Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-10-28 - بوقت: 16:55

اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں

Comments : 0
Habib Jalib
یہ مزدوروں کے کسی جلسے کی تصویر تھی۔ کے ایم سی یا شاید کے پی ٹی کے مزدوروں کا کوئی احتجاجی جلسہ تھا۔ مزدور لیڈر کنیز فاطمہ کی تصویر کے ساتھ دو تین اور بھی تصویریں تھیں جن میں ایک نام کے ساتھ" اور حبیب جالب" لکھا ہوا تھا۔
اس تصویر کو سرسری سا دیکھا۔ مزدوروں کے جلسے تو ہر روز ہی ہوتے تھے۔ وہ تو خاتون کی تصویر دیکھ کر نظر پڑگئی ورنہ ایسی خبروں کوبھلا کون دیکھتا ہے۔ لیکن کچھ دنوں بعد ریڈیو پر ایک فلمی گیت سنا
اڑتے پتوں کے پیچھے اڑاتا چلا شوق آوارگی
میں نے ،جوکر، فلم دیکھ رکھی تھی جس کا یہ گیت تھا اور مجھے پسند بھی تھا۔ میرے چونکنے کی وجہ گیت کار کا نام تھا۔ مجھے کچھ یاد آیا کہ یہ نام کہیں سنا ہوا ہے۔ آخر کار وہ مزدوروں کے جلسے والی تصویر یاد آئی۔ اوہو۔ تو یہ مزدور لیڈر شاعر ی بھی کرتا ہے۔ یہ تو بڑے درد بھرے اشعار ہیں۔ وہ اگر مزدور ہے تو بھلا اس کے ذہن میں ایسے نازک اور نفیس خیالات کیسے آسکتے ہیں۔
پھر کچھ دنوں بعد ایک اور تصویر پر نظر پڑی۔ یہ نیشنل عوامی پارٹی کے جلسے کی تصویریں تھی اور خان عبدالولی خان، اجمل خٹک وغیرہ کی تصویر کے ساتھ ایک تصویر کے نیچے لکھا تھاـ" حبیب جالب نظم سناتے ہوئے۔"
اب یہ تو سمجھ آگیا تھا کہ یہ کوئی شاعر ہے۔ لیکن مزدور یونین اور سیاسی پارٹی سے تعلق کی وجہ کچھ سمجھ نہیں آئی۔
پھر ایک دن اخبار میں پڑھا کہ حبیب جالب کو شہر بدر کیا جارہا ہے۔پھرخبر آئی کہ حبیب جالب کو گرفتار کرلیا گیا۔
اور پھر حبیب جالب کے نام کے ساتھ جیل، قید اور گرفتاری جیسے لازم و ملزوم نظر آنے لگے۔
آئیں دیکھیں کہ یہ بندہ کون سے غیر قانونی کام کرتا تھا کہ اکثر سلاخوں کے پیچھے ہی نظر آتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوآبہ بہشت کا گلابہ،یعنی دریائے بیاس کے کنارے بسے، ضلع ہوشیار پور کے گاوں، میانی افغانہ کے ایک کچے گھر میں جب حبیب احمد نامی بچے نے آٓنکھ کھولی تو وہاں غربت و افلاس کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور شایدحبیب احمد زندگی بھر اس تنگدستی، بدحالی اور غربت سے نہ نکل پایا۔
یہ بچہ پیدا تو غریب کے گھر ہوا لیکن قدرت نے اس کی طبیعت میں کہیں ایک رومان پسند اور خواب دیکھنے والا انسان چھپا رکھا تھا۔ جس کی اپنی ایک خیالی دنیا تھی جو دنیا کو اپنے ڈھب پر دیکھنا چاہتا تھا لیکن اس کے خواب ہمیشہ ٹوٹ جاتے اور وہ جھلاہٹ کا شکار ہوجاتا۔ اس کا جی جلتا تھا کہ جیسی خوبصورت دنیا وہ چاہتا ہے دنیا والے ہی اسے بدصورت بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔
باپ نے اسے نانی کے پاس گاْوں میں چھوڑا ہوا تھا۔ نانی جو نابینا تھی لیکن جرابیں اورازار بند بن لیتی تھی جنہیں حبیب اور اس کا بڑا بھائی گلیوں میں آواز لگا کر بیچتے اور چھ آٹھ آنے کمالیتے جس سے ہفتہ بھر کی گھر کی روٹی کا انتظام ہوجاتا۔ سوکھی پسی مرچ، نمک اور پانی کے مکسچر میں ڈبو کر کھائی جانے والی اس روٹی کو وہ، چڑی میوہ، کہتے تھے۔
گاوں کے اسکول میں جیسے تیسے ساتویں تک پڑھا جہاں اس کی فیس معاف تھی ۔ سالانہ امتحان میں اردو کے پرچے میں ایک سوال تھا کہ لفظ سحر کو جملوں میں استعمال کرو۔ اس نے جملے کی بجائے شعر لکھ مارا۔ ماسٹر نے دیکھا تو خوش ہوا اور ،،بھئی تیں توشاعر ہوگیا ایں،، کہہ کر داد دی۔
یہ اس سفر کا آغاز تھا جس پر چل کر ،میانی افغاناں کا حبیب احمد، حبیب جالب بن گیا۔
لیکن آج اس شہر میں ، کل نئے شہر میں جانے کس لہر میں ، اڑتے پتوں کے پیچھے شوق آوارگی اڑاتے چلے جانے والےجالب کے لئے شعر اوادب کی دنیا صرف مشاعروں میں داد سمیٹنے تک محدود نہ تھی۔ اس کی رومان پسند لیکن باغیانہ طبیعت مزاحمتی شاعری کا استعارہ بن گئی۔
یوں تو ترقی پسند اور مزاحمتی شاعری میں مجاز، مخدوم محی الدین، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی ، ساحر لدھیانوی اور دوسرے بہت سے شاعروں نے ایک کٹھن سفر طے کیا لیکن جس طرح جالب نے ایک عام آدمی کے دکھ درد کو اپنااوڑھنا اور بچھونا بنایا اور دکھ کی اس بھٹی میں ساری عمر سلگتا رہا ایسی زندگی بہت کم شاعروں اور ادیبوں نے گذاری۔ یہاں تک کہ ہمارے دور کے سب سے بڑے شاعر فیض احمد فیض کو بھی یہ کہہ کر ماننا پڑے گا ،، بھئی جالب کی قربانیاں ہم سب سے بڑھ گئی ہیں،،
پابہ زنجیر، زنداں، دار و رسن یہ ہمارے ترقی پسند شاعروں کے پسندیدہ استعارے ہیں لیکن اکثر کے لئے صرف الفاظ کے علاوہ کچھ نہیں۔ بہت سے ایسے تھے جو عالیشان گھروں میں رہتے تھے، بہترین سوٹ پہنتے تھے، اعلیٰ قسم کی شرابیں پیتے اور بہترین سگار اور سگرٹ سے شوق کرتے لیکن بات کرتے خاک میں لتھڑے ہوئے، خون میں نہلائے ہوئے جسموں کی۔۔ ان کی زبان سے یہ سب کچھ سنکر واہ واہ کی آوازیں تو بہت بلند ہوتیں لیکن انہیں کوئی اپنے جیسا نہیں مانتا۔ ان میں اور ایک عام قاری میں ویسا ہی فرق اور فاصلہ ہوتا جو ایک مزدور اور سرمایہ دار میں ہوتا ہے۔
ہمارے ہی دور کے ایک ترقی پسند شاعر جن کی رومانی شاعری کا بھی بڑا شہرہ ہے لیکن قید وبند کی صعوبتوں سے بچنے کے لئے ولایت جلاوطن ہوجاتے ہیں اور وہاں سے حکومت کے خلاف غصے کو ملک پر نکالتے ہیں۔ انہیں یہاں دوبئی میں امرا کے گھر رہائش پذیر، ۱ور ان تمام عیاشیوں سے فیضیاب ہوتے دیکھا جو صرف اشرافیہ کا مقدر ہیں۔
خیر بات ہورہی تھی جالب کی۔۔ گاؤں سے ساتویں جماعت پاس کرکے جالب ، منتخب روزگاروں کے مسکن اور عالم میں انتخاب شہر دلی آگیا۔ یہاں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ مشاعروں میں جاتا جہاں مولانا ظفر علی خان، سائل دہلوی، بیخود دہلوی اور جگر مراد آبادی جیسے شاعروں کو سنتا۔
اور وہ جس کی فطرت ہی حسن پرست اور رومان پسند ہو اور طبیعت بھی موزوں ہو وہ بھلا اس ماحول کا اثر کیسے نہ قبول کرتا۔ اس نے بھی شعر کہنا شروع کئے جو ہرگز کسی نوآموز کی تک بندی نہیں تھی۔
اور انہی دنوں ملک کا بٹوارہ ہوا۔ اس کے والد تو دلی میں رہ گئے جہاں ان کی جوتوں کی دکان تھی۔ جالب دیگر خاندان والوں کے ساتھ کراچی آگیا جہاں جیکب لائن کے قریب بنی فوجی بیرکوں میں کسی کوارٹر میں سر چھپانے کو جگہ مل گئی۔ سال ڈیڑھ سال تو رشتہ داروں اور عزیزوں کو تلاش کرتے ہی گذرا۔ ذرا سکون ہوا تو میٹرک میں داخلہ لے لیا۔
لیکن تعلیم کا سلسلہ بار بار ٹوٹتا کہ گھر کے اخراجات پورے کرنے کے لئے اسے مزدوری کرنا پڑتی۔ کبھی بندرگاہ پر مال ڈھوتا، کبھی ریڈیو پر موقع مل جاتا جہاں نظمیں پڑھ کر چار پیسے مل جاتے۔
یوپی، لکھنئو، دلی اور حیدرآباد کے اساتذہ اور شاعر اب اس نئے شہر کراچی میں اکھٹے ہوتے جارہے تھے۔ حبیب کا مشاعروں کا شوق کراچی آکر پورا ہونے لگا۔ زیڈ اے بخاری ریڈیو پر مشاعرے کرواتے جہاں استاد قمر جلالوی، رئیس امروہوی، سیماب اکبر آبادی، آل رضا ور ہاشم رضا جیسے شاعروں کے ساتھ کبھی کبھار اسے بھی پڑھنے کا موقع ملتا اوراسکی تربیت بھی ہوتی رہی۔ صدر میں کوئی کافی ہاوس ہوا کرتا تھا جہاں صبح بیٹھتا تو شام کو ہی اٹھتا اور سارادن مارکسزم، سوشلزم اور سیاسیات پر بحث مباحثے ہوتے۔ ان دنوں پیسے کہاں ہوتے، ہر جگہ پیدل آنا جانا ہوتا۔ صدر میں کوئی پان بیچنے والا مل جاتا جو خود بھی شاعر ہے، آواز آتی ،، ارے بھئی جالب کہاں جارہے ہو۔ کچھ ہوا، کوئی نئی غزل؟ ارے بھئی یہاں تو دو غزلیں ہوگئیں۔ اور وہ چائے کے بغیر دو غزلیں پی کر آگے روانہ ہوتا۔
میترک میں اس کی جماعت میں جمیل نشتر بھی ہوتا جو سردار عبدالرب نشتر کا بیٹا تھا لیکن لیکن کبھی ظاہر نہ کرتا کہ کتنے بڑے باپ کا بیتا ہے۔ یہاں اس کے استاد ،مشہور مزاح نگار اور کالم نگارنصراللہ خان تھے جو جہانگیر روڈ پر سرکاری کوارٹروں میں رہتے تھے اور اسکی شاعری کے بڑے معترف تھے۔ اسے اپنے گھر لے آئے اور برآمدے کے ایک کونےمیں اس کا بستر لگوادیا۔ ان دنون وہ ،مست میانوی ،تخلص کیا کرتا تھا۔ نصراللہ صاحب کہتے مست میاں کوئی غزل سناو اور مست میاں شروع ہوجاتے یہاں تک کہ کہ خان صاحب اور انکی بیگم اونگھنے لگتے۔
میانی افغانہ سے دہلی، دہلی سے کراچی اور اب کراچی سے اس نے رخت سفر باندھا حیدرآباد کا جہاں مزدر اور ہاری لیڈر حیدربخش جتوئی کے جلسے میں شرکت کی اور اب حبیب جالب بن کر محنت کشوں کے جلسے کا لازمی جزو بن گیا۔ کوئی اسے عوامی شاعر کہتا، کوئی مزدوروں کا، تو کوئی مظلوموں کا اورکوئی اسے باغی شاعر کہتا۔
پھر امتداد زمانہ اور شوق آوارگی اسے شہر نگاراں ، لاہور لے آئے، جہاں پھر تعلیم شروع کی اور اورئینٹل کالج میں داخلہ لیا۔ ساتھ ہی روزنامہ ،آفاق، میں نوکری بھی مل گئی۔ یہاں شامیں پاک ٹی ہاوس میں گذرتیں۔ لیکن کچھ دنوں بعد پھر کراچی آگیا جہاں جمیل الدین عالی نے اسے کسی انکم ٹیکس افسر کے ہاں کام پر رکھوادیا۔ لیکن جالب بھلا ایک جگہ ٹک کر بیٹھ سکتا تھا۔ شوق آوارگی اب اسے لائلپور لے گیا۔ جہاں سعید سہگل نے اسے اپنے ہاں کام دے دیا لیکن کچھ دنوں بعد ایک مشاعرے میں جہاں سہگل بھی موجود تھا یہ اشعار سنا بیٹھا
شعر ہوتا نہیں اب مہینوں میں
زندگی ڈھل گئی مشینوں میں
پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان گلیوں میں۔
سعید سہگل سخت بد مزہ ہوا اور اسے نوکری سے نکال دیا اور یہ جالب کوباغیانہ شاعری کے ملنے والے صلے کا پہلا ذائقہ تھا۔
لائلپور ہی میں کوئی مشاعرہ تھا جہاں وہ اپنے بڑھے ہوئے بالوں، ملگجے کپڑوں اور ایک چادر میں لپٹا ہوا مشاعرہ پڑھنے پہنچ گیا۔ یہاں پاک وہند کے نامی گرامی شاعر موجود تھے۔ جگر صدارت کررہے تھے اور شوکت تھانوی ناظم مشاعرہ تھے جوجالب کو نظر انداز کررہے تھے اور زہرہ نگاہ کو سنوانا چاہتے تھے لیکن کچھ سوچ کر اسے دعوت دے دی۔ حاضرین زبردست ہوٹنگ کررہے تھے۔ اس کے فقیرانہ حلیے پر چوٹیں کسی گئیں۔ شوکت تھانوی یہی چاہتے تھے ، اس نے مطلع پڑھا
دل کی بات لبوں پر لاکر اب تک ہم دکھ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں
اور جب اس نے یہ شعر پڑھا
ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا لزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں
تو جگر صاحب نے سر اٹھا کر واہ واہ کہہ کر داددی۔ جالب نے مائیک چھوڑ کرجگرصاحب سے ہاتھ ملایا اور دوبارہ آکر شعر پڑھااور غزل مکمل کی
وہ جو ابھی اس راہ گذر سے چاک گریبان گزرا تھا
اس آوارہ دیوانے کو جالب جالب کہتے ہیں۔
اس ٓاوارہ دیوانے کی تخیل پسند اور رومان پرور طبیعت نے پاکستان کے لئے جو خواب دیکھے تھے وہ ایک ایک کرکے ٹوٹتے بکھرتے گئے۔ نہ وہ ماحول نہ وہ فضا، بے کاری، بے روزگاری، ظلم وجبر، طبقاتی تقسیم اپنی بدترین صورت میں اور جمہوریت کی مخدوش صورتحال۔ اس کی حساس طبیعت ترقّی پسند تحریک کی طرف مائل ہوتی چلی گئی جہاں ممتاز حسین، ابراہیم جلیس، ظہور نظر، احمد ندیم قاسمی جیسوں کا ساتھ ملا۔
مجاز لکھنوی کراچی آئے۔ وہ حبیب کو اپنے ساتھ رکھتے اور خود سے پہلے اس کا کلام سنواتے۔اب وہ مشاعروںکا مقبول شاعر تھا۔ فلموں کے لئے بھی لکھتا رہا۔ اور انہی دنوں میں کبھی اپنے خوابوں کو تعبیر دینے کے لئے نیشنل عوامی پارٹی میں شامل ہوگیا۔ اسکی شاعری کو حسین شہید سہروردی جیسے لوگ بھی سراہتے۔ لیکن اس کو عوامی اور باغی شاعر کی پہچان جشن مری کے مشاعرے سے ملی۔
یہ ۱۹۶۲ کی بات ہے۔ ایوب خان کا دستور نافذ ہوچکا تھا۔ جشن مری کے مشاعرے میں منظور قادر، وزیر قانون بھی موجود تھے۔ جالب نے غزل کی بجائے نظم سنانے کا اعلان کیا۔ کچھ سینئیر شعرا کو اندازہ تھا کہ وہ کیا کہنے جارہا ہے۔ آوازیں آنا شروع ہوئیں ، یہ کیا کر رہے ہو، کیا کررہے ہو۔
اس نے اپنے مخصوص ترنم میں نظم شروع کی
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
اور مقظع تھا
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا۔
آمر کی حکومت کا دور تھا، ہال میں قبرستان کا سا سناٹا تھا۔ لوگ سہمے بیٹھے تھے۔ یکایک چونکے، جالب نے گویا ان کو زبان دیدی۔ اب وہ نعرہ زن ہوگئے بار بار ہر بند کو سنتے۔ وہ اپنی جگہ آبیٹھا۔ ایک سینئیر شاعر نے کہا موقع نہیں تھا۔ ،، میں موقع پرست نہیں،، یہ حبیب کا جواب تھا۔
اور ایک نجی محفل میں منظور قادر کو کہنا پڑاکہ اب مرا دستور نہیں چلتا۔ ایک لڑکا دستور پڑھ گیا ہے اب وہی دستور چل رہا ہے۔
دس سال کے لئے مری میں جالب کا داخلہ بند ہوگیا۔ اور قید وبند، شہربدری اور نظربندی کا جو سلسلہ چلا تو موت تک جاری رہا۔
۱۹۶۴ میں مادر ملت کے انتخابی جلسوں میں جالب کی نظمیں لازم و ملزوم ہوتیں۔ وہ ارباب اختیار کی نظروں کا کانٹا بن گیا۔ طرح طرح کے الزام لگاکر اسے پابند سلاسل کیا جاتا۔ کبھی شراب بیچنے کا الزام لگتا، کبھی جوے بازی جیسے گھٹیا الزام لگائے جاتے۔ لیکن وہ باز نہ آتا۔ انہی دنوں کسی مقدمے میں ضمانت پر رہا ہوا اور باہر آتے ہی صدر ایوب کا قصیدہ پڑھا۔
بیس گھرانے ہیں آباد
اور کروڑوں ہیں ناشاد
صدر ایوب زندہ باد۔
شہنشاہ ایران پاکستان آیا۔ کسی تقریب کے لئے اداکارہ اور رقاصہ نیلوسے رقص کے لئے غیر مہذبانہ اندازختیار کیا گیا۔ نواب کالاباغ کے غنڈوں نے نیلو سے گالی گلوچ کی اور طمانچہ مارا۔ نیلو سے یہ توہین برداشت نہیں ہوئی۔ صدمے کے مارے اس نے خواب آور گولیاں کھالیں۔
حبیب جالب نے نظم کہی
تو کہ ناواقف آداب شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے۔
ایوب خان کا اعصاب شکن دور تھا۔ معاہدہ تاشقند کے بعد ایوب کے بھٹو سے اختلافات ہوگئے۔ بھٹو پر دباؤ ڈلا گیا کہ ملک چھوڑ کر چلاجائے۔ جالب نے حوصلہ دلایا
دستِ خزاں میں اپنا چمن چھوڑ کے نہ جا
آواز دے رہا ہے وطن، چھوڑ کے نہ جا
اے ذوالفقار تجھے قسم ہے حسین کی
کر احترام رسم کہن، چھوڑ کے نہ جا
بھٹو نے بھی وقت آنے پر جالب کی مدد کی اور ایک موقع پر اس کے امدادی فنڈ کے لئے ساڑھے چار سو روپے چندہ دیا اور پھر یہی بھٹو تھا جس نے آمروں کی روایت پر چلتے ہوئے جالب کو سلاخوں کے پیچھے دھکیلا بلکہ کئی بار دھکیلا۔
جالب پر رزق کے دروازے بند ہوتے گئے۔ جیل ، قید، صوبہ بدری ، شہر بدری اس کا مقدر بن گئے۔ اس کا حوصلہ توڑنے کی ہر ایک کوشش کی جاتی، لالچ بھی دئیے جاتے۔
حفیظ جالندھری ان دنون ایوب خان کے مشیر ہوگئے تھے۔ وہ ایوب کو مشورہ دیتے کہ مسلمان ڈنڈے کا ہی گاہک ہے۔وہ ایسے ہی سیدھے رہ سکتے ہیں۔ یہ بات انہوں نے جالب کو بتائی۔
جالب نے حفیظ کی ترجمانی یوں کی
میں نے اس سے یہ کہا
یہ جو دس کروڑ ہیں، جہل کا نچوڑ ہیں
ان کی فکر سوگئی، ہر امید کی کرن،ظلمتوں میں کھو گئی
یہ خبر درست ہے، ان کی موت ہوگئی۔
اپنی تو ہے دعا، صدر رہے تو سدا، میں نے اس سے یہ کہا۔
ایوب جاتے جاتے اپنے پیٹی بھائی کو اقتدار سونپ گیا۔
جالب یحییٰ خان سے یوں مخاطب ہوا
تم سے پہلے وہ جوایک شخص یہاں تخت نشین تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقین تھا
انتخابات ہوگئے لیکن قومی اسمبلی کا اجلاس نہ بلوایا گیا جس میں مغربی پاکستان کےاکثریتی لیڈر کی بھی مرضی شامل تھی۔مشرقی پاکستانی شکایت کرتے رہے۔ جالب نے جو کچھ اس وقت کہا تاریخ نے اسے سچ ثابت کردکھایا۔
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقین مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو۔
اور پھر بھٹو دور میں نیلو والی کہانی اداکارہ ممتاز کے ساتھ دہرائی گئی۔ اسے جبراًلاڑکانے چلنے کہا گیا۔
حبیب بھلا خاموش رہتا۔
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا لاڑکانے چلو
ورنہ تھانے چلو
حاکموں کو تم بہت پسند آئی ہو، ذہن پر چھائی ہو
جسم کی لو سے شمعیں جلاتے چلوغم بھلاتے چلو
ورنہ تھانے چلو۔
اور پھر آمریت کا ایک اور سیاہ دور ضیاءکی صورت میں آیا۔ اب قیدو بند سے بڑھ کر کوڑوں، اور پھانسی کا سلسلہ شروع ہوا۔دوسری طرف گدھ نما سیاسی مسافر ضیاء کے ساتھ ہوتے گئے اور اس کی تعریفوں مین زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے۔
ان خوشامدیوں کو جالب نے یوں لتاڑا
ظلمت کو ضیا، صرصر کو صبا، بندے کو خدا کیا لکھنا
ورثے میں ہمیں یہ غم ہے ملا، اس غم کو نیا کیا لکھنا
اب بھلا ایسا شخص پاکستان جیسے ملک میں اور وہ بھی آمروں کے دور میں بھلا کیسے سکون سے رہ سکتا تھا۔ قید وبند اس کی عادت بن گئی تھی۔ جیل اس کا دوسرا گھر تھی اور شاید آدھی سے زیادہ زندگی سلاخوں کے پیچھے گذری تھی۔
لیکن وہ شاعر تھا، حسن پرست، رومان پسند اور شعروغناء کا پرستار۔ جیل میں اسے لتا منگیشکر کی آواز جینے کا حوصلہ دیتی
تیرے مدھر گیتوں کے سہارے، بیتے ہیں دن رین ہمارے
تری اگر آواز نہ ہوتی، بجھ جاتی جیون کی جیوتی
جیل میں وہ ایسا ہی پرسکون رہتا گویا گھر کے ڈرائنگ روم میں ہے۔ ایک بار وہ جہانگیر بدر اور دوسرے لوگوں کے ساتھ بند تھا۔ جیلر اس کی رہائی کا پروانہ لے کر آیا۔
جالب دوستوں کے ساتھ تاش کھیل رہا تھا۔ نطریں اٹھائے بغیر جیلر سے پوچھا رہائی مشروط ہے یا غیر مشروط۔
جیلر نے بتا یا کہ تمہیں بھلا غیر مشروط رہائی کیسے مل سکتی ہے۔
،، تو پھر جاو، پتے اچھے آئے ہیں، مجھے تاش کھیلنے دو۔،،
اس کے نوعمر بیٹے کا سوئم تھا۔ پولیس آئی اور اسے پکڑ کر تھانے لے گئی۔ اس کا حوصلہ توڑنے کی ہر طرح سے کوشش کی جاتی۔ضیاالحق کے زمانے میں چودھری ظہور الہی نے پانچ ہزار کی نوکری کی پیشکش کی۔ چودھری صاحب سے جالب کی دوستی تھی۔ بڑے پیار سے ان سے کہا۔ ہم آپ کے ساتھ بس اتنے ہی ہیں۔ یہ پانچ ہزار مجھے بہت پریشان کریں گے۔
سناہے کہ چودھری شجاعت نے حکومت کی طرف سے پانچ لاکھ کی پیشکش کی جسے جالب نے ٹھکرادیا۔ بے نظیر نے اس کی خدمات کے صلے میں پچاس ہزار کا ایوارڈ پیش کیا لیکن جالب اپنے آپ کو ایوان اور ارباب حکومت سے دور ہی رکھتا تھا۔ ایوارڈ نہ لیا۔
اس کی باغیانہ شاعری نے اس کی رومانی شاعری کو نظروں سےاوجھل کردیا۔ ایک بار اس کے اس شعر کو مولانا مودودی نے دوبار پڑھنے کی فرمائش کی
کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالب
چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں۔
اس خوش گلو شاعر کو وہ شعری مقام نہیں دیا گیا۔ سارے شعرا اور موسیقار جس سے محبت کرتے تھے۔ بمبئی میں موسیقار اعظم نوشاد کے گھر شکیل بدایونی نے فرمائش کی کہ وہ سناؤ
محبت کی رنگینیاں چھوڑ آئے۔۔۔۔ترے شہر میں اک جہاں چھوڑ آئے
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا۔۔۔جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے.
قیدوبند کے باوجود وہ خوبصورتی، موسیقی اور ترنم کا پرستار رہا۔ لتا، محمد رفیع، سہگل، فریدہ خانم، اقبال بانو ، بڑے غلام علی، برکت علی خان کو شوق سے سنتا۔ بچپن میں ایک پہاڑن کے حسن اور اواز کا دیوانہ ہوا تو جوانی می ں ایک بنگالی حسینہ کی آواز کا اسیر ہوا۔
نورجہاں کے لیے کہا
ہو ناز کیوں نہ مقدر پہ اپنے نورجہاں
تجھے قریب سے دیکھا تری آواز سنی
اورپھر نورجہاں نے جالب کا وہ امر گیت بھی گایا
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے تم ہی کہو۔
لیکن عہد سزا، برگ آوارہ، سر مقتل اور حرف حق جیسے شہرہ آفاق شعری مجموعوں کا مالک ، جالب اپنے ٹوتتے خوابوں کے باوجود ایک پر امید شخص تھا۔
میں ضرور آوں گا ایک عہد حسین کی صورت
دکھ میں ڈوبے ہوئے دن رات گذر جائیں گے
غم کے ماروں کی ہر ایک شام چمک اٹھے گی
صبح فرخندہ جبیں کی صورت
میں ضرور آوں گا اک عہد حسین کی صورت۔
اور اسی امید کو لئے ہوئے وہ آوارہ دیوانہ جسے جالب جالب کہتے تھے ، ۱۳ مارچ ۱۹۹۳ کو ہمیشہ کے لئے پرسکون اور شانت ہوگیا۔

بشکریہ: فیس بک تحریر از- شکور پٹھان
***
شکور پٹھان
شارجہ، متحدہ عرب امارات
شکور پٹھان

Habib Jalib the legend, a Memoir by Shakoor Pathan.

0 comments:

Post a Comment