Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-10 - بوقت: 20:14

نئی تعلیمی پالیسی تیار کرنے عہدیداروں کو تلنگانہ وزیراعلیٰ کی ہدایت

Comments : 0
حیدرآباد
اعتماد نیوز
چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے میڈیکل ، اگریکلچر اور فارما کو چھوڑ کر باقی تمام کورسس کو محکمہ تعلیم کے تحت لانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ چیف منسٹر نے آج محکمہ تعلیم کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ اس موقع پر ان کے علم میں یہ بات آئی کہ ایس سی ، ایس ٹی ویلفیر ڈپارٹمنٹ کی جانب سے مختلف تعلیمی ادارے چلائے جاتے ہیں، ان تمام کو محکمہ تعلیم کے تحت لاتے ہوئے معیاری تعلیم فراہم کرنے کا چیف منسٹر نے ارادہ ظاہر کیا ۔ چندر شیکھر راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر ووزیر تعلیم کڈیم سری ہری اور حکومت کے چیف سکریٹری راجیو شرما کو ہدایت دی کہ وہ ریاست کے تمام تعلیمی اداروں کو ایک چھت تلے ہوئے محکمہ تعلیم کو مستحکم کریں اور محکمہ تعلیم کی نگرانی میں ہی تمام تعلیمی اداروں کو چلایاجائے ۔ اس سلسلہ میں ایک نئی تعلیمی پالیسی کو تیار کرنے کی بھی ہدایت دی ۔ چیف منسٹر کا احساس تھا کہ محکمہ تعلیم کے تحت کئی تعلیمی ادارے نہیں آتے جس کی وجہ سے تعلیمی معیار پستی کی طرف جارہا ہے ، نتیجہ میں پیشہ وارانہ تعلیم سے آراستہ طلبہ کو روزگار حاصل کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ عہدیداروں نے چیف منسٹر کو اس موقع پر بتایا کہ مختلف محکموں کی جانب سے اسکولس ، کالجس اور اسٹڈی سرکلس چلائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے محکمہ تعلیم کا ان پر کنٹرول نہیں رہتا جس پر چیف منسٹر نے کہا کہ حالیہ دنوں حکومت نے اقلیتوں کے لئے کئی رہائشی اسکولس قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ان اسکول کے قیام کے لئے بجٹ جاری کیاجائے گا اور محکمہ تعلیم کا ان اسکولس پر کنٹرول رہے گا ۔ اسی طرز پر ایس سی، ایس ٹی، بی سی محکموں کی جانب سے ان کے تعلیمی اداروںکو فنڈس جاری کئے جائیں گے۔لیکن یہ تعلیمی ادارے محکمہ تعلیم کے تحت کام کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بی سی اور ای سی، ایس ٹی محکموں کی جانب سے اسٹڈی سرکلس اور دیگر کورسس چلائے جاتے ہیں۔ محکمہ لیبر کی جانب سے آئی ٹی آئی کالجس چلائے جاتے ہیں، ان تمام کو محکمہ تعلیم کے تحت لانے کی ضرورت ہے ۔ مختلف محکموں کی جانب سے تعلیمی اداروں کے قیام سے تعلیمی معیار میں گراوٹ دیکھی جارہی ہے اور طلبہ روزگار کے مواقع سے بھی محروم ہورہے ہیں ۔ انہوں نے طلبہ کو مارکٹ کی طلب کے مطابق تعلیم دینے اور انہیں روزگار سے مربوط کرنے کے لئے تربیت فراہم کرنے کا مشورہ دیا ، ریاست ہی نہیں بلکہ مختلف علاقوں میں روزگار کے بڑے پیمانہ پر مواقع ہیں۔ تلنگانہ کے نوجوانوں کو مسابقتی امتحانات میں شرکت کے قابل بنانے پر بھی توجہ دی جانی چاہئے ۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے منعقد کئے جانے والے پبلک سرویس کمیشن اور قومی سطح کے یونین پ بلک سرویس کمیشن کے امتحانات پر ہی توجہ دی جارہی ہے اور طلبہ بھی ان دو امتحانات میں شرکت پر ہی توجہ دے رہے ہیں ۔ جب کہ ریلوے، دفاع، بینکنگ اور دیگر کئی شعبوں میں ملازمت کے بڑے پیمانہ پر مواقع ہیں۔ تلنگانہ کے نوجوانوں کو اس طرح کے امتحانات میں بھی شرکت کے قابل بنایاجائے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں آئی ٹی کا شعبہ کافی تیزی سے ترقی کرہا ہے ۔ اس شعبہ میں بھی نوجوانوں کو تیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ چیف منسٹر نے کہار کہ مارکٹ میں ملازمتوں کی جو مانگ ہے ، اس کے مطابق نوجوان کورسس کا انتخاب نہیں کررہے ہیں ، اس کے لئے بھی رہنمائی کی ضرورت ہے ۔ تلنگانہ ریاست میں کتنے ڈاکٹرس اور انجینئرس کی ضرورت ہے، اس کی تفصیلات محکمہ تعلیم کے پاس ہونی چاہئے ۔ سابق میں ملک بھر میں ماڈل اسکولس قائم کئے گئے، کئی ریاستوں نے ماڈل اسکولس کی اسکیم پر عمل آوری نہیں کی۔ ماڈل اسکول کے قیام کے سلسلہ میں تلنگانہ حکومت کو ایک پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔

KCR directs officials to improve quality of education

0 comments:

Post a Comment