Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Urdu Kidz Cartoon Website

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2018-02-26 - بوقت: 14:00

میں کتھا سناتا ہوں۔ عاتق شاہ - قسط:14

Comments : 0
یہ کتاب "میں کتھا سناتا ہوں" حیدرآباد (انڈیا) کے ایک معروف ادیب ، طنز و مزاح نگار عاتق شاہ کی تحریر کردہ ہے جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ دو دہائی قبل یہ کتاب روزنامہ "منصف" (حیدرآباد) میں قسط وار شائع ہو چکی ہے۔
تعمیر نیوز بیورو (ٹی۔این۔بی) کی جانب سے پہلی بار اس کتاب کو نیٹ پر پیش کیا جا رہا ہے۔ ۔۔۔ چند ناگزیر وجوہات کی بنا پر یہ سلسلہ 13 ویں قسط (باب-8 ، 27/دسمبر/2013) کے بعد سے تعطل کا شکار ہو گیا جس کے لیے ہم اپنے معزز قارئین سے معذرت خواہ ہیں۔ اس ہفتہ سے یہ ہفتہ وار سلسلہ جاری کیا جا رہا ہے۔ 14 ویں قسط یہاں ملاحظہ فرمائیں۔

انجمن وظیفہ خورانِ اردو کے صدر اپنی جگہ سے اٹھے اور اٹھ کر انہوں نے کہا، خواتین اور حضرات! میں نے آپ کو اس لئے زحمت دی ہے کہ اردو پر ایک نئی جو آفت آئی ہے اس پر غوروخوص کے لیے آپ کو دعوت دوں۔ اخبارات میں آپ نے پڑھا ہی ہوگا کہ شہر کے مختلف مدرسوں میں اردو کی جماعتیں ختم کی جارہی ہیں ۔ ہیڈ ماسٹروں اور متعلقہ افراد کا کہنا ہے کہ طلباء کی اتنی تعداد ہی نہیں ہوتی جس سے کلاس بن سکے۔ جہاں تک اردو میڈیم کے مدرسوں اور اسکولوں کا تعلق ہے وہاں ہفتوں ٹیچر نہیں پڑھاتا ۔ متعلقہ افراد کو توجہ دلانے پر بھی وہ ٹال مٹول کرجاتے ہیں۔ اگر کہیں تعلیم ہو بھی رہی ہے تو وہاں کے حالات انتہائی تباہ ہیں ۔ ایک تو اس لئے کہ عمارت اتنی پرانی ہوگئی ہے کہ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ کب کیا ہو۔اور چھت کب طالب علموں کے سروں پر گر پڑے ۔ دوسرے یہ کہ اکثر اسکولوں میں بچوں کے لئے بیٹھنے کا انتظام نہیں کرسیاں، تو بڑی بات ہیں بوریہ بھی نصیب نہیں ۔ بچے فرش پر بیٹھتے ہیں اور ٹیچر کو ایک ٹوٹی پھوٹی کرسی فراہم کی جاتی ہے ۔ یہ صورتحال کم و بیش تمام اسکولوں کی ہے ۔ اس بار میٹرک کے نتائج بے حد خراب نکلے۔ صرف دو یا تین فی صد بچے پاس ہوئے ہیں لیکن انتظامیہ نے اب تک تعلیمی حالات کو بہتر بنانے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ ہمیں مشورہ دیں کہ اس ک ھلی اردو دشمنی کا کس طرح مقابلہ کیاجائے اور ہم اپ نی نئی نسل کو ان آفات سے کیسے بچائیں؟
اپنی اس مختصر سی تقریر کے بعد جناب صدر بیٹھ گئے اور شرکائے محفل پر ایک آسیبی سناٹا چھا گیا ۔ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے جیسے پوچھتے ہوں، بھئی کیا کہیں؟
تم ہی کہو نا! ایک نے دوسرے سے سر گوشی کی۔
نہیں تم ہی کوئی مشورہ دو۔ تم تو پلاننگ کمیشن کے اہم رکن رہے ہو ۔ منصوبے بنانے اور پروجکٹ پیش کرنے میں کیا کوئی تمہارا مقابلہ کرسکتا ہے ؟
ٹھیک ہے میرے بھائی، فینانس ہاتھ میں ہو تو ہزاروں اسکیمیں کے بلو پرنٹ تیار کردوں لیکن یہاں تو زبان کا مسئلہ ہے ، اور تم تو جانتے ہی ہو کہ اردو سے میرا تعلق ڈیڈی کے توسط سے رہا ہے ورنہ ممی تو ٹھیٹ انگریز تھیں!
ایک دو منٹ بس سر گوشیوں میں گزر گئے ، جناب صدر نے کرسی پر بیٹھے بیٹھے ہی آواز دی ، حضرات! کچھ تو کہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر ایک صاحب نے اپنی جگہ سے اٹھ کر بڑے ہی احترام کے ساتھ پوچھا، مجھے اجازت ہے ۔
ہاں، ہاں، فرمائیے۔۔۔۔۔۔۔ایک آواز آئی۔
ہمیں ایک دستخطی مہم شروع کرنا چاہئے ، انہوں نے کہا۔ اُردو کی حمایت میں ہزاروں اور لاکھوں دستخطیں حاصل کر کے گورنر اور اس کی ایک کاپی وزیر اعلیٰ کو پیش کرنی چاہئے اور انہیں بتانا چاہئے کہ اُردو لاکھوں نہیں کروڑوں انسانوں کی زبان ہے ۔ میں سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔
آپ ٹھیک سمجھتے ہیں ، لیکن یہ وہ پرانی کہانی ہے جسے ہم کئی بار دہرا چکے ہیں مرحوم صدر ڈاکٹر ذاکر حسین کی خدمت میں ہم نے ایک نہیں دو دو بار یادداشتیں پیش کی تھیں ۔ ایک اس وقت جب وہ نائب صدر تھے اور دوسرے اس وقت جب وہ صدر تھے ، اور اس کے بعد اندرا جی کو۔
اندرا جی نے کہا تھا کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اب ہم کچھ نہیں کرسکتے ۔ یہ تحریک عوام کی طرف سے آنا چاہئے ۔ مزید اب یادداشت دینے سے کچھ نہیں ہوگا۔ وہ وقت ، وہ دور اور وہ زمانہ گزر چکا!
وہ صاحب خاموشی کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھ گئے ۔ کسی اور نے اپنی نشست پر بیٹھے بیٹھے کہا، میرا خیال ہے کہ۔۔۔۔۔۔
ارشاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارشاد!!
بہت سی آوازیں آئیں۔ یقینا بولنے والے صاحب بہت ہی وی، آئی ، پی قسم کے آدمی تھے ۔ انہوںنے اپنے جلتے ہوئے سگریٹ کی راکھ ایش ٹرے میں جھٹکی اور دوسرے ہاتھ سے سامنے رکھی ہوئی پلیٹ میں سے تلے ہوئے آلو کا ایک ٹکڑا اٹھایا اور م نہ میں رکھ کر برف کی طرح جیسے اسے گھولتے ہوئے بولے، میرا خیال ہے کہ ہمیں اتنا گھبرانے کی اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انڈین کانسٹی ٹیوشن نے ہمیں جو ضمانت دی ہے اور ہماری اردو کو قومی زبان کی فہرس میں جو شامل کیا ہے وہ بہت ہی اہم ہے ۔ ہم اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ ہمیں چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاں ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرمائیے!
پہلی صف میں تشریف فرما تمام معزز ارکان نے گویا ایک آواز میں کہا اور پھر سبھوں نے اپنے کان کھڑے کرلئے جیسے آسمان سے وحی نازل ہورہی ہو!
’’ہمیں چاہئے ‘‘ کے وی، آئی ، پی قسم کے صاحب ایک لمحے کے لئے چھپ ہوگئے، جلتے ہوئے سگریٹ کا آخری کش لیا۔ اور بڑے اسٹائیل سے سگریٹ کی گردن کو مروڑ کر ایش ٹرے میں دباتے ہوئے بولے ۔ ہم کو چاہئے کہ میمورنڈم میں کانسٹی ٹیوشن کا حوالہ دیتے ہوئے اتھاریٹیس کی توجہ اس فقرے پر مرکوز کرائیں کہ اردو ایک قومی سبان ہے۔ نیشنل لینگویج ، اور ہمارا حق ہے کہ۔۔۔۔۔پھر انہوںنے اپنا لہجہ بدل کر کہا، ہم کوئی بھیک تو نہیں مانگ رہے ہیں؟
ان کے ارشادات عالیہ پر تالیاں بجیں، گھبرا کر پاس ہی بیٹھے ہوئے ایک صاحب سے میں نے پوچھا، بھائی صاحب ! یہ کون صاحب ہیں؟
انہوں نے بڑی حقارت کی نظر سے مجھے دیکھتے ہوئے پوچھا، حیرت کی بات ہے، آپ انہیں نہیں جانتے!
میں نے کہا، یہ میری بد نصیبی ہے کہ ان سے ملنے یا ان سے واقف ہونے کا مجھے اب تک اعزاز نصیب نہیں ہوا۔ اب جو موقع ملا ہے تو آپ مجھے محروم کررہے ہیں ۔ بھلا بتائیے تو یہ کون صاحب ہیں؟
یہ وہی سابقہ وزیر ہیں جن کے زمانے میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی تھی ۔ لیکن جنہوں نے بڑی کامیابی کے ساتھ آگ پر قابو پالیا تھا۔اور حکومت کو سفارشی خط لکھاتھا کہ مہلوکین کے ورثاء کو ایک معقول رقم ادا کی جائے۔ انڈین کانسٹی ٹیوشن کے تحت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا، اچھا، آپ ہی ہیں وہ مشہو ر شخصیت ، بھئی انہیں کو ن نہیں جانتا۔ واہ، واہ بے قابو ہوکر میں نے تالی بجائی ۔ لیکن میری تالی بے وقت کی تالی تھی!
سبھوں نے مجھے گھور کر دیکھا اور مجھے یوں لگا جیسے پلک جھپکتے ہی میں ایک مہمان سے ناپسندیدہ اجنبی بن گیا ہوں!


A bitter truth "Mai Katha Sunata HuN" by Aatiq Shah - episode-14

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں