Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2017-01-07 - بوقت: 16:42

مظہر مہدی - شاعرِ لا انتہا

Comments : 0

mazhar mehdi
بیسویں صدی کے اواخر میں شہر دکن حیدرآباد کے ادبی افق پر جدیدشعراء و ادیبوں پر مشتمل سب سے فعال تنظیم حیدرآباد لٹریری فورم (حلف) کے جمیع اراکین اور راقم الحروف میں یوں تو مکمل ایک نسل کا عمری تفاوت حائل رہا ہے ، اس حقیقت کے باوجود خوش نصیبی و خوش بختی سے میری حیات کا بیشتر حصہ مثلاً نو عمری، لڑکپن وغیرہ کا دور اگر ان شعراء کے قریب بسر ہوا ہے تو نوجوانی کا بڑا حصہ کم سنی میں سماعت سے مکمل محرومی کے باوجود حلف کے ادبی اجلاسوں میں تواتر سے شرکت اور سماعت سے پرے مشاہدات سے مزین تر بھی رہا ہے ۔
ان ادبی اجلاسوں میں پیش کی گئی تخلیقات پر تبصروں اور مکمل روداد پر مشتمل رپورٹوں کی بعد ازاں دلچسپی سے مطالعہ، نے گزرتے وقت کے ساتھ میری ذہنی سطح کو جدیدیت سے ہم آہنگی بھی بھرپور انداز میں عطا کی ہے ۔ گویا والد ماجد (رؤف خلش) کے الفاظ میں :
یہ انگ انگ میں بھر بھر کے کس نے ڈالی آگ
سلگ رہے تھے بدن ، آگ سے لگا لی آگ
مجھے یاد پڑتا ہے کہ ابتداء میں ادبی موضوعات سے ہٹ کر میری دلچسپی جدیدیت سے وابستہ تحریک کے ادیبوں و شاعروں کے درمیان آپسی رشتوں اور یکساں ناموں کی تلاش میں بھی رہا کرتی تھی۔ مجھے اکثر خوشگوار سی حیرت ہوا کرتی تھی کہ اس وقت کے ادبی منظر نامے پر کم از کم چار ماموں و بھانجے کی جوڑیاں نمایاں رہی تھیں ۔
عاتق شاہ و غیاث متین، عالم خوندمیری و مظہر مہدی، ساجد اعظم و اعظم راہی اور صلاح الدین نیر و علی الدین نوید وغیرہ ۔ یہ وہ ادیب وشعراء ہیں جن سے ذاتی طور پر ان کی شخصیت کے علاوہ ادبی حیثیت سے بھی ابتداء ہی سے میں کماحقہ واقفیت رکھتا ہوں۔ ساتھ ہی یہاں اس بات کا تذکرہ بھی بیجا نہ ہوگا کہ اس وقت کے ادبی افق پر کئی ایک "ہم نام" ادیب و شاعر جیسے رؤف خلش و رؤف خیر، غیاث صدیقی و غیاث متین، مظہر الزماں و مظہر مہدی وغیرہ بیک وقت خاصے فعال رہے ہیں ۔ آخرالذکر دو نام اس لئے بھی حافظے میں اکثر ترو تازہ رہے ہیں کہ جہاں مظہر الزماں خان نے تجریدی افسانوں سے اپنی شناخت بنائی وہیں مظہر مہدی کو نثری شاعری کے حوالے سے پہچان ملی ۔
والد ماجد (رؤف خلش) اور ہمارے تاریخی بنگلے "داؤد منزل" واقع جدید ملک پیٹ، حیدرآباد کے حوالے سے غیاث متین، مظہر مہدی، اعظم راہی اور علی الدین نوید صاحبان کے ساتھ تعلق تو ہمیشہ ہی رہا ہے ۔ اپنے تجربات و مشاہدات کے مطابق مجھے یہ لکھنے میں تامل نہیں کہ مشہور مقولے "ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک خاتون کا ہاتھ ہوتا ہے " کی مماثلت میں میرا ایقان اس بات پر بھی رہا ہے کہ "ہر تنظیم کی کامیابی کے پیچھے ایک معتمدِ انتظامی کا ہاتھ ہوتا ہے"۔ اس ضمن میں، میں یہاں برملا حلف کے لئے ایک طویل مدت تک "معتمدِ انتظا میہ" کے فرائض انجام دینی والی بے حد فعال و حرکیاتی شخصیت "مظہر مہدی "کا نام لکھنا پسند کروں گا۔
تنظیم کے بانی اراکین میں سے ایک،پروفیسر غیاث متین، حلف سے اپنی شدید وابستگی و قلبی لگاؤ کے زیر اثر"اراکین حلف"کو اکثر "حلفئے" اور ازراہ تفنن طبع "حلف کے ناخلف" بھی کہا کرتے تھے ۔ جہاں"حلف" اور اس کے فعال انتظامی معتمد مظہر مہدی کا ذکر ہو وہیں جواں مرگ ،مشہور افسانہ نگار "انور رشید "کا ذکر نہ کرنا ناانصافی ہوگی۔
"حلف" سے وابستہ اس جواں سال افسانہ نگار کے افسانوں کا پہلا مجموعہ "مسلخ میں بھیڑوں کا ماتم " گذشتہ صدی کی آٹھویں دہائی کے آغازمیں شائع ہو کر بے انتہا مقبولیت حاصل کرچکا تھا اور ایسے وقت جبکہ 1984ء میں افسانوں و ڈرامے پر مشتمل دوسرا مجموعہ زیر اشاعت تھا وہ خود خالق حقیقی سے جا ملے ۔ مرحوم انور رشید کے اس دوسرے افسانوی مجموعے کو ادارہء "حلف" نے خود پربطور قرض سمجھتے ہوئے 2008ء میں یعنی قریب ربع صدی بعد سہی بعنوان "پھر گرفتار ہوئے "کے عنوان سے منظر عام پر لایا۔ ان دنوں جدیدلب و لہجہ کے ممتاز شاعر علی ظہیر ، حلف کے صدر، پروفیسر بیگ احساس، معتمد خاص اور مظہر مہدی معتمد انتظامی ہوا کرتے تھے ۔
بہرحال طویل عرصے بعد سہی انور رشید کے باقی ماندہ تاریخی افسانوں وڈرامہ کو اردو فکشن کا حصہ بنانے میں حلف اور بطور خاص مظہر مہدی کی انتظامی تگ و دو واقعی قابل قدر اور یاد رکھے جانے کے قابل ہے ۔ مظہر مہدی کی اب تک جملہ ( 6 ) تصنیفات بشمول تین شعری مجموعہ کلام شائع ہوکر مقبولیت حاصل کرچکے ہیں:
1۔ "لا انتہا" 1982ء
2 ۔ "ارضِ بے پیغمبر" 1994ء
3 ۔ "بودلیر کی نظمیں" 1998ء
4۔ آزادی کے بعد اردو غزل:ایک انتخاب (مرتبین: شمس الرحمٰن فاروقی و مظہر مہدی) 2009ء
5۔ آزادی کے بعد اردو نظم: ایک انتخاب (مرتبین: پروفیسر شمیم حنفی و مظہر مہدی )
6۔ اردو دانش وروں کے سیاسی میلانات - نوآبادیاتی ہندوستان(1857-1914ء)

ان کا تیسرا مجموعہ کلام جو فرانسیسی شاعر چارلس بودلیر کی نظموں کے اردو ترجمے پر مشتمل ہے ، چارلس بودلیر وہی شاعر ہے جس نے مشرقی و مغربی ادب میں سب سے پہلے جدیدیت کے حوالے سے "نثری نظم"کے فارم کو اپنایا تھا۔ مظہر مہدی کی اس تخلیق "بودلیر کی نظمیں"سے قبل ممتاز ادیب و شاعر عزیز احمدکی تصنیف "دانتے کا طربیہ خداوندی" میرے مطالعے میں رہ چکی تھی۔ بودلیر کی کل (60) فرانسیسی نظموں کے اردو تراجم کے مطالعے سے واقعی جدید طرز بیان سے قاری روشناس ہونے کے ساتھ تخلیقی اظہار کی خوبصورتی و الفاظ کے انتخاب سے پیدا ہونے والی نغمگی سے بھی بخوبی آگاہ ہوتا ہے ۔
مختلف زبانوں سے ترجمہ شدہ شاعری چونکہ ایک علحدہ موضوع ہے ، اسے کسی دوسرے مضمون کے لئے اٹھا رکھتے ہوئے اختصار کی خاطر اس مضمون میں مظہر مہدی کی شاعری پر اپنے تاثرات و محسوسات کا دائرہ ان کے ابتدائی دو مجموعہ ہائے کلام تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
مظہر مہدی کا "نثری نظم "کے تئیں جدید تخلیقی اظہار ہمیشہ مجھ جیسے قاری کے نزدیک ان کی بہترین تنظیمی صلاحیتوں کے علاوہ باعث توقیر رہا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ اس عہد کے تقریباً شعراء کرام نے نثری نظم کے فارم کو اپنایا ۔ میرے مطالعے کی حد تک جدیدیت سے وابستہ حلف کے شعراء میں اعظم راہی کے بعد درحقیقت مظہر مہدی کی شاعری نے "نثری نظم "کی صنف کو نئی جہت عطا کی ۔
بیسویں صدی کے آخری دہوں میں نظم، بھلے ہی پابند ہو کہ معریٰ یا نثری، اس کے فارم کے حوالے سے اتنا کچھ کہا ، لکھا جا چکا ہے کہ یہاں اس کے دوبارہ ذکر کی ضرورت نہیں۔ مظہر مہدی بالکلیہ نثری نظم کے شاعر رہے ہیں۔ان کی نثری نظمیں اپنی سیدھے و رواں بیانیہ اسلوب، سچے ،واضح الفاظ سے تراشیدہ پیکر (مختصر ہوں کہ طویل) کے سبب کامیاب تخلیقی اظہار کا بہترنمونہ نظر آتی ہیں۔ شاعرکا اپنی زندگی کے تئیں، تلخ تجربات ومشاہدات کے زیر اثر،گرم جذبات و احساسات کودبائے رکھ کر تخلیق شدہ کلام جن میں بطور خاص" ایک سانس کی نظمیں" کے عنوان سے کہی گئی سبھی مختصر نظمیں، اپنے قاری و سامع کو بے ساختہ روح کی گہرائیوں میں اترتی سی محسوس ہوتی ہیں۔
پہلے مجموعہ ہائے کلام "لا انتہا ۔۔۔" کی اولین نظم، باپ کا سا یہ سر سے اٹھ جانے کے ذاتی المیے کو کائناتی یعنی "ایک دور کا خاتمہ و ایک نئے دور کے آغاز" کی نقیب بنانے والی یہ تخلیق اپنے قاری کوواقعی چونکانے والی ہے ۔
نظم بعنوان "والد مرحوم کی یاد میں"ملاحظہ ہو:
وہ ساعت ، وہ گھڑی
کیسی تھی
بے بسی تکتی رہی
بس کے پہئیے گھومتے رہے
ایک حیات رک گئی
ایک لفظ میری زبان سے کھو گیا
آپ کی آنکھیں کھلی تھیں جب میری آنکھیں بند
آپ کی آنکھیں بند ہوئیں
میری آنکھیں کھل گئیں

مجھے کچھ عادت سی ہے کہ میں کسی بھی جدید لب و لہجے کے حامل شاعر کو پڑھوں تو سب سے پہلے اس کی شاعری میں تخلیقی اظہار کے تئیں "خودداری" یعنی "اَنا" اور فلسفہ "فنا" و "بقا" کے حوالے سے اسے جاننے کی کوشش کروں۔ مظہر مہدی کے پہلے شعری مجموعے کے ابتداء ہی میں دو نظمیں ایک ہی عنوان یعنی "سلف پورٹریٹ" کے عنوان سے شامل ہیں، محض پہچان کی خاطر انھیں (1) اور (2) عدد سے نوازا گیا ہے ۔
زندگی کے تئیں نت نئے دکھ ،درد اور ان سے پیدا ہونے والے کرب کو صبر و ضبط کے ساتھ جھیلتے رہنے کے درمیان بکھرتی ٹوٹتی "اَنا "کو نظم "سلف پورٹریٹ (2)"کی آخری پانچ سطروں میں بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے :
وہ ایک ایسی دنیا میں بستا ہے
جس میں اس کی" اَنا "ہی نے
اس کو مار ڈالا ہے
یہ چہرہ میرا نہیں
پھر بھی میرا اپنا ہے !

گذشتہ دو ڈھائی دہوں کے عرصے میں نظم کے فارم میں سہ سطری، دو سطری اور ایک سطری نظموں کے حوالے سے کئے گئے بیشتر تجربات سے پرے مظہر مہدی کے ہاں "ایک سانس کی نظمیں" کے فارم میں تجریدی طور پر کہی گئی مختصر نظموں میں بھرپور شعری اظہار بخوبی محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ "ایک سانس کی نظمیں" کے عنوان سے کہی گئی کچھ نظمیں ملاحظہ ہوں:
٭ خدا نے میری / کْل آرزوؤں تمناؤں کو / مقسوم سے تقسیم کرکے / خارجِ قسمت لکھ دیا

٭ میں نے دیکھی ہیں / کچھ ایسی شامیں / جن کی سحر نہ تھی

٭ عذاب کا / نجات کا / دوسرا نام / خدا ہے

٭ کتنے ٹوٹے ہوئے / اقدار کے تم پاسبان ہو / یہ وہ کشتی ہے / جو پار اترتی بھی نہیں / ڈوبتی بھی نہیں

٭ ایک عرصے سے / زمین و آسمان / ملنے کے لئے / بے تاب ہیں

٭ مویشیوں کی گھاس / چر گئے / گاؤں کے گاؤں

٭ تاریکی کے بدن پر / ایک دھبّہ / روشنی ہے

٭ زندگی کی پیٹھ پر / موت / لکھا ہوا ہے

٭ تیری دید کی / چاہت میں / کچھ ایسے اندھے ہوگئے / سارا بدن / آنکھ بن گیا

"وراثت" کے موضوع پر یعنی اپنے پیچھے چھوڑ جانے والے اثاثے کے ضمن میں تقریباً سبھی ہم عصر شعراء کے ہاں نظمیں ملیں گی ، مگر مظہر مہدی نے جس انداز میں اسے برتا ہے اسے مختصر سی نظم" ترکہ" میں ملاحظہ ہو:
آنے والی نسلوں کے لئے / ہم چھوڑ جاتے ہیں / ناکامیاں ، مایوسیاں / خوشیاں اور وہ ان دیکھی خواہشیں / جن سے گذرنے کی آرزو میں / ہم گذر گئے

دوسرے مجموعہ کلام "ارضِ بے پیغمبر " میں مظہر مہدی نے قدرت کی اس کڑوی حقیقت کہ" فنا "ہی" بقا "ہے کا جن معنوں میں اعتراف کیا ہے اسے نظم "فنا کو راستہ دکھلانے " میں ملاحظہ ہو:
شاید / بقا کی دہلیز پر / ہم / ہوا کے ہاتھوں میں فنا کو راستہ دکھلانے / چھوٹے چھوٹے / چراغ ہیں

جواں مرگ مشہور افسانہ نگار انور رشید کی رحلت پر ان کے ہم عصر تقریباً سبھی شعراء نے خراج عقیدت ادا کیا ہے ۔ مظہر مہدی کے ہاں نظم بعنوان "انور رشید" ملاحظہ ہو:
وہ ایک شخص / شخص نہیں تھا / وہ تو بس اک کردار تھا / اسٹیج پر / خود سے ٹکراتا موت جی رہا تھا / حیات پی رہا تھا / قطرہ قطرہ مر رہا تھا / اک عالم سے بے پرو ا کرب سے وابستہ / کردار بنے رہنا / مشکل ہے کتنا

شہر دکن حیدرآباد کے رجحان ساز جریدے "صبا"کے مدیر "سلیمان اریب" کی مرض کینسر جیسے مہلک مرض میں مرگ ناگہانی پر اریب کی شخصیت، مرض اوران کے شعری انتخابِ کلام "کڑوی خوشبو"کے حوالے سے مظہر مہدی کے جذبات و احساسات نظم بعنوان "اریب" ملاحظہ ہو:
وہ ایک آواز / جس کی صداقت / دن کی مانند / جس کا صلہ / گلے کی خراش سچ کی کڑوی خوشبو / لیکن اب پیتھڈن ہے / سنا ہے اس نے جھوٹ کے منہ پر تھوک دیا / اور اب / سچ کی طرح خاموش ہے

مظہر مہدی کی اچانک رحلت پر برادرِ کلاں ممتاز افسانہ نگار اور آن لائن نیوز پورٹل "تعمیر نیوز" کے بانی سید مکرم نیاز نے مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ "نثری نظم" کے حوالے سے شہرِ دکن حیدرآباد ہی میں مظہر مہدی کو فراموش کردیا گیا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس شاعرِ "لا انتہا۔۔۔"کے شعری و ادبی سرمائے کو پسماندگان کی اجازت سے سائبر دنیا میں اگر روشناس کروایا جائے تو ایسی کسی شکایت کی گنجائش نہ رہے گی۔ میرے خیال سے اگر مظہر مہدی بقید حیات ہوتے تو بہ الفاظ رؤف خلش، اپنے قاری و سامع سے یوں مخاطب ہوتے :
کہاں چلے گئے جو مجھ کو سننے والے تھے
زبان رکھ کے بھی پھرتا ہوں بے نوا کی طرح

***
سید معظم راز
16-8-544, New Malakpet, Hyderabad-500024.
mzm544[@]gmail.com

سید معظم راز

Mazhar Mehdi, a Hyderabad poet of Modernism era. Article by: Syed Moazzam Raaz

0 comments:

Post a Comment