Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-03-30 - بوقت: 18:41

پورے ملک میں ستمبر سے جی ایس ٹی کا نفاذ - جیٹلی

Comments : 0
پورے ملک میں ستمبر سے جی ایس ٹی کا نفاذ: جیٹلی
نئی دہلی
پی ٹی آئی
وزیر فینانس ارون جیٹلی نے جی ایس ٹی کونسل کو اتفاق رائے سے قائم ملک کا پہلا وفاقی ادارہ قرار دیتے ہوئے آج کہا کہ اس میں مرکز اور تمام ریاستوں کی نمائندگی ہے اور انہیں امید ہے کہ یہ اچھی طرح سے کام کرے گا۔ جیٹلی نے لوک سبھا میں اشیاء و خدمات ٹیکس( جی ایس ٹی) سے منسلک چار بل مشترکہ طور پر بحث کے لئے پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کا مقصد پورے ملک میں یکساں ٹیکس نظام نافز کرناہے۔ ملک میں اس وقت جاری بالواسطہ ٹیکس نظام15ستمبر تک جاری رہے گا۔ اور اس کے بعد پورے ملک میں یکساں ٹیکس کا نیا نظام نافذہوجائے گا۔ جی ایس ٹی کوبحث کے لئے پیش کرتے وقت ایوا ن میں وزیر اعظم نریندرمودی اور کانگریس صدر سونیا گاندھی موجود تھیں۔ جیٹلی نے کہا کہ چاروں بل جی ایس ٹی سے منسلک ہیں اور اس کے ذریعہ ٹیکس نظام کو وفاقی ڈھانچہ میں تبدیل کیاجارہا ہے ۔ پورے نظام کے لئے الگ سے انتظامات کئے گئے ہیں جن میں سے سب سے اہم جی ایس ٹی کونسل کا قیام ہے ۔ کونسل میں32وزیر فینانس شامل ہیں ۔ ان میں29ریاستوں کے وزرائے فینانس کے علاوہ دہلی اور پڈوچیری کی منتخب حکومتوں کے وزیرف ینانس بھی ہیں۔ جیٹلی نے کہا کہ جی ایس ٹی کونسل کو مرکز اور ریاستوں کے لئے یکساں ٹیکس نظام نافذ کرنے کی سفارش کرنے کا متفقہ طور پر اختیار دیاگیا ہے ۔کونسل ٹیکس کے طریقہ کار اور اوو لوڈپربھی سفارش کرے گی اور یہ سفارشات سب کی رضا مندی سے کی جائیں گی۔ انہوں نے بتایا کہ بل کو پارلیمنٹ میں لانے سے پہلے کونسل کے بارہ اجلاس منعقد کئے گئے تھے۔ کونسل کے اجلاس کئی کئی دن اور گھنٹوں تک جاری رہے اور اتفاق رائے کے بعد ہی اس کی سفارشات تجاویزمیں شامل کی گئیں۔ جی ایس ٹی سے متعلق چار قانون پارلیمنٹ میں پاس ہوں گے اور پانچویں قانون کو ریاستی اسمبلیاں منظور کریں گی ۔وزیر فینانس نے کہا کہ پارلیمنٹ میں غور کے لئے مرکز ی اشیاء و خدمات ٹیکس بل لانے کی سفارش کی گئی تھی ۔ سی جی ایس ٹی مرکزی سطح پر منظم ہونا ضروری ہے ۔ اس کے لئے مشترکہ اشیاء اور خدمات ٹیکس(آئی جی ایس ٹی) بل ہے جو اشیاء اور خدمات کے بین ریاستی لین دین پر ٹیکس عائد کرنے سے متعلق ہے اور اس کے ذریعہ بین ریاستی ٹیکس نظام کا چلایاجائے گا۔ اشیاء اور خدمات ٹیکس(ریاستوں کی مزاحمت )بل کے ذریعہ ٹیکس نظام طئے کرنی ہے۔ اس نظام سے قانون کو ان مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں بھی لاگو کیاجانا ہے ، جن کی اپنی اسمبلیاں نہیں ہیں ۔ ارون جلٹلی نے کہا کہ اس میں ایک معاوضہ بل بھی ہے جس کے ذریعہ ریاستوں کو پانچ سال تک کسی بھی سطح پر نقصان نہیں ہونے دیاجائے گا۔نئے ٹیکس نظام کونافذ کرنے سے ریاستوں کو ٹیکس نظام میں جو نقصان ہوگا اس کا پانچ سال تک معاوضہ مرکزی حکومت دے گی ۔ انہوںنے کہا کہ ٹیکس سیریز کو چار حصوںمیں تقسیم کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ تمباکو جیسی کچھ اشیاء پر ا س سے بھی زیادہ ٹیکس ہے اور وہ نظام آگے بھی نافذ رہے گا۔،اس کے علاوہ ٹیکس سے ملنے والی رقم سے معاوضہ اسریاست کو دیاجائے گاجسے اس ی وجہ سے نقصان ہورہا ہے ،باقی جو رقم بچے گی اس سے ریاستوں اور مرکز میں تقسیم کردیاجائے گا۔ مرکزی وزیرنے کہاکہ اس میں یہ کوشش کی گئی ہے کہ صارفین کو کوئی نقصان نہ ہو ۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پیداواری لاگت گھٹے گی اور مہنگائی کو کنٹرول کیاجاسکے گا ۔وزیر فینانس نے کہا کہ اس سے تجارت اور کاروبار کو زیادہ مسابقی بنایاجاسکے گا ۔ اپوزیشن نے اشیاء اور خدمات ٹیکس بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ اس سے ملک میں ٹیکس کا نظام متاثر ہوگا ، نیزمرکز اور ریاستوں کے درمیان ٹیکس کی ذخیرہ اندوزی میں افرا تفری کا دور شروع ہوجائے گا ۔ کانگریس کے ایم ویرپا موئلی نے لوک سبھا میں جی ایس ٹی اوراس سے متعلق چار بلوں پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جی ایس ٹی بل کے ذریعہ ایک ملک ایک ٹیکس کا تصور مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے ۔اسبل میں اتنی قیمتیں شامل کی گئی ہیں کہ کاروباریون کو بھاری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اوراگرلا علمی میں کوئی غلطی ہوجائے تو اسے جیل جانا پڑے گا ۔ موئیلی نے جی ایس ٹی کے سلسلہ میں حکمراں این ڈٰ اے پربھی تنقید کی اور کہا کہ صرف سیاسی مفادات کے لئے جی ایس ٹی کو 8سال تک معلق رکھا گیا ۔ اس نظام کے سلسلہ میں2008-09میں مطالعہ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے سات آٹھ سال تک اسے معلق رکھا گیا ۔ اس سے بالآخر عوام کا ہی نقصان ہوا ۔ ہر سال تقریبا ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے اور مجموعی اعتبار سے تقریبابارہ لاکھ کروڑ روپے کا نقصان ہواہے ۔انہوں نے اس نظام کو نافذ کرنے کی تیاریوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس سے چھوٹے کاروباریوں کو مشکلات کا سامناکرنا پڑے گاانہیں ہر بار دستاویزات کا پلندہ لے کر چلنا ہوگا ۔انہوںنے کہاکہ اس بل کو لانے سے ملک کے وفاقی نظا م پر بھی اثر ہوا ہے ۔موئلی نے کہا کہ خصوصی اقتصادی ڈومین ،شمال مشرقی ریاستوں میں ٹیکس چھوٹ کے بارے میں الجھن ہے ۔انہوںنے زرعی شعبہ کو بھی پچھلے دروازے سے ٹیکس کے دائرے میں لائے جانے کا الزام لگاتے ہوئے اسکی مخالفت کی ۔موئلی نے کہا کہ ٹیکس شرح کی اعلیٰ سطح پر صورتحال واضح نہیں ہے ۔ایک ملک ایک ٹیکس کا تصور ایک وہم ہے ۔بہت زیادہ شرح کے ساتھ ساتھ سیس، چارجس کے سلسلہ میں بھی کوئی وضاحت نہیں ہے ۔ اس بل سے بہت بڑی اصلاحات نہیں ہونے جارہی ہیں ۔ اس سے نہ تو آمدنی بڑھنے والی ہے اور نہ ہی اس سے ملک میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے ۔ بین ریاستی اشیاء کی تیاری میں ٹیکس لگے گا ۔جس سے دقتیں آئیں گی ۔ زیادہ پیشگی ٹیکس وصول کئے جانے پر خود کار طریقہ سے رقوم کیو اپسی کا انتظام نہیں کیا گیاہے ۔انہوںنے کہا کہ ملک کے سامنے یہ بل ایک تلخ تجربہ لے کر آئے گا۔

مودی حکومت، ایوان بالا کا وقار گھٹانے کے درپے۔لوک سبھا میں ویرپا موئلی کا بیان
نئی دہلی
آئی اے این ایس
کانگریس قائد ایم ویرپا موئلی نے لوک سبھامیںچہار شنبہ کے دن کہا کہ ذراسی بھی عزت نفس باقی ہے تو راجیہ سبھا کے تمام ارکانکو مستعفیٰ ہوجانا چاہئے۔ انہوںنے حکومت کونشانہ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بلزکی منظوری یقینی بنانے انہیںرقمی بلز کے طور پر ایوان زیریں میں پیش کرتے ہوئے ایوان بالا کی نفی کی جارہی ہے۔ کانگریس قائد، لوک سبھا میں چار جی ایس ٹی بلوں پر بحث میں حصہ لے رہے تھے ۔انہوںنے کہا کہ یہ وفاقی قانون میں سب سے بڑا اقدام ہے۔ آپ ریاستوں کی مجلس کے نمائندہ ہیں۔ وزیر فینانس آپ خود کو اپنے حقوق سے محروم کررہے ہیں۔موئیلی نے وزیر فینانس ارون جیٹلی کے حواہ سے یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کی کونسل رکھنے کا کیا فائدہ ہے ۔جب کہ و ہ ملک کے وفاقی ڈھانچہ پر حملہ کے خلاف اپنی آواز نہ اٹھا پاتی ہو۔، ارکان راجیہ سبھا میں ذرا سی بھی عزت نفس باقی ہوتو انہیں مستعفیٰ ہوجانا چاہئے ۔اپوزیشن جماعتیں حکومت پر الزام عائد کررہی ہیں کہ وہ بلوں کو رقمی بل قرار دے کر انہیں تباہ کررہی ہے۔ارکان راجیہ سبھا کے لئے ترمیم یابل کی مخالفت کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہ پارہی ہے ۔رقمی بل صرف لوک سبھا مین پیش ہوسکتا ہے ۔ ایوان زیریں میں اس کے منظور ہونے کے بعد راجیہ سبھا کو اسے اندرون چودہ دن لوٹانا پڑتا ہے ۔ ورنہ بل دونوں ایوانوں میں منظورمانا جاتا ہے ۔، حکومت نے گزشتہ برس آدھار بل کو رقمی بل کے طور پر پیش کیا تھا ۔ موئیلی نے جیٹلی کے فوری بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی نے یوپی اے دور حکومت میں جی ایس ٹی کی راہ میں روڈے اٹکائے تھے جس سے بارہ لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی بل میں تاخیر کے باعث ملک کو لگ بھگ بارہ لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا۔ سات تا آٹھ سال گزر گئے ، تاخیر کی قیمت کس نے چکائی ، ظاہر ہے ملک کے عوام نے ۔موئیلی نے کہا کہ ہم ہمارے سیاسی کھیل میں عوام کا مفاد نہیں دیکھتے جنہوں نے سالانہ بنیاد پر آج لگ بھگ دیڑھ لاکھ کروڑ کا نقصان اٹھایا ہے ۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جی ایس ٹی بل پچھلی کانگریس زیر قیادت یو پی اے حکومت ہی لے آئی تھی ۔یہ کایا پلٹ قانون یو پی اے حکومت کی دین ہے ۔اسے اسی وقت لاگو ہوجانا چاہئے تھا لیکن بعض اپوزیشن جماعتوں کا اس وقت خیال تھا کہ اسے روکا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ تبدیلی لانے والا یہ اصلاحی اقدام(جی ایس ٹی بے نظیر اور تاریخی ہے ۔

0 comments:

Post a Comment