Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-02-17 - بوقت: 12:56

وزیر اعظم مودی کے طلب کردہ اجلاس میں جے این یو تنازعہ کی گونج

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
جے این یو مسئلہ پر بڑھتے تنازعہ کی گونج آج وزیر اعظم کے طلب کردہ سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں سنائی دی ۔ اپوزیشن قائدین نے اسٹوڈنٹ لیڈر پر غداری کے کیس کے خلاف آواز آتھائی جب کہ حکومت نے زور دیا کہ طلبا نے جو نعرے لگائے تھے وہ انتہائی قابل اعتراض ہیں۔ حکومت نے کہا کہ وہ23فروری سے شروع ہونے والے بجٹ اجلاس میں جے این یو تنازعہ پر بحث کے لئے تیار ہے۔ نریندر مودی نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی تشویش کو دور کرے گی ۔ وزیر پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے دو گھنٹے طویل اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ مودی نے اجلاس میں کئی مسائل اٹھانے والی اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ صرف بی جے پی کے نہیں بلکہ پورے ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ پارلیمنٹ اجلاس سے قبل سیاسی جماعتوں کا مودی کا طلب کردہ یہ اولین اجلاس تھا۔انہوں نے اجلاس میں کہا کہ ہم اپوزیشن کے اٹھاے گئے مسائل کی یکسوئی کریں گے ۔ میں امید کرتا ہوں کہ آج کے اجلاس میں جو خوشگوار ماحول رہا وہ پارلیمنٹ میں عملی شکل اختیار کرے گا ۔ نائیڈو نے کہا کہ اتفاق رائے ہوا کہ پارلیمنٹ کی کارروائی بلا روک ٹوک چلنی چاہئے ۔ جے این یو میں قوم دشمنوں کی تائید پر بی جے پی کے کانگریس کو نشانہ بنانے پر قائد اپوزیشن راجیہ سبا غلام نبی آزاد نے کہا کہ ان کی پارٹی ہندوستان کے اتحاد اوردستور کے خلاف نعرے لگانے والے طلبا سے لا تعلقی کا اظہار کرتی ہے ۔ لیکن انہوں نے زور دیا کہ جے این یو اسٹوڈنٹس یونین کے صدر کنہیا کمار کے خلاف غداری کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ انہوں نے بی جے پی قیادت پر بھی تنقید کی کہ وہ قوم دشمن قرار دیتے ہوئے کانگریس قیادت کو بدنام کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو بی جے پی کی نکیل کسنی چاہئے ۔ آزاد نے میڈیا سے کہا کہ بی جے پی جب سے بر اقتدار آئی ہے ملک کا ماحول خراب ہوا ہے ۔ حکومت نے ماحول خرا ب کرنے والوں کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی ہے ۔ نائیڈو نے اپوزیشن کی اس تشویش سے اتفاق کیا کہ قوم دشمن کی اصطلاح استعمال نہیں کرنی چاہے تاہم انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو بھی تحمل برتنا چاہئے اور وزیر اعظم کو ہٹلر نہیں کہنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت از روئے قاعدہ ہر مسئلہ پر بات چیت کرے گی۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں ۔حکومت چند قدم آگے بڑھنے کو تیار ہے ۔ جے این یو میں کیا ہوا اس پر کھلی بحث ہونی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض چیانلس، اخبارات صورتحال کو بڑھا چڑھا کر دکھا رہے ہیں ۔ نائیدو نے کہا کہ اجلاس میں ترنمول کانگریس نے جی ایس ٹی بل کی منظوری پر زور دیا۔ جنتادل یو کے سربراہ شرد یادو نے کہا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا روک ٹوک جاری رہنا چاہئے اور تمام مسائل پر بحث ہونی چاہئے۔ کنہیا کمار کی تائید کرتے ہوئے غلام نبی آزاد نے کہا کہ اس نے دستور اور ملک کے اتحاد کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا۔ غداری کے الزام میں اس کی گرفتاری غیر منصفانہ ہے ۔ ملک کا ماحول خراب کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے ۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ رسمی کل جماعتی اجلاس22فروری کو منعقد ہوگا۔ غلام نبی آزاد نے مختلف سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کے مودی کے اقدام کا خیر مقدم کیا۔ نائیدو نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے ایک آواز ہوکر کر کہا ہے کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلا روک ٹوک جاری رہنا چاہئے ۔ کانگریس پر در پردہ تنقید میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن پارٹی ملک کے ماحول کے تعلق سے اظہار خیال کرتی ہے لیکن دیگر جماتعوں کا کہنا ہے کہ اگر مگر نہیں ہونا چاہئے اور پارلیمنٹ کی کاروائی بلا روک ٹوک جاری رہنی چاہئے ۔ وزیر فینانس ارون جیٹلی نے جے این یو تنازعہ پر حکومت کا موقف بیان کیا ۔ شیو سینا رکن پارلیمنٹ آنند ا دسل نے کہا کہ اجلاس میں عام رائے یہ تھی کہ پارلیمنٹ کی کاروائی آسانی سے چلے ۔ بائیں بازو قائدین نے کہا کہ انہوں نے کئی مسائل اٹھائے جن میں یونیورسٹیوں میں جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی شامل تھا۔ نیشنل سکریٹری سی پی آئی ڈی راجہ نے مودی سے پوچھا کہ آیا جے این یو طلبا کے خلاف کارروائی میں وزیر داخلہ از خود قدم اٹھارہے ہیں یا انہیں پوری حکومت کی منظوری حاصل ہے ۔ راجہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں کوئی تیقن نہیں دیا لیکن اتنا کہا کہ وہ مسئلہ کا جائزہ لیں گے ۔

JNU row comes up at all-party meeting, govt woos oppn

0 comments:

Post a Comment