Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-04-22 - بوقت: 22:31

اتر کھنڈ میں صدر راج کالعدم - کانگریس حکومت بحال

Comments : 0
نینی تال
پی ٹی آئی
ایک حیرت انگیز فیصلہ میں اتر کھنڈ میں صدر راج کے نفاز کو آج ریاستی ہائیکورٹ نے کالعدم کردیا اور برطرف شدہ کانگریس حکومت کو بحال کردیا اور جمہوری طور پر منتخب حکومت کو جڑسے اکھاڑنے پر مرکز پر شدید تنقید کی ۔ دفعہ356کے تحت27مارچ کو مرکز کی جانب سے صدر راج کے نفاذ پر شدید تنقید کرتے ہوئے چیف جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس وی کے بسٹ پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے کہا کہ صدر راج کا نفاذ سپریم کورٹ کی جانب سے مقررہ قانون کے مغائر ہے ۔ ہریش راوت حکومت کی بحالی کی ہدایت دیتے ہوئے عدالت نے حکم دیا کہ انہیں29اپریل کو اسمبلی میں تحریک اعتماد حاصل کرنا چاہئے ۔ مرکز کی جانب سے 27مارچ کو ریاستی حکومت برطرف کردی گئی تھی۔ فیصلہ کی اہم بات یہ رہی کہ ہائیکورٹ نے یہ کہتے ہوئے کانگریس کے نو باغی ارکان اسمبلی کی نااہلیت کو برقرار رکھا کہ انہیں اسپیکر کی جانب سے انحراف پر نااہل قرار دینے کے دستوری گناہ کے ارتکاب کی قیمت چکانی ہے ۔ اس معاملہ کی اصل روح یہ ہے کہ آیا مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں سے کھلے عام چھٹکارا پانا چاہتی ہے۔ جمہوری طور پر منتخب حکومت کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتی ، بد امنی پھیلانا چاہتی ہے ۔ عام آدمی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا چاہتی ہے جو برف باری، چلچلاتی دھوپ اور بارش کے باوجود ووٹ دینے کے لئے سفید کاغذ کا ٹکڑا لے کر قطاروں میں ٹھہرتا ہے ۔ ہمارا خیال ہے کہ اسمبلی کو چاہے معطل کیاجائے یا تحلیل کیاجائے اس کا اثر جمہوری طورپر منتخب حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنا ہے اس سے شہریوں کے دلوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے جو جمہوری نظام میں حصہ لیتے ہیں اور جمہوریت کے وفاقیت کے بنیاد کی اہمیت گھٹتی ہے ۔ کھلی عدالت میں تقریبا150منٹ تک طویل صادر کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ یہاں بنیادی طور پر جمہوریت کو خطرہ ہے ۔ بنچ نے تاثر کا اظہار کیا کہ یہاں اس مسئلہ کو وسیع تر کینوس پر دیکھنا چاہئے کیونکہ ہندوستان ، ریاستوں کی ایک یونین ہے جہاں مرکز اور ریاستوں دونوں کو اپنے متعلقہ میدانوں میں اقتدار اعلیٰ حاصل ہے ۔ایک بات واضح ہے کہ نہایت اھتیاط سے آخری چارہ کار کے طور پر دفعہ356کا استعمال کیاجانا چاہئے ۔ عدالت نے مرکزی حکومت کے وکیل سے تیقن طلب کیا کہ صدر راج کو ایک ہفتہ کے لئے منسوخ نہیں کیا جائے گا اور فیصلہ کے صادر ہونے تک کسی دوسرے کو حکومت تشکیل دینے کی ہدایت نہیں دی جائے گی۔ جب مرکز کے وکیل نے کہا کہ وہ اس طرح کا تیقن دینے کے موقف میں نہیں ہیں تو بنچ نے کہا کہ دوسری صورت میں آپ ہر ریاست میں ایسا کرسکتے ہیں ۔ صدر راج کو دس، پندرہ دن کے لئے نافذ کرنا اور پھر کسی دوسرے کو حلف لینے کے لئے کہا جاسکتا ہے ۔ برہمی سے زیادہ ہمیں تکلیف ہے کہ آپ اس طرح کا طرز عمل اختیار کررہے ہیں ۔ اعلیٰ ترین اتھاریٹی یعنی حکومت ہند ایسا طرح کا طرز عمل اختیار کرتی ہے ، آپ عدالت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے بارے میں کس طرح سوچ سکتے ہیں ۔ عدالت نے مرکز کے وکیل کی فیصلہ پر حکم التوا دینے کی زبانی درخواست کو مسترد کردیا تاکہ اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکے ۔ عدالت نے کہا کہ اب وہاں کوئی صدر راج نہیں ہے ، حکومت کا احیاء عمل میں آچکا ہے ، ہم نے آپ سے کہا تھا کہ ہمیں فیصلہ تحریر کرنے کے لئے وقت دیں لیکن آپ نے ہمیں آج ہی فیصلہ صادر کرنے پر مجبور کیا ۔ ہم نے کہا تھا کہ ہمیں آسانی سے نہ لیا جائے، ہمیں، ہمارے فیصلہ کو منسوخ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ، آپ سپریم کورٹ جاسکتے ہیں اور فیصلہ پر التوا حاصل کرسکتے ہٰں ۔ اس کیس میں صدر جمہوریہ کے فیصلہ کے فیصلہ پر عدالت میں نظر ثانی کی گنجائش کے خلاف حکومت کے استدلال کو مسترد کرتے ہوئے بنچ نے کہا کہ اس مسئلہ کووسیع تر کینوس میں دیکھنا چاہئے ۔ سنگل بنچ کے فیصلہ کے بعد ڈیویژن بنچ نے یہ مسئلہ رجوع کیا تھا۔ سنگل جج نے18مارچ کو تصرف بل کی منظوری پر تنازعہ کے پیش نظر 28مارچ کو فلورٹسٹ کا حکم دیاتھا۔ بی جے پی اور کانگریس کے ناراض ارکان اسمبلی نے دعویٰ کیاتھا کہ رقمی بل ناکام ہوگیا ہے اور حکومت اپنی اکثریت سے محروم ہوگئی ہے ۔ فلورٹسٹ سے ایک دن قبل مرکز نے دستوری مشنری کے ٹھپ ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے27مارچ کو صدر راج نافذ کیا تھا ۔ ہریش راوت نے صدر راج کے نفاذ کو چیلنج کرتے ہوئے ڈیویژن بنچ میں درخواست پیش کی تھی ۔ گزشتہ تین دن میں دوران سماعت عدالت نے مرکز کے خلاف کئی سخت باتیں کہی تھیں ۔ پیر کے دن اس نے کہا تھا کہ فلور ٹسٹ سے ایک دن قبل آرٹیکل356کا استعمال جمہوریت کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے ۔ مرکزی حکومت نے افرا تفری مچائی اور منتخبہ حکومت کی نفی کی ۔ عدالت نے کل کہا تھا کہ صدر راج کے فیصلہ پر عدالت نظر ثانی کرسکتی ہے کیونکہ صدر جمہوریہ سے بھی فاش غلطی ہوسکتی ہے ۔ آئی اے این ایس کے بموجب ہریش راوت کی قیام گاہ کے سامنے جشن منایا گیا اور بی جے پی کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ۔ دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال نے کہا کہ یہ مودی حکومت کی بڑی بے عزتی ہے۔

--

0 comments:

Post a Comment