Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-04 - بوقت: 11:54

چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کا سفارتی حل ممکن - سشما سوراج

Comments : 0
چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کا سفارتی حل ممکن - سشما سوراج
نئی دہلی
پی ٹی آئی
ہندوستان نے آج کہا کہ چین کے ساتھ سرحدی تعطل کو جنگ کے ذریعہ حل نہیں کیاجاسکتا بلکہ اس کی باہمی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کی جاسکتی ہے ۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے راجیہ سبھا میں کہا مسائل کی یکسوئی کے لئے صبر کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ کیونکہ صبر ختم ہوجانے پر دوسرے فریق کی جانب سے اشتعال انگیزی ہوسکتی ہے ۔ چین کے ساتھ ڈوکلم تعطل کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے صبر کو برقرار رکھیں گے ۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور جنگی نوعیت کے شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کے زیر عنوان بحث کا جس کے دوران ارکان میں تعطل پر اظہار تشویش کیا اور ہندوستان کی پالیسی پر سوالات اٹھائے جواب دیتے ہوئے سشما سوراج نے کہا ’’ہم تنازعہ کی یکسوئی کے لئے چین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھیں گے۔ مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوج ہمیشہ ہی تیار ہرتی ہے کیونہک فوج جنگیں لڑنے کے لئے ہوتی ہے ۔ وزیر خارجہ نے پر زور الفاظ میں کہا’’ لیکن جنگ مسائل کا حل نہیں ہوسکتی لہٰذا عقل مندی یہ ہے کہ ان کو سفارتی سطح پر حل کیاجائے۔ انہوں نے اپنے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ اس مسئلہ کو باہمی بات چیت کے ذریعہ حل کرلیاجائے گا۔ آئی اے این ایس کے بموجب وزیر خارجہ سشما سوراج نے ڈوکلم میں چین کی کارروائی پر تشویش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان سفارتی سطح پر چین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھے گا تاکہ سرحدی تعطل کی یکسوئی عمل میں لائی جاسکے اور یہ کہ جنگ کسی بھی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہمیں صبر کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے اور ڈپلومیسی کو برقرار رکھنا چاہئے جنگ سے کوئی حل نہیں نکلے گا کیونکہ جنگ کے بعد بھی بات چیت کی ضرورت پیش آتی ہے ۔ جنگ سے حل تلاش کو تلاش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے راجیہ سبھا میں اپنی جارحانہ تقریر میں کہا’’ وقت بدل رہا ہے اور جنگی نوعیت کی طاقت نہیں بلکہ معاشی طاقت سے کسی بھی ملک کی طاقت کا اندازہ قائم کیاجارہا ہے ، اگر مذاکرات ہوں گے ضرور حل نکل آئے گا۔ انہوں نے بالخصوص پڑوسیوں کے ساتھ سفارتی تعلقات سے متعلق حکومت کے انداز پر خارجہ پالیسی بحث کے دوران اپوزیشن کی تنقید کو مسترد کردیا۔ اسی دوران نئی دہلی سے موصولہ آئی اے این ایس کے ایک اور اطلاع کے بموجب وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہا کہ پاکستان کے تعلق سے ہندوستان کا روڈ میاپ واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ دہشت گردی اور بات چیت کو یکجا نہیں کیاجاسکتا ۔ وزیر موصوفہ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے دہشت گردی کے سلسلہ میں مسلسل ساتھ دیتے ہوئے اور کشمیر میں مداخلت کرتے ہوئے باہمی مذاکرات کو ناکام بنادیا ہے ۔ راجیہ سبھا میں ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کا جواب دیتے ہوئے سشما سوراج نے کہا ’’اگر آپ روڈ میاپ کی بات کرتے ہیں ہم نے روڈ میاپ تیار کرلیا تھا۔ یہ روڈ میاپ امن و دوستی اور پاکستان کے استحکام سے تعلق رکھتا تھا ۔ لیکن روڈ میاپ پر کسی ایک فریق کی جانب سے ہی عمل آوری نہیں کی جاسکتی ۔ انہوں نے کہا’’ دہشت گردی اور بات چیت یکجا نہیں ہوسکتے۔ یہ روڈ میاپ ہے جس دن دہشت گردی رک جائے گی بات چیت شروع ہوجائے گی۔ سشما سوراج نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات2016کے دوران پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈہ پر حملہ کے بعد خراب نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ اس وقت خراب ہوگئے جب وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے انتہا پسند کمانڈر برہان وانی کو گزشتہ جون کے دوران ہندوستانی سیکوریٹی فورسس کی جانب سے انہیں گولی مار کر ہلاک کردئیے جانے کے بعد ایک مجاہد آزادی کو شہید قرار دیا۔
Doklam standoff with China can be resolved through talks: India

بینکنگ ریگولیشن ترمیمی بل لوک سبھا میں منظور
نئی دہلی
یو این آئی
غیر فعال اثاثہ جات( این پی اے) کے بوجھ تلے دبے سرکاری بینکوں کو راحت فراہم کرنے کے لئے ریزروبینک کو وسیع ریگولیٹری اختیارات دیے جانے سے متعلق بینک ریگولیشن( ترمیمی) بل2017آج لوک سبھا میں صوتی ووٹ سے منظور کیا گیا۔ یہ بینکاری ریگولیشن ترمیمی آرڈیننس2017کی جگہ لے گا ۔ اس سال مئی مہینے میں یہ آرڈیننس نافذ کیا گیا تھا۔ قبل ازیں اس بل کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے اعتراض کیا تھا کہ اس بل سے متعلق آرڈیننس کو مشتہر کیا گیا تھا ۔ تاہم ان کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے لوک سبھا نے قرار داد کو صوتی ووٹوں سے منظور کرلیا۔اس نئے قانون کے تحت ریزروبینک کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ پھنسے ہوئے قرض کی وصولی کے لئے ضروری کارروائی شروع کرنے سے متعلق ہدایات بینکوںکو دے سکے۔ عوامی شعبہ کی بینکوں کی پھنسی قرض کی رقم یعنی غیر فعال اثاثہ جات(این پی اے) کے چھ لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی بلند ترین ناقابل قبول سطح پر پہنچ جانے کے پیش نظر یہ قانون لایا گیا ہے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے لوک سبھا میں بل پر بحث کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی ترقی کو سہارا دینے کے لئے ملک میں ایک مضبوط بینکاری نظام کی ضرورت ہے ۔ صنعتی سر گرمیوں کو فروغ دینے والے عوامی شعبہ کے بینکوں کا این پی اے قرض مجموعی طور پر13.11فیصد کی تشویشناک سطح پر پہنچ چکا تھا۔ لہذا اس چلن پر روک لگانے کے لئے ریزر بینک کو وسیع اختیارات دینے کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ موجودہ ترمیمی بل اسی مقصد کے تحت لایا گیا ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کے موجودہ وقت میں بینکوں کی قرض وصولی کے لئے بنے قانون بے معنی ہوگئے تھے ۔ ایسے میں اس کی جگہ پر ایک نیا مضبوط قانون لانا بہت ضروری تھا۔ انہوں نے اس شبہ کو بے بنیاد قرار دیا کہ نیا قانون آنے کے باوجود قرض ادا نہ کرنے والے بڑے تاجروں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے تحت اب تک12بڑے قرض نا دہندگان کے خلاف قانونی کاروائی شروع کردی گئی ہے ۔ آگے اس کے شکنجے میں اور بھی کئی بڑے لوگ آئیں گے ۔ بینکنگ ریگولیشن ترمیمی بل2017ء میں بینکنگ ریگولیشن ایکٹ1949ء میں ترمیم کرنے کی تجویز ہے ۔ بینکنگ ریگولیشن ترمیمی بل 2017ء پر بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے اعلان کیا کہ ملک کی بین ریاستی چٹ فنڈ کمپنیز کو باقاعدہ کے لئے حکومت مسودہ بل تیار کررہی ہے ۔ جیٹلی نے کہا کہ چٹ فنڈ کمپنیز ایک تا دو فیصد زائد شرح سود کی فراہمی کا پیش کش کرتے ہوئے ڈپازیٹرس کو اپنی رقومات ان کی کمپنیوں میں جمع کرنے راغب کررہی ہیں اس طرح یہ کمپنیز ڈپازیٹرس کی سخت محنت کی کمائی سے کھیل رہے ہیں ۔ تمام جماعتوں کے ارکان کی جانب سے کئے گئے مطالبات پر اپنی رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے جیٹلی نے کہا کہ چٹ فنڈ کمپنیز سے عوام کو ہونے والے مصائب کا معاملہ تمام ارکان نے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چٹ فنڈز لئے بغیر وزیر فینانس نے کہا کہ چٹ فنڈ کمپنیز ایک ہی ریاست میں کام کرنے والی چٹ فنڈ کمپنیز کے لئے علیحدہ بل لایاجاسکتا ہے لیکن مرکز پہلے ایک سے زیادہ ریاستوں میں مصڑوف کمپنیز سے متعلق بل لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ معمرین اور وظیفہ یاب افراد اس طرح کی کمپنیز سے محفوظ ہیں کیونکہ حکومت نے ان کے لئے پردھان منتری وایا وندانا یوجنا معمرین کے لئے لایا گیا ہے۔

ملک میں 75 فیصد ایمر جنسی جیسی صورتحال
بی جے پی مرکزی ایجنسیوںکا غلط استعمال کررہی ہے: لالو پرساد یادو
پٹنہ
ایجنسیاں
آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو نے نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس نے ملک میں75فیصد ایمر جنسی کی صورتحال پیدا کردی ہے ۔ اپنے الزام کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی ایجنسیوں کو جس طرح غلط طور پر استعمال کیاجارہا ہے اسے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ملک میں ایمر جنسی نافذ ہے ۔ انہوں نے بنگلور میں وزیر برقی کرناٹخ ڈی کے شیوا کمار کی رہائش گاہ پر انکم ٹیکس سراغ رسانوں کے حالیہ دھاوں اور انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی ٹیم کی جانب سے اس ریزارٹ کے جہاں پر44کانگریس ارکان اسمبلی ٹھہرے ہوئے ہیں معائنہ کے مثالیں پیش کیں۔ لالو پرساد نے جو آ ج پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایسا اس لئے کیا تاکہ کانگریس کو خوفزدہ کیاجاسکے ۔ انہوں نے بتایا کہ بی جے پی کے مطابق ریزارٹ میں9کروڑ روپے تھے لیکن انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے سراغ رسانوں کو دھاوے کے دوران کچھ بھی نہیں ملا ۔انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ بی جے پی سے وابستہ ہیں کئی اسکامس میں ملوث ہونے کے باوجود آزدانہ طور پر گھوم رہے ہیں ۔ انہوں نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ پاکستان نے نواز شریف کو پناما پیپرس میں ان کے ملوث ہونے کے بارے میں پتہ چلنے کے بعد کس طرح مستعفیٰ ہوجانے پر مجبور کردیا۔ لالو پرساد نے وضاحت کی ایشوریہ رائے، رمن سنگھ کے بیٹے، امیتابھ بچن وغیرہ اور دیگر424افراد کے نام پناما پیپرس میں ہیں۔ اس کے باوجود اس معاملہ کے سلسلہ میں کوئی تحقیقات نہیں کی گئی ہے ۔

نوٹا کو روکنے سے سپریم کورٹ کا انکار
راجیہ سبھا انتخابات کے لئے گنجائش2014سے موجود: عدالت عظمیٰ
نئی دہلی
آئی اے این ایس
سپریم کورٹ نے آج گجرات میں آنے والے راجیہ سبھا انتخاب میں نوٹا(ان میں سے کوئی نہیں) کی گنجائش فراہم کرنے الیکشن کمیشن کے اعلامیہ پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کردیا ۔ جسٹس دیپک مشرا، جسٹس امیتا ؤ رائے اور جسٹس اے ایم کھنویلکر پر مشتمل بنچ نے اس اعلامیہ پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کردیا تاہم انہوں نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ13ستمبر کو مقرر انتخاب کے لئے اس اعلامیہ کے دستوری جواز کا جائزہ لے ۔ بنچ نے نوٹا کے خلاف درخواست داخل کرنے میں تاخیر پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر آپ (درخواست گزار) اتنی دیر سے رجوع کیوں ہوئے؟ جب یہ آپ کے لئے موزوں تھا تب آپ نہیں آئے ۔ آپ انتخابات سے عین قبل رجوع ہوئے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے جنوری2014اور پھر2015میں یہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔ آپ نے اس وقت کوئی کارروائی نہیں کی کیونکہ یہ آپ کے ساتھ نا انصافی نہیں تھی لہذا آپ خاموش رہے۔ یہ حکم، گجرات اسمبلی میں کانگریس کے چیف وہپ شیلیش منو بھائی پرمار کی درخواست پر صادر کیا گیا جو یکم اگست کو جاری کردہ اعلامیہ کی منسوخی کے لئے عدالت سے رجوع ہوئے تھے جس کے ذریعہ گجرات میں8اگست کو مقرر انتخاب کے لئے نوٹا کی گنجائش فراہم کی گئی ہے۔ عدالت کی جانب سے اعلامیہ پر حکم التوا جاری کرنے سے انکار کے بعد سینئر وکیل کپل سبل نے جو پرمارکی طرف سے پیش ہوئے کہا کہ اس انتخاب میں نوٹا کو شامل کرنے سے کرپشن کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ سبل نے عدالت سے کہا کہ نوٹا کو شامل کرنے سے کرپشن کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ یہ کرپشن کا نسخہ ہے ۔ اگر آپ نوٹا سے متعلق اعلامیہ پر حکم التوا جاری نہ کریں تو لوگوں کوووٹ خریدنے کی اجازت مل جائے گی۔ کپل سبل نے کہا کہ قانون اور قواعد میں ترمیم کیے بغیر الیکشن کمیشن کی جانب سے نوٹا متعارف کرنا بادی النظر میں غیر قانونی اور من مانی ہے ۔

0 comments:

Post a Comment