Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-03-09 - بوقت: 23:43

بیریجس کی تعمیر - تلنگانہ اور مہاراشٹرا کے درمیان معاہدات پر دستخط

Comments : 0
حیدرآباد
منصف نیو ز بیورو
ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے آج ممبئی میں تلنگانہ اور مہاراشٹرا نے دریا ئے گوداوری اور اس کے معاون ندیوں کے ہمراہ جانچ بیریجس کی تعمیر کے معاہدہ پر دستخط کئے ہیں ۔ دریا پر جاریہ پراجکٹس کے علاوہ ریاست کی جانب سے پیش کئے جانے والے مستقبل کے پراجکٹس کا بھی اس معاہدہ کے تحت احاطہ کیاجائے گا۔ سہیادری گیسٹ ہاؤس میں تلنگانہ اور مہاراشٹرا کے وزرائے اعلیٰ کے چندر شیکھر راؤ اور دیویندر پھڈنویس کی موجودگی میں ان معاہدات پر دستخط کئے گئے ۔ اس سلسلہ میں دونوں چیف منسٹرس کے درمیان قبل ازیں بات چیت کی گئی تھی پھر اس معاہدہ پر دستخط کرنے کے بارے میں پیشرفت ہوئی ۔ معاہدوں میں چنکھا ، کوراٹا، راجم پیٹ اور پین پہاڑ بیریجس شامل ہیں جو بین ریاستی لوور پین گنگا پ راجکٹ کا حصہ ہیں ۔ یہ تقریبا چالیس سال سے زیر التوا رہے۔ تین بیریجس پین گنگا ندی کے ہمراہ تعمیر کئے جائیں گے ۔ تاکہ دونوں ریاستوں کے کسانوں کو فائدہ پہنچے ۔ اسی طرح ضلع عادل آباد میں تمیدھی ہٹی کے قریب پرانہیتا کے ہمراہ بیریج کی تعمیر کے معاہدہ پر بھی دستخط کئے گئے ۔ یہ پ رانہیتا چیوڑلہ پراجکٹ کا حصہ ہے ۔ یہ اونچے علاقوں میں 2.5لاکھ ایکڑ اراضی کے لئے آبپاشی کا مقصد رکھتا ہے ۔ پرنسپل سکریٹری( آبپاشی) ایس کے جوشی کی قیادت میں آبپاشی کے سرکردہ عہدیداروں کی ایک ٹیم ممبئی میں مقیم ہے اور اس نے مہاراشٹرا کے اپنے ہم منصب عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے معاہدات کو قطعیت دی ہے ۔ چیف منستر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے مہاراشٹرا اور تلنگانہ کے درمیان معاہدوں پر دستخط پر خوشی ظاہر کی ہے ۔ یہ گوداوری اور اس کی معاون ندیوں کے ہمراہ بیریجس کی تعمیر سے متعلق ہیں۔ راؤ نے کہا کہ دو پڑوسی ریاستوں کے درمیان طے پائے یہ معاہدے تلنگانہ میں دہوں سے جاری پانی کے بحران کو حل کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوں گے ۔ ایک طویل جدو جہد کے بعد تلنگانہ کو یہ کامیابی ملی ہے ۔ چیف منسٹر نے مہاراشٹرا کے اپنے ہم منصب دیویندر فڈ نویس کا معاہدوں پر دستخط کرنے کے لئے شکریہ ادا کیا۔

Telangana, Maharashtra sign historic inter-state irrigation agreement

0 comments:

Post a Comment