Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-28 - بوقت: 23:57

جاٹ احتجاج کے دوران خواتین کی اجتماعی عصمت ریزی

Comments : 0
سونی پت
پی ٹی آئی
تین ٹرک ڈرائیورس نے آج دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مرتھال کے مقام پر جاٹ احتجاجیوں کی جانب سے عورتوں کو گھسیٹتے ہوئے اور دست درازی کرتے ہوئے دیکھا ہے لیکن خاتون پولیس آفیسرس کی ایک ٹیم نے آج مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کے مقام کا دورہ کیا اور کہا کہ ان کے سامنے کوئی عینی شاہد یا متاثرہ خاتون نہیں آئی۔ تین افراد سکھویوندر سنگھ، نرنجن اور نریش کمار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ احتجاجیوں نے دہلی سے پچاس کلو میٹر دور واقع مقام مرتھال میں ان کی ٹرکوں کو جلا دیا اور ان پر حملہ کیا جس کے بعد وہ اپنے آپ کو بچانے کے لئے جھاڑیوں میں چھپ گئے ۔ انہوں نے دیکھا کہ حملہ آوروں نے گاڑیوں سے عورتوں کو باہر نکالا، ان کے کپڑے پھاڑ دئیے، ان کے ساتھ دست درازی کی اور اس کے بعد انہیں کھیتوں میں لے گئے ۔ سکھویندر سنگھ نے الزام لگایا کہ سادہ لباس والے پولیس ملازمین ان پر اس واقعہ کے بارے میں خاموش رہنے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں ۔ یہ باتیں ایک ایسے وقت سامنے آئیں جب ڈی آئی جی راج شری سنگھ کی زیر قیادت خاتون آفیسرس کی ایک ٹیم مبینہ واقعہ کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لئے دہل، انبالا قومی شاہراہ پر سونی پت ضلع میں وقاع مرتھال کے قریب حسن پور موضع میں گئی ۔ راج شری سنگھ نے کہا کہ آج شام تک کوئی بھی متاثرہ خاتون یا عینی شاہد تفصیلات فراہم کرنے کے لئے آگے نہیں آئی ۔ عورتوں کے بعض کپڑوں کی دستیابی کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کپڑوں کو جانچ کے لئے فارنسک سائنس لیباریٹری بھیجا گیا ہے ۔ یہ مبینہ واقعہ جاٹ طبقہ کے لئے تحفظات کے مطالبہ پر حالیہ احتجاج کے دوران پیش آیا ۔ اس دوران مرکزی وزیر بہبودی خواتین و اطفال مینکا گاندھی نے کہا کہ قومی خواتین کمیشن کی ایک ٹیم نے اجتماعی عصمت ریزی کی جانچ کے لئے مرتھال گئی لیکن اب تک کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں آیا۔ اطلاعات کے مطابق ہڑتال کے دوران موٹر سائیکل پر سوار حملہ آوروں نے خواتین سے کہا کہ وہ اپنے تحفظ کے لئے گاؤں جانے والی سڑک پر جائیں جس کے بعد انہیں گھسیٹ پر کھیتوں میں لے جایا گیا۔

Woman Says Gang-Raped In Murthal During Jat Agitation, Case Filed

0 comments:

Post a Comment