Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-10-16 - بوقت: 21:48

99 فیصد مسلم خواتین مسلم پرسنل لا کی حامی - اسما زہرا

Comments : 0
حیدرآباد
یو این آئی
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اگزیکٹیو کمیٹی کی رکن محترمہ اسماء زہرہ نے کہا ہے کہ بعض خواتین کے ذریعہ طلاق ثلاثہ اور اس کے بعد گزارہ بھتہ کو لے کر س پریم کورٹ جانے کے معاملہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیاجارہا ہے جب کہ ملک کی خواتین کی اکثریت مسلم پرسنل لاء کی حمایت میں ہے ۔ اسماء زہرہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مسلم پرسنل لاء مسلمانوں کا دستوری حق ہے اور مسلمان ملک کی آزادی کے60سال سے اپنے مسائل مسلم پرسنل لاء کے مطابق حل کرتے آئے ہیں تاہم گزشتہ دو سال سے موجودہ حکومت نے ایک کے بعد ایسی کوششیں کی ہیں کہ جس سے اقلیتوں کے حقوق کو چھینا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ پیدا کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعہ مسلم پرسنل لاء میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی مخالفت کی جارہی ہے ۔ لا کمیشن کے سوالنامہ پر تمام مسلم تنظیموں اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے غور کیا اور یہ طے ہوا کہ یہ یکساں سیول کوڈ کو نافذ کرنے اور مسلمانوں کے دستوری حقوق چھیننے کی ایک کوشش ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلاق ثلاثہ مسلم سما ج کا مسئلہ نہیں ہے جہاں مردوں کو طلاق کا حق دیا گیا ہے تو وہیں عورتوں کو خلع کا حق دیا گیا ہے ۔ مسلم پرسنل لاء کے تمام قوانین متوازن ہیں ۔ یہ دلیل دینا کہ طلا ق ثلاثہ کی وجہ سے کئی خواتین متاثر ہیں سراسر جھوٹ ہے اور یہ ایک ہیجان پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ اس طرح یہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کوشش ہے ۔ پورے ملک کے دس کروڑ مسلم خواتین اپنے پرسنل لاء کو بچانا چاہتی ہیں کیونکہ اگر ہمارا پرسنل لاء ہم سے چھین لیا جائے تو ہماری بھی وہی حالت ہوگی جو دوسرے سماجوں میں خواتین کی ہوئی ہے ۔ اسی لئے ہم اپنے مسلم پرسنل لاء کو بچانا چاہتے ہیں ۔ حکومت اور سپریم کورٹ سے بھی یہ کہاجارہا ہے کہ کسی بھی قسم سے ان قوانین میں چھیڑ چھاڑ نہیں ہونی چاہئے ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ ہم پر ظلم ہوگا ۔ ہمارے قوانین میں چھیڑ چھاڑ دراصل ظلم ہے ۔ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر بعض خواتین کی جانب سے سپریم کورٹ سے رجوع ہونے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک ایک آزاد ملک ہے جس کسی کو مسلم پرسنل لاء پر عمل نہیں کرنا ہے ، ان کے لئے اسپیشل میاریجس ایکٹ موجود ہے تاہم یہ کہنا کے مذہب اور پورے نظام کو تبدیل کیاجائے سراسر غلط ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ہندوستان آزاد ملک ہے جس کسی کو مسلم پرسنل لا ماننا ہے ، وہ مانے جس کو ہندو لا ماننا ہے وہ ایسا کرسکتا ہے اور جو دونوں قوانین نہیں ماننا چاہتے ان کے لئے ملک میں لائیو ان ریلیشن شپ ہے ۔ انہوںنے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت بعض خواتین کا استعمال کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندولا1955میں بنایا گیا ۔اس میں ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ لیکن ہمارا مسلم پرسنل لاء ہم نے نہیں بنایا ہے بلکہ یہ اللہ کا قانون ہے ۔ یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے۔ یہ قانون قرآن مجید اور احادیث شریفہ میں یہ قانون ہے ۔ اسی لیے ہم اس کو مان کر ہم اس پر عمل کررہے ہیں، اس کو بچا رہے ہیں اور اس میں تبدیلی سے روک رہے ہیں ۔ ہمارے قانون کو دوسرے قانون سے جوڑ کر دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔

Muslim women oppose amendment in Muslim Personal Law, AIMPLB executive member Dr Asma Zehra

0 comments:

Post a Comment