Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-07-17 - بوقت: 22:13

پوکے مان گو - Pokemon Go - ایک تجزیہ

Comments : 0
pokemon-go
پوکے مان گو - Pokemon Go
یہ وہ گیم ہے جس نے اسوقت پوری دنیا میں تہلکہ مچا رکھا ہے۔ جی ہاں، 5 جولائی کو اینڈرائیڈ اور آئی فون، دونوں پلیٹ فارمز پر ریلیز ہونے والی یہ گیم محض 10 دنوں میں 75 لاکھ سے اوپر کی تعداد میں ڈاؤنلوڈ ہو چکی ہے اور روزانہ کی بنیاد پر 16 لاکھ ڈالرز کا ریونیو کما کر دے رہی ہے۔۔۔!!! حالانکہ فی الوقت یہ محض ترقی یافتہ ممالک میں دستیاب ہے۔

"پوکے مان" ہے کیا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
"پوکے مان"، انگریزی کے دو الفاظ کا مرکب ہے:" پاکٹ" یعنی "جیب" اور "مانسٹر" یعنی "عفریت"۔ یہ وہ چھوٹے موٹے کردار ہیں جنہیں گیم میں پکڑ کر پوائنٹس سکور کئیے جاتے ہیں۔
1990 میں جاپانی سافٹویئر انجنئیر ستوشی تجیری نے اپنے بچپن کی انواع و اقسام کے حشرات جمع کرنے کی ہابی کی بنیاد پر ایک ایسی گیم کا تصور پیش کیا جس میں بچے مختلف تخیلاتی کیڑے مکوڑے جمع کر کے پوائنٹس حاصل کر سکتے تھے۔ اس دور میں بھی یہ گیم بہت مقبول ہوئی اور بعد میں اس پر کارٹون سیریز بھی بنائی گئی۔
اسی تصور پر موجودہ گیم "پوکے مان گو" کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ البتہ جدت اور دلچسپی کے جس منفرد پہلو نے گیمرز کو دیوانہ بنا رکھا ہے وہ یہ ہے:
گیم ڈویلپرز آپکے سمارٹ فون کا کیمرہ اور جی پی ایس استعمال کر کے آپکے اپنے شہر میں اصل لوکیشنز پر مختلف قسم کے "پوکے مانز" کو چھپا دیتے ہیں۔ اب آپکو کرنا یہ ہے کہ اپنے موبائل کا کیمرہ آن کریں اور گھر سے نکل کھڑے ہوں اور مختلف تکنیکوں سے پوکے مانز کو لوکیٹ اور قید کر کے پوائنٹس بڑھانے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں دیگر گیمرز کے ساتھ مقابلہ بھی کریں۔

مثبت پہلو:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں محدود ٹی وی، انٹرنیٹ اور ویڈیو گیمز سے چپکے بچوں اور بڑوں کو اس گیم نے باہر نکلنے، اپنے ماحول اور لوگوں سے اختلاط اور نئی جگہوں کی دریافت کی زبردست تحریک دی ہے۔ اور ابتدا میں ستوشی تجیری کا بھی یہی مقصد تھا کہ بچوں کو ایک صحت مند تفریح مہیا کی جائے۔
لہٰذا اب ایسے دلچسپ مناظر بہت عام ہو گئے ہیں جن میں لوگ موبائل پکڑے اسکے کیمرے کے ذریعے دیکھتے ہوئے راستہ تلاش کرتے، ایک دوسرے کو اور پوکے مانز کو ڈھونڈتے اور نئی نئی جگہیں تلاش کرتے پائے جاتے ہیں۔ اور واقعی "دیوانے" لگتے ہیں۔۔۔

منفی پہلو:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بدقسمتی سے اس گیم کی مقبولیت اور پوٹینشل کو دیکھتے ہوئے جرائم پیشہ افراد نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں کی وجہ سے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کو گیم کے محفوظ استعمال کیلئے باقاعدہ ہدایات جاری کرنا پڑی ہیں۔
کچھ احمق ڈرائیو کرتے یا سڑک پار کرتے بھی گیم میں محو پائے گئے اور نقصان کا باعث بنے۔
سنجیدہ طبقے نے گیمرز کے پوکے مانز کو مقدس مقامات پر ڈھونڈنے کے عمل کو سخت ناپسند کیا ہے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

خدشات:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری دنیا میں اس گیم کے پھیلنے کے بعد کچھ ایسے خطرات بھی ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔
۔۔ مثلاً کوئی منچلا پوکے مان ڈھونڈتا کسی عبادتگاہ میں جا گھستا ہے اور وہاں موجود لوگوں کی ناراضگی کا سبب بنتا ہے۔ حساس مقامات، مثلاً کشمیر، فلسطین وغیرہ جیسے مقبوضہ مقامات پر یہ مسئلہ سنگین نوعیت اختیار کر سکتا ہے۔
۔۔ دوسروں کی پرائیویٹ پراپرٹی میں دانستہ یا نادانستہ داخلے کا بہانہ۔
۔۔ دہشتگردی، شرارت اور جاسوسی کے نئے مواقع اور امکانات
۔۔ لڑکوں اور لڑکیوں کا گیم کے بہانے باہمی اختلاط اور اخلاقی بے راہ روی۔ ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں بیمار ذہنیت والوں نے اپنی عریاں تصاویر گیم میں پوسٹ کی ہیں۔
۔۔ منشیات فروشی کا دھندہ کرنے والوں کیلئے ایک نئی سبیل۔
۔۔ بچوں کو ویران مقامات پر پوکے مان کے لالچ میں بلا کر انکے اغوا کا خدشہ۔

قصہ مختصر یہ کہ ہمیں اپنی آنکھیں کھلی رکھ کر اپنے اور بچوں کے تحفظ اور بہترین مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس گیم کو اپنے موبائلز پر جگہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرنا ہے۔

جامعہ الازہر کے ایک مفتی عباس شومن نے اس گیم کو غیر اسلامی قرار دے دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ لوگ سڑکوں پر موبائل سکرین پر نظریں گاڑے پوکے مان کا شکار کرتے یوں لگتے ہیں گویا شراب کے نشت میں دھت ہوں۔ لوگ ضروری کاموں اور عبادات کو چھوڑ کے گیم کے "نشے" میں مست رہتے ہیں۔ اسکے ساتھ انہوں نے اسی خدشے کا اظہار کیا جو ہم نے اپنی پچھلی پوسٹ میں ذکر کیا تھا کہ کل کو ممکنہ طور پر اگر کسی مسجد یا حساس جگہ کو "پوکے سٹاپ" (گیم میں وہ مقام جہاں پوکے مان کو پکڑنے کے آلات دستیاب ہوتے ہیں۔۔۔!!!) بنا دیا گیا اور لوگ پاگلوں کی طرح ادھر گھس گئے تو۔۔۔؟!! یاد رہے کہ مصر میں ابھی یہ گیم ریلیز نہیں ہوئ، البتہ لوگوں نے انٹرنیٹ سرور کو مس گائیڈ کر کے اسے انسٹال کرنا شروع کر دیا ہے۔
ادھر امریکہ میں روز بروز اسکے نت نئے "ثمرات" سامنے آ رہے ہیں۔ ایک واقعے میں کچھ بچے پوکے مان ڈھونڈتے غاروں میں گھس گئے اور راستہ کھو بیٹھے۔!!!
ایک اور واقعے میں لوگوں کے ایک ہجوم کو ایک نایاب پوکے مان کی موجودگی کی اطلاع نشر ہونے پر نیو یارک کے سنٹرل پارک پر دھاوا بولتے دیکھا گیا۔!!!
پوکے مان تلاش کرتے کرتے اب تک "اتفاقاً" 3 لاوارث لاشیں دریافت ہو چکی ہیں۔!!!
گیم سرور ہر لوڈ زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ جواب دے گئے، جس سے گیمرز "حواس باختہ" ہو گئے۔!!!
ایک خدشہ یہ ہے کے یہ سائیبر اٹیک کا نتیجہ ہے۔

***
اسسٹنٹ پروفیسر، سنٹرل پارک میڈیکل کالج، لاہور
فیس بک : Rizwan Asad Khan
رضوان اسد خان

An analysis of popular game Pokemongo. Article: Rizwan Asad Khan

0 comments:

Post a Comment