Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-30 - بوقت: 18:27

جموں و کشمیر میں پی ڈی پی موقف - بی جے پی سے ٹھوس تیقنات کا مطالبہ

Comments : 0
سری نگر
پی ٹی آئی
پی ڈی پی جس نے حکومت کی تشکیل پر ہر ایک کی قیاس آرائی کو جاری رکھا ہے اس کے موقف کو آج سخت کردیا اور حلیف بی جے پی سے کہا کہ مخلوط حکومت کے عام ایجنڈہ کی عمل آوری کے لئے ٹھوس تیقنات دے۔ چونکہ وہ مرکز میں بر سر اقتدار ہے ۔ پی ڈی پی نے خاص طور پر کاستان کے ساتھ تعلقات، متنازعہ افسپا کی منسوخی مرکز سے جموں و کشمیر کے برقی پراجکٹس کی واپسی جیسے خاص مسائل اٹھائے جو اتحاد کے ایجنڈہ کا حصہ ہیں۔ ہمارے لئے اتحاد کا ایجنڈہ مقدس دستاویز ہے جس پر ہم کو عمل کرنا چاہئے لیکن اس پر چند تیقنات بھی دئے گئے تھے ۔ پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر نے یہ بات کہی ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا اگرہم اس دستاویز پر عمل آوری نہ کرے ۔ جس پر دونوں پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے ہوا تھا۔ پی ڈی پی لیڈر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو قومی سطح پر ایک بھاری رائے عامہ حاصل ہے اور دوسری طرف مفتی محمد سعید ریاست کی واحد بڑی پارٹی کے لیڈر تھے ۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے جو اتحاد کے ایجنڈہ کا ایک حصہ ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں جاری ہیں ۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کے عمل میں جمو ں و کشمیر کو شامل کئے بغیر یہ مقصد کس طرح حاصل ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ مذاکرات اتحاد کے ایجنڈہ کا حصہ ہے ۔ الفاظ چاہے کچھ بھی ہوں ، جب کہ افسپا کی منسوخی اور برقی پراجکٹس کی واپسی جیسے دیگر مسائل ایجنڈہ میں ہیں یہ تمام ریاست کے عوام کے فائدہ کے لئے ہیں۔، بی جے پی نے اس مسئلہ پر مصلحت کے تحت خاموشی برقرار رکھی ۔ پی ڈی پی کی جانب سے ایک سخت موقف کے باعث یہ اشارات مل رہے ہیں کہ ریاست میں گورنر راج طویل عرصہ تک جاری رہ سکتا ہے جو اس وقت کے چیف منسٹر مفتی سعید کی موت کے بعد8جنوری کو نافذ کیا گیا تھا۔ گورنر این این ووہرا نے حکمرانی کے مکمل اختیارات حاصل کرنا شروع کردیا ہے ۔ کل انہوں نے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ اس معاملہ پر بات چیت کے ذریعہ ادارہ جات مقامی کے انتخابات کے انعقاد کا مسئلہ چھیڑا تھا۔

PDP toughens stand, wants concrete assurances from BJP

0 comments:

Post a Comment