھ عرب لیگ اور او آئی سی دونوں کی میٹنگ بھی ہوئی ہے۔ لیکن نفرت اور تعصب انسان کو حق بات کہنے سے روک دیتا ہے۔

20-
((4/اپریل 2018 کو سعودی عرب کے ولی عہد نے بیان دیا کہ اسرائیل کو اپنی سرزمین پر قابض رہنے کا حق حاصل ہے، کاش !یہی بیان فلسطینیوں کے بارے میں آتا۔ یہاں تک کہ اب سعودیہ کی طرف سے فلسطینیوں پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ ٹرمپ کے فارمولے کو قبول کر لیں؛ ورنہ انہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا))
پہلے جملے میں دجل اور تحریف ہے جبکہ دوسرا جملہ نرا جھوٹ اور تہمت ہے۔ موصوف کی رافضی چال یہاں بھی نمایاں ہے۔
میری فیس بک ٹائم لائن کے اس مراسلے میں مکمل جواب موجود ہے:
سلفیت کے خلاف پروپیگنڈہ/ بن سلمان ایک بہانہ

21-
((حقیقت یہ ہے کہ طیب اردگان کو جس قدر خراج محبت پیش کیا جائے کم ہے اور عالم اسلام کی بزدلی ،بے حمیتی اور غیرت اسلامی سے محرومی پر جس قدر رویا جائے کم ہے۔))
موصوف نے یہ بات ترکی کے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلانے پر لکھی ہے۔ کس قدر افسوس ھے حضرت والا پر کہ جس اردگان منافق نے یہودیوں سے سارے رابطے بنا رکھے ہوں اور سفیر واپس بلانے اور اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کا ناٹک کر رہا ہو اسے خراج تحسین پیش کر رہے اور جس کے یہودیوں کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہ ہو اسے ملامت کر رہے ہیں۔ سچ ہے:
وعینُ الرِّضا عن كلَّ عیبٍ كلیلة ٌ, وَلَكِنَّ عَینَ السُّخْطِ تُبْدی المَسَاوِيَا.

22-
(( اسرائیل حماس پر حملہ آور ہوگا، اور جب ان کو غزہ چھوڑنا پڑے گاتو مصری فوج ان کو بھگا کر سینا کے بے آب وگیاہ صحراءمیں لے جائے گی، وہاں ان کو آباد کیا جائے گا، اور ان کی آباد کاری کے لئے سعودی عرب اور بعض خلیجی ممالک فائنانس کریں گے؛ تاکہ فلسطین کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے، اور اسرائیل پورے خطہ پر قابض ہو جائے))
موصوف کا اس افسانے کو بیان کرنے کا مقصد سوائے اس کے اور کیا ہوسکتا ہے کہ انہیں قطر اور ترکی کے مقابلے سعودی اتحادیوں سے سخت نفرت ہے۔ اس لیے ان کے خلاف کچھ بھی پروپیگنڈہ کیا جائے سب وحی کے درجے میں ہو جاتے ہیں۔ ویسے تعصب انسان کو اس گھٹیا مقام تک پہنچا دیتی ہے اس مضمون کو پڑھنے کے بعد اندازہ ہوا ۔

23-
((اس وقت جو شخص یا جو حکومت مسئلہ فلسطین کو نظر انداز کرتی ہے، اور یہودیوں کے ہاتھ اس کا سودا کرنے کو تیار ہے، وہ اس دور کے منافقین ہیں))
موصوف جس کسی کو بھی مراد لے رہے ہوں لیکن اس جملے سے پوری اردگانی بھکت باہر آگئی ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ اردگان انہیں استعمال پورا کرے گا لیکن یہ اس سے ایک لیرہ بھی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ وہ سعودی حکمران یا سعودی شیوخ کی طرح نہیں ہے کہ آنکھ بند کر کے دستخط کر دے۔

24-
((اگر اعداءاسلام کی ہم نوا ان ظالم حکومتوں کی طرف سے کوئی دعوت آئے تو اسے قبول نہیں کیا جائے، اور صاف طور پر لکھا جائے کہ مسئلہ فلسطین میں آپ کی مسلمان مخالف پالیسی کی وجہ سے ہم لوگ اس دعوت کو رد کر رہے ہیں۔))
موصوف کو اگر اس بار دعوت نہ ملی تو کیا دوسروں کو بھی نہیں قبول کرنے دیں گے؟ کیا اسی لئے یہ ساری محنتیں کی گئی ہیں؟؛ فیا للعجب۔

25-
((فلسطین کا سودا کرنے میں جن ملکوں کا نام سامنے آ رہا ہے، دینی کاموں کے لئے نہ ان سے عطیہ مانگا جائے اور نہ ان کا عطیہ قبول کیا جائے؛ کیوں کہ ایسے ممالک مسجدیں اور عمارتیں بنوا کر یا تھوڑی بہت رقمی امداد کر کے اپنے حقیقی مکروہ چہرے کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔))
نعوذ باللہ! محترم مولانا احناف میں ایک معتدل چہرے کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اور جو متشدد ہونگے وہ کیسا رخ اپناتے ہونگے ۔
من گھڑت باتوں کو یقین کا درجہ دیکر اس پر ایک رائے قائم کرنا پھر مطالبہ کرنا آخر کیا معنی رکھتا ہے؟!

26-
((اب اگر کوئی شخص حکمرانوں کے روبرو کچھ بول نہ سکے، دل کی کڑھن کے ساتھ خاموشی اختیار کر لے تو وہ ایمان کے آخری درجہ میں ہے، اگر کڑہن محسوس کرنے کے بجائے وہ خوشامد اور چاپلوسی کرنے لگے، جیسا کہ اس وقت عالم اسلام کے بعض علماءوارباب افتاءکا حال ہے تو گویا وہ ایمان کے اس آخری درجہ سے بھی محروم ہے))
افسوس کہ اس آخری جملے میں مولانا موصوف اپنے اعتدال والے قلم سے وہی سب لکھ رہے ہیں جو عام طور سے ایک مخصوص گروہ علماء سعودی عرب کے خلاف معاندانہ احساسات کے ساتھ بیان کرتا ہے۔
والی اللہ المشتکی

How true is accusation of Hypocrisy in Islamic world?

2 تبصرے:

  1. دوسری قسط کو بھی پڑھیں:
    https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1669796189800328&id=100003098884948

    جواب دیںحذف کریں
  2. پہلی قسط کو مکمل تبصروں کے ساتھ یہاں یہاں پڑھیں:
    https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1667997949980152&id=100003098884948

    جواب دیںحذف کریں