Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-09-06 - بوقت: 17:25

وزیراعظم مودی روہنگیوں کا مسئلہ اٹھائیں - ایمنسٹی انٹرنیشنل

Comments : 0
نے پتیا(میانمار)
پی ٹی آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا ہے کہ انہوں نے میانمار کے صدر تن یا کے ساتھ بہت شاندار ملاقات کی ۔ جس کے دوران انہوں نے دونوں پڑوسیوں کے درمیان تاریخی تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے اقدامات کے بارے میں بات چیت کی۔ مودی نے پہلے باہمی دورے پر میانمار پہونچنے کے بعد صدر سے ملاقات کی ۔بعد میں انہوں نے ٹویٹر پر اپنی ملاقات کی بعض تصویریں پوسٹ کیں اور لکھا کہ انہوں نے صدر یو ان یا سے ایک بہترین ملاقات کی ہے۔ انہوں نے میانمار کے صدر کو دریائے سلوین کا1841کا ایک نقشہ پیش کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بدھ ٹری کا مجسمہ بھی تحفے میں دیا۔ مودی چین میں برکس ملکوں کی چوٹی کانفرنس میں شرکت کے بعد اپنے دو روزہ دورے کے آخری مرحلے میں میانمار کے شہر نے پیتا پہونچے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے ٹویٹر پر صدر کی جانب سے مودی کے استقبال کی بعض تصاویر پوسٹ کیں۔ وزیر اعظم کا میانمارمیں یہ دورہ ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب راکھین ریاست میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کے الزامات لگاے جارہے ہیں ۔ مودی چاہر شنبہ کو میانمار کی سرکاری کونسلر اور عملاًحکمراں آنگ سانگ سوچی سے وسیع بات چیت کریں گے ۔ توقع ہے کہ وہ پڑوسی ملکوں میں روہنگیا مسلمانوں کی نقل مکانی کا مسئلہ اٹھائیں گے ۔ حکومت ہند ملک میں روہنگیا مسلمانوں کی موجودگی کے تعلق سے فکر مند ہیں اور انہیں ملک سے باہر کرنے پر غور کررہی ہے۔ کہاجاتا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً چالیس ہزار روہنگیا غیر قانونی طور پر مقیم ہیں ۔ ایک ایسے وقت جب وزیر اعظم نریندرمودی نے میانمار کا سرکاری دورہ شروع کیا ہے انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے ان سے کہا ہے کہ وہ اس ملک کی قیادت پر تشدد سے متاثرہ راکھین ریاست میں روہنگیوں کی مدد فراہم کرنے پر زور دیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیم نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو روہنگیا فوجیوں اور ہندوستان میں پناہ کے متلاشی افراد کو ملک سے باہر کرنے کی دھمکی دینے کے بجائے ان کی مددکرنی چاہئے ۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل انڈیا کے ایکزیکٹیو ڈائرکٹر آکار پٹیل نے یہ بات کہی۔

Protect Rohingyas: Amnesty International to Modi

0 comments:

Post a Comment