Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-12-24 - بوقت: 16:33

ہم آزاد ہیں

Comments : 0
india independence
آج سے (69) سال پہلے 15/اگست 1947 کی نصف شب ہندوستان میں آزادی کا سورج طلوع ہوا، انگریزوں نے اپنا بوریا بستر سمیٹا اور اپنے ملک عزیز برطانیہ کو سدھارے۔ گو کہ انگریز چلے گئے لیکن انگریزوں کے تئیں ہماری غلامی کی عادت نہ گئی۔ یہ اور بات ہے کہ ہم انگریزوں کے غلام ہیں لیکن اپنے ہموطنوں کے لئے آزاد بلکہ مادر پدر آزاد ہیں۔ آزادی حاصل کرنے میں ہمارے آباء و اجداء نے جو بے لوث قربانیاں دی ہیں شائد وہ بھی آزادی کے اس تصوّر سے نا آشنا رہے ہونگے، جس قسم کی آزادی کا ہم اس وقت اظہار کررہے ہیں ۔ ہماری آزادی کے نمونے اگر ملاحظہ کرنے ہوں تو یہ قدم قدم پر ملیں گے۔ چلئے آپ لوگوں کو چند ایک کی طرف متوجہ کرنے کی ہم سعئ ناکام کرتے ہیں۔

ہماری سڑکیں:
ہماری آزادی کی سب سے بڑی اور واضح علامت تو ہماری سڑکیں ہی ہیں، ہم جدھر سے چاہیں چلیں، جہاں سے چاہیں، جب چاہیں، مڑ جائیں اور جہاں چاہیں ٹھہر جائیں، ہمیں کوئی روک سکتا ہے نہ ٹوک سکتا ہے۔ تقریبات منعقد کرنے کے لئے تو گھر کے سامنے کی سڑک بہت ہی آئیڈیل جگہ ہے، چند کھونٹیاں گاڑو ،شامیانہ لگاؤ اور قنات سے جتنی چاہے جگہ گھیر لو ، تنبیہ کے لیے گلی کے دونوں سروں پر کسی بھی قسم کاکوئی سائین بورڈ لگانے کی ضرورت نہیں۔ کوئی شامت کا مارا ادھر آئے گا بھی تو جھک مار کر خود ہی لوٹ جائے گا۔ سوار تو سوار، پیدل راہگیر بھی کوفت میں مبتلا ہوجائے۔ اگر آپ کا گھر اونچی کرسی کا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں، سیڑھیاں سڑک پر بنا کر روڈ کی وسعت کو حسب ضرورت اور حسب استطاعت کم کیا جاسکتا ہے۔ ہاں حسب استطاعت کیوں کہ آپ جتنے بڑے لیڈر ہیں یا جتنے بڑے غنڈے ہیں اتنا ہی آپ روڈ پر غاصبانہ قبضہ کر سکتے ہیں۔
جن علاقوں میں نلوں میں پانی کا پریشر کم ہے، وہاں بجائے صحن کے ، گھروں کے سامنے سڑک کے کنارے گڈھے کھود کر پانی حاصل کرنے کے لئے بھی ہمیں کافی آزادی ملی ہوئی ہے۔ اب راہگیر اس میں گر کر اپنا ماتھا پھوڑیں یا ٹانگ توڑ لیں، اپنی اپنی قسمت ۔ عام آدمی تو ایک طرف ،محکمہ بلدیہ اور شوارع بھی آزاد ہیں کہ وہ چاہیں تو سڑکوں کی مرمت کروائیں چاہے نہ کروائیں ۔ سڑکوں پر وجود میں آنے والے مخصوص گڈھوں سے بچنے کے لئے سیکل سوار، موٹرنشین حضرات ، دفعتاً جو اپنی گاڑیوں کو موڑتے ہیں اس سے بھی کئی ایک حادثے وقوع پذیر ہو جاتے ہیں لیکن ارباب مجاز کو آزادی ہے کہ وہ اپنے کانوں پر جوں نہ رینگنے دیں، بلکہ اگر کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کوئی جوں لا کر کانوں پر ڈالی بھی جائے تو اسے بےشرمی سے جھٹک دیا جاتا ہے۔
پولیس بھی جانتی ہے اور بلدیہ بھی کہ یہ حادثہ صرف اسی گڈھے کی بدولت ہوا ہے پھر بھی اسے پاٹا نہیں جاتا۔ بعض سڑکوں پر تو اتنے پرانے گڈھے ہیں کہ وہ تاریخی گڈھے کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ کیونکہ اس سے بچنے کی کوشش میں کبھی ہمارے فلاں چچا نے یا ماموں نے، فلاں تقریب کے وقت اپنی ٹانگ توڑ لی تھی۔ کسی صاحب نے تو اپنی شادی کی تاریخ کو کسی مشہور چوراہے والے گڈھے سے وقوع پذیر ہوئے ایک بڑے ایکسیڈنٹ سے مربوط کیا ہے۔
ہمارے پاس کوئی مذہبی تقریب ہو تو اس موقع پر سب سے زیادہ آزادی سے استعمال ہونے والی سڑکیں ہی ہیں۔ سیاسی لیڈر کا استقبال ہو اور اگر ور برسر اقتدار پارٹی سے تعلق رکھتا ہو تو استقبالی کمانیں نصب کرنے کے لئے جہاں چاہے کھود دیا جائے۔ گاؤں میں غلّہ اور فصل سکھانے کے لئے بھی سب سے بہترین پلاٹ فارمس یہ سڑکیں ہی ہیں۔ ٹرک یا بس ڈرائیوروں سے غلطی ہو جائے تو سمجھیے کہ بیچارے کی جان ہی گئی۔

برقی سپلائی:
ہم اپنی مرضی سے جتنا چاہیں بجلی استعمال کریں یا ضائع، ہمارا دل ہرگز نہیں جلے گا کیونکہ برقی میٹر میں الٹ پھیر کرنے کی ہم کو آزادی حاصل ہے۔ اگر برقی چوری کی تحقیق کے لئے برقی عملہ یا پولیس گھر میں گھستی ہے تو ہمارے لیڈر انکی ٹانگ کھینچنے کے لئے موجود رہیں گے۔
اگر آپ دیہات میں یا شہر کے قرب وجوار میں رہتے ہوں تو پھر شام ہوتے ہی کھمبوں پر تار ڈال کر مفت برقی حاصل کرنے کی آزادی بھی آپ کو حاصل ہے۔ آپ اپنے کھیتوں کی رکھوالی کرنے کے لئے کھیتوں کے اطراف تار کھینچ کر اس میں برقی رو دوڑا سکتے ہیں، اگر کوئی جنگلی جانور مرتا ہے تو نہ پولیس کچھ کرسکتی ہے اور نہ محکمہ جنگلات۔ ہمارے نیتاؤں کو بھی کافی آزادی ملی ہوئی ہے کہ ووٹ حاصل کرنے کے لئے، کروڑہا روپیئے کی مفت برقی سربراہی،لاکھوں کروڑوں روپے کے قرضہ جات کی معافی جیسے اعلانات کرتے پھریں۔ نتیجتاً پیسے دیکر برقی استعمال کرنے والا صارف گھنٹوں لوڈ شیڈنگ جھیلتا رہے۔

سرکاری مدرسے:
سرکاری مدرسوں کی زبوں حالی تو سب پر عیاں ہے لیکن سرکاری مدرّسین کی خوش حالی کا حال اللہ بہتر جانتے ہیں، ہم انکے بارے میں لکھ کر معتوب ہونا نہیں چاہتے کیونکہ سب سے طاقتور یونین، ٹیچرس یونین ہے۔ اگر سرکاری مدرسوں کے نتائج بہتر ہوتے تو پھر خانگی مدارس کی چاندی نہ ہوتی۔ آجکل تو مدارس بھی اسٹیٹس سمبل (Status Symbol) بن گئے ہیں۔ لیکن افسوس ہے کہ یہ تمام مدرسے بچّوں سے ان کا بچپن چھین رہے ہیں۔ چائیلڈ لیبر کے خلاف کمربستہ حکومت، کارپوریٹ مدرسوں میں اچّھی تعلیم کے نام پر ہو رہی چائیلڈ لیبرشپ سے شائد ناواقف نہیں ہے۔ اندھی تقلید کرنے والے والدین بھی ہزاروں روپے خرچ کرکے اپنی اولاد کو چائیلڈ لیبر بنا رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت اور بیوقوف سرپرست مل کر آئیندہ چند سالوں میں لاکھوں بے روزگار انجنیئرس پیدا کریں گے۔

سرکاری ہسپتال:
غریب سے غریب آدمی بھی سرکاری ہسپتالوں پر خانگی ہسپتال کو ہی ترجیح دیتا ہے۔ حالانکہ سرکاری ہسپتالوں میں ہر قسم کی سہولت ہونی چاہئے لیکن بہترین سہولتیں خانگی ہسپتالوں ہی میں دستیاب ہیں۔ اور ڈاکٹروں میں رحم کا مادّہ رقم کی کمی زیادتی پر منحصر ہوتا ہے۔ سرکاری ہسپتال کے عملے کو بھی اس بات کی آزادی ہے کہ و ہ اپنی پسند کے وقت پر آئیں اور اپنی مرضی سے مریضوں کا علاج کریں اور جو سلوک چاہیں روا رکھیں۔ کارپوریٹ دواخانوں کو اس بات کی آزادی ہے کہ وہ مردے کو بھی وینٹی لیٹر(Ventilator) پر رکھ کر اس کے رشتہ داروں سے من مانی فیس وصول کریں۔ اب ایسا بھی نہیں کہ اس حمام میں سب ہی ننگے ہوں، اچّھے لوگ بھی ہیں لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔

محکمۂ پولیس:
ہماری پولیس کی خاص بات یہ ہے کہ اس سے چور اچکّے کم ڈرتے ہیں اور شریف لوگ زیادہ۔ جتنا شرفاء ڈرینگے اتنی ہی کم شکایتیں درج ہونگی اور جتنی کم شکایتیں درج ہونگی اتنا ہی پولیس کی کارکردگی بہتر ثابت ہوگی۔ چھوٹے موٹے چوری چکاری اور واضح قتل و غارت گری کے کیسس برسوں حل نہ کر سکنے والی پولیس، بم دھماکوں کے کیسس گھنٹوں میں حل کر لیتی ہے اور اس کے ڈانڈے کبھی لکھنؤ تو کبھی بنگلور اور کبھی تو سمندر پار سے سے ملا دیتی ہے،جیسے کہ تمام ثبوت اس کی جھولی میں پہلے سے ہی موجود رہے ہوں، آخر کیوں نہ ہو کہ اس کو ثبوت مہیا کرنے کی آزادی جو میسّر ہے۔ اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ انگریزوں کے زمانے میں پولیس کا محکمہ اس لئے قائم کیا گیا تھا کہ ہندوستانیوں کو دبا کر رکھا جائے۔ اس لئے ہم وطنوں پر ظلم کرنے کی آزادی انہیں برسوں سے ملی ہوئی ہے۔

سرکاری دفاتر:
سرکاری دفاتر پربعض دفعہ سرکاری آرام گاہوں کا گماں ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی کام کے بارے میں اس تیلگو کہاوت پر یقین کر سکتے ہیں "ارجنٹ انٹے آرو نیلالو، موسٹ ارجنٹ انٹے موڑو نیلالو"۔ یعنی، ضروری کا مطلب چھ مہینے اور اشد ضروری کا مطلب تین مہینے۔ کہنے والے نے شائدکچھ کنجوسی سے ہی کام لیا ہے۔ سرکاری عہدہ داروں کو کئی آزادیاں علیحدہ سے میسّر ہیں، جیسے وقت کی، رخصت کی،چائے اور پان کی۔ تنخواہ کے علاوہ حق المحنت ،یعنی رشوت کی وصولی کی بھی۔

آپ کے اپنے رہنما اور نیتا:
پرانے جو بادہ کش ہیں وہ اٹھتے جاتے ہیں
سحر قریب ہے اللہ کا نام لے ساقی
آپ کے وطن کو آزاد کروانے والے پر خلوص رہنما اس دارِفانی سے کوچ کرچکے ہیں اور اب جو راہ نما ہیں انکا خلوص اسکامس کی بڑھتی ہوئی تعداد اور رقومات سے ناپا جا سکتا ہے۔ جو جتنا بڑا رہنما ہے ،سمجھئے کہ وہ اتنا ہی بڑا رہزن بھی ہے۔ اس حمام میں تو سب ہی ننگے ہیں۔ سرکاری اہلکار سینکڑوں میں رشوت لیتے ہیں توعہدہ دار ہزاروں میں، لیکن نیتا لوگ لاکھوں اور کروڑوں میں رشوت لیتے ہیں اور محکمۂ اینٹی کرپشن بھی ان کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ دیش کی آزادی کا سب سے بڑا فائدہ موجودہ نیتاؤں کو حاصل ہوا ہے۔

آپ خود:
یہاں پھر ایک دوسری تیلگو کہاوت صادق آتی ہے "یدھا راجہ، تتھا پرجا" یعنی جیسا راجہ، ویسی ہی رعایا۔ ہمارے رہنما ، ہمارے سرکاری ملازم، ہماری پولیس اور ہمارے دوسرے متعلقہ سرشتہ دار، سب ہم ہی میں سے ہیں اور یہ سب ہمارا ہی پرتو ہیں۔ اس لئے دوسروں کی آنکھ کا تنکا تلاش کرنے کے بجائے اپنی ہی آنکھ کے شہتیر کو دور کیا جائے۔ دوسروں کے اعمال کا محاسبہ کرنے کے بجائے اپنے ہی اعمال کو درست کیا جائے تو شائد یہ پھیلی ہوئی عام بےچینی دور ہوجائے۔

بہرحال رشوت،گھوٹالے، دھوکے، دنگے، فساد سے عام آدمی پرہیز کرے تو پھر کسی کی مجال نہیں کہ عام آدمی پر ظلم کر سکے۔ آزادی کے ان تمام بیان کردہ طریقوں کا نہ صرف غلط استعمال ہے بلکہ آزادی کے ساتھ کھلواڑ بھی۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سچّے دل سے یہ عہد کریں کہ ہم اس آزادی کا غلط استعمال نہیں کریں گے توبے شک ہمارا ہندوستان، جنّت نشان بن جائے گا ورنہ بقولِ علّامہ اقبال:
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے ہندوستاں والو
تمھاری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں

The benefits of Indian independence. Article: Abu Ghazala

0 comments:

Post a Comment