Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-21 - بوقت: 14:42

عقیدہ کے نام پر دہشت گردی ایک بڑی غداری - طاہر القادری

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
دہشت گردی انجام دینے کے لئے مذہب کے استعمال کو بڑی غداری کے فعل کے طور پر تصور کیا جانا چاہئے۔ ہندوستان اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کوروکنے کے لئے سخت اقدامات کریں ۔ یہ بات پاکستان کے ایک باثر مفتی نے کہی ہے، جن کے دیڑھ سال قبل اسلام آباد میں منعقدہ اکثریتی احتجاج نے نواز شریف کے مقدر کو ہلادیا تھا ۔ محمد طاہر القادری نے کہا ہندوستان اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اسکولون، کالجوں، یونیورسٹیوں، مدرسوں اور مذہبی اداروں کے تعلیمی نصاب میں مخالف انتہا پسندی کے مضمون کو متعارف کروائیں، تاکہ نوجوانوں کو مذہب کے نا م پر اسلحہ ہاتھ میں لینے اور بری چیزیں کرنے کے لئے ذہن سازی کیے جانے سے روکا جائے۔انہوں نے کہا کہ کہیں عقیدہ اور مذہب کے نام پر دہشت گردی کو فروغ ہوا اسے ایک بڑی غداری کا فعل تصور کیاجاناچاہئے۔ مفتی نے کہا دہشت گرد تنظیمیں جو دہشت گردی پھیلانے کے لئے مذہب کا استحصال کررہی ہیں، ان سے بڑی سختی سے نمٹنا چاہئے اور انہیں کبھی بھی معاف نہیں کرنا چاہئے65سالہ مفتی جو پاکستان میں اپنا ایک مضبوط تائیدی بیس رکھتے ہیں کہا یہ مجرمانہ فعل ہے۔ اگر جیش محمد ، اگر لشکر طیبہ، اگر القاعدہ، آئی ایس آئی ایس یا اگر کوئی ہندو تنظیم دہشت گردی انجام دینے کے لئے مذہب کا استعمال کررہی ہے تب انتہائی سخت ایکشن لیاجانا چاہئے ۔ ہندوستان اور پاکستان کو در پیش ایک بڑے خطرہ کے طور پر دہشت گردی کی شناخت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب وقت آچکا ہے کہ دہشت گردوں اور ساتھ ہی وہ لوگ جو مذہب کے نام پر شر پسندی اور تشدد پھیلاتے ہیں ان کے ساتھ موثر طور پر نمٹا جائے۔ جہاں کہیں دہشت گردی موجود رہتی ہے اس کی جڑیں کہاں ہیں اور وہ گروپس کون ہیں اس کے بارے میں ہر کوئی جانتا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان دونوں کو مشترکہ ایکشن لینا چاہئے ۔تاوقتیکہ جمہوریت کی بیخ کنی نہ کی جائے، علاقہ ترقی سے محروم رہے گا ۔ قادری نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات کی پرزور وکالت کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کو فیصلہ کرنا چاہئے کہ آیا وہ اپنی تقریبا سات دہوں سے جاری عداوت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں یا امن ، معاشی ترقی اور فروغ کی راہ کو ترجیح دیتے ہیں ۔ یہ جینے کی راہ نہیں ہے ۔ دونوں ممالک کو جاننا چاہئے کہ 70سال گزر چکے ہیں انہیں یہ فیصلہ کرنا چاہئے کہ وہ ہمیشہ کے لئے دشمن بنے رہنا چاہیں گے یا دوستانہ پڑوسی بنیں گے ۔ اگر وہ اس بنیادی نکتہ کا فیصلہ کریں تب نئے تعلقات کا ایک نیا باب شروع ہوسکتا ہے ۔

Terrorism In Name Of Faith Is Act Of High Treason: Tahir-ul-Qadri

0 comments:

Post a Comment