Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-08-09 - بوقت: 17:20

نوٹ بندی صدی کا سب سے بڑا اسکام - راجیہ سبھا میں اپوزیشن کا ہنگامہ

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
اپوزیشن کانگریس اور ٹی ایم سی کے علاوہ جنتادل یو نے آج پانچ سو اور ہزار روپے کے دو مختلف ٹائپ کے نوٹوں کی طباعت کا مسئلہ راجیہ سبھا میں اٹھایا ، جس کی وجہ سے ایوان کی کارروائی کو کئی مرتبہ ملتوی کرنا پڑا ۔ اپوزیشن نے دو مختلف اقسام کی نوٹوں کی طباعت کو صدی کا سب سے بڑا اسکام قرار دیا۔ نعرے لگاتے ہوئے کانگریس کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور قائد ایوان وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی ایک غیر متعلقہ امور کو بغیر کسی نوٹس دئیے گئے موضوع بحث بنارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ اس قدر اہمیت کا حامل نہیں ہے جس طرح کہ اپوزیشن کی جانب سے اہمیت دی جارہی ہے ، جس کی وجہ سے وقفہ صفر کی کارروائی کو ملتوی کرنا پڑ رہا ہے ۔ شردیادو جنتادل یو نے ایک ہی مالیت کے بعض کرنسی نوٹس کی نقولات پیش کیں۔ بعض ارکان جن میں ڈیرک ابورائن ٹی ایم سی شامل ہیں۔ پانچ سو روپے کے نئے نوٹس دکھائے ، جو کہ نوٹوں کی تنسیخ کے بعد جاری کئے گئے ہیں، جن کا سائز مختلف ہیا ور یہ دو مختلف سائز میں طبع کئے گئے ہیں۔ انہوں نے پہلے یہ نوٹ مرکزی وزیر ارون جیٹلی کو پیش کیا اور اس تعلق سے وضاحت طلب کرنے کی خواہش کی کہ آیا کس وجہ سے دو مختلف سائز کے نوٹوں کی طباعت عمل میں لائی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پانچ سو روپے اور ایک ہزار روپے کے دو مختلف اقسام میں نوٹوں کی طباعت عمل میں لائی گئی ہے ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ وقفہ صفر کا غیر متعلقہ مسئلہ کا استعمال کیاجارہا ہے ۔ کانگریس نے پہلے اس مسئلہ کو اٹھایا ۔ ارون جیٹلی نے کہا کہ بغیر کسی نوٹس کے یہ ایک غیر ضروری مسئلہ کو پیش کیا جارہا ہے ، تاکہ ایوان کی کارروائی میں خلل پیدا کیاجائے ۔ کانگریس کے قائد کپل سبل نے کہا کہ نئے بڑے مالیتی نوٹس مختلف سائز میں طبع کئے جارہے ہیں ، جن میں سے ایک بر سراقتدار پارٹی کے ارکان کے لئے اور دوسرے دیگر افراد کے لئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کس لئے حکومت نے گزشتہ سال نومبر میں پانچ سو اور ہزار روپے کے نوٹوں کی تنسیخ عمل میں لائی ۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد کانگریس نے کہا کہ یہ ملک میں سب سے بڑا اسکام ہے ۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد اور وزیر پارلیمانی امور مختار عباس نقوی نے حکومت کے موقف کی مدافعت کی۔ نائب صدر پی جے کورین نے کہا کہ اگر دو اقسام کے نوٹ ہوں تو اس کو پائٹ آف آرڈر کے تحت نہیں لیا جاسکتا ۔ ترنمول کانگریس کے قائد ڈیرک اوبرائن نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے ۔ انہوں نے پانچ سو کے دو نوٹس دکھائے، جن کا سائز اور ڈیزائن جداگانہ ہے ۔ پرساد نے اپوزیشن ارکان سے کہاکہ انہیں یہ وضاحت کرنی چاہئے ۔ کہ انہوں نے یہ کرنسی نوٹس کہا ں سے حاصل کئے، شرد یادو جنتادل نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی ملک میں دو مختلف سائز کے دو نوٹس نہیں ہیں ۔ ایک نوٹ چھوٹی اور دوسری نوٹ بڑی ایسی کسی بھی ملک میں زیر گشت نہیں ہیں، جب کہ ان دونوں نوٹوں کی مالیت ایک ہی ہے ۔ نائب صدر نشین پی جے کورین نے کہا کہ وہ کوئی ماہر نہیں ہیں کہ وہ ان نوتوں کے تعلق سے جائزہ لے سکیں ۔ میں یہ وزیر فینانس کو دوں گا ، جس پر اوبرائن نے کہا کہ آپ وزیر فینانس کو دیںِ مجھ پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کانگریس کے قائد آنند شرما نے کہا کہ ملک میں گشت کرنسی کے تعلق سے شک و شبہ کیاجاسکتا ہے ۔ کانگریس کے قائد پرمود تیواری نے کہا کہ اس سلسلہ میں نوٹس دے دی گئی ہے ، جس پر کرین نے کہا کہ صدر نشین اس کا جائزہ لیں گے ۔ انہوں نے کارروائی کو پندرہ منٹ کے لئے ملتوی کردیا ۔ ایوان میں شوروغل کے مناظر دیکھے گئے ، جب کہ صدر نشین حامد انصاری کی جانب سے وقفہ سوالات کی اجازت دی گئی ، جنہوں نے مزید پندرہ منٹ کے لئے ایوان کی کارروائی ملتوی کردی۔ آئی اے این ایس کے مطابق راجیہ سبھا مین آج شوروغل کے مناظر دیکھے گئے اور ایوان کی کارروائی کو دو قسم کے کرنسی نوٹس کے مسئلہ پر احتجاج کی وجہ سے ملتوی کرنا پڑا۔ جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی کانگریس کے رکن کپل سبل نے الزام عائد کیا کہ ریزروبینک آف انڈیا کی جانب سے پانچ سو روپے کے کرنسی نوٹس دو اقسام کے طبع کیے جارہے ہیں۔ آر بی آئی دو اقسام کے کرنسی نوٹس طبع کررہی ہے ، جن کا سائز اور ڈیزائن مختلف نوعیت کا ہے ۔ یہ کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ۔ کپل سبل نے یہ استفسار پانچ سو روپے مالیت کے دو مختلف نوٹس بتاتے ہوئے کیا۔ قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے الزام عائد کیا کہ نوٹوں کی تنسیخ ملک کا ایک بہت بڑا اسکام تھی ۔ دوسرے اپوزیشن قائدین جن میں ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن ، جنتادل یو کے شرد یادو اور سماج وادی پارٹی کے نریش اگر وال شامل ہیں، انہوں نے کانگریس کی تائید کی ، جب کہ بی جے پی کے وزراء نے ٹیکنیکل بنیادوں کا حوالہ دیتے ہوئے مذکورہ مسئلہ کو موضوع بحث بنانے پر احتجاج کیا۔ قائد ایوان ارون جیٹلی نے اپوزیشن پر الزام عائد کیا کہ وہ ایک غیر ضروری مسئلہ پیش کررہی ہے ۔ اپوزیشن کو دن بہ دن اس طرح کے بیہودہ مسائل پیش کرنے کی عادت پڑ گئی ہے ۔ ایوان میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے صدر نشین نے ایوان کی کارروائی دس منٹ کے لئے ملتوی کردی ۔ وزیر مالیاتی امور مختار عباس نقوی نے کہا کہ اگر ارکان مباحث کے خواہاں ہوں تو وہ نوٹس دے سکتے ہیں ، جس پر ہم جواب دیں گے ۔

Demonetization the Biggest Scam of Century, Rajya Sabha uproar

0 comments:

Post a Comment