Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2016-01-10 - بوقت: 18:23

سوچھ بھارت مشن کے تحت 75 شہروں کی درجہ بندی

Comments : 0
نئی دہلی
آئی اے این ایس
وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے سوچھ بھارت مشن آغاز کرنے کے15ماہ بعد شہری ترقی کی وزارت نے75شہروں کا جائزہ لینے کیا جو صاف صفائی کی بنیاد پر کیا گیا ہے ، جب کہ عوام سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ مشن کی انجام دہی کے لئے جسے سوچھ سورویکشن کا نام دیا گیا ہے ، جس کی ذمہ داری کو الیٹی کونسل آف انڈیا کو تفویض کی گئی ہے اور جس کے ذریعہ تمام ریاستی دارالحکومتوں اور53شہروں کا احاطہ کیاجائے گا ، جن میں اعداد و شمار اکٹھا کرنے کے تین طریقے اختیار کئے جائیں گے ۔ عوام اور شہریوں سے معلومات کا حصول، میونسپلٹی کی جانب سے رضا کارانہ تجزیہ اور آزادانہ طور پر جائزہ شامل ہے ۔ سوچھ سرویکشن پہلا سروے ہے جسے سوچھ بھارت مشن کے آغاز کے بعد شروع کیا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ2اکتوبر2014کو سوچھ بھارت مشن شروع کیا گیا تھا ۔ یہ بات پروین پرکاش مشن ڈائرکٹر اور جوائنٹ سکریٹری وزارت شہری ترقی نے کہی۔ ہر سال مشن کے اثرات کا جائزہ لیں گے ۔ کام کے مطابق ہم صفائی کے چھ اقدامات پر توجہ دیں گے ۔ کھلے طور پر شہر کے ٹھوس ناکارہ مینجمنٹ سسٹم کو ختم کرنے حکمت عملی اختیار کی جائے گی ۔ معلومات اور تبدیلی سے متعلق لوگوں کی اطلاعات کی فراہمی کی اہمیت پر بھی زور دیاجائے گا، گھر گھر پہنچ کر جھاڑوکے طریقہ کار کے بارے میں موثر انداز کو اختیار کرنے اور کچرے کی نکاسی کے اقدامات پر زور دیاجائے گا ۔ ناکارہ اشیاء کو ختم کرنے کے عمل کا بھی جائزہ لیاجائے گا۔ عوام اور طبقوں کے لئے بیت الخلاؤں کی تیاری کس طرح کی جاسکتی ہے ، اس پر بھی غور کیاجائے گا۔ انفرادی طور پر گھروں میں بیت الخلاء کی تعمیر کی پیشرفت کاجائزہ لیاجائے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ سوچھ بھارت مشن کے بتائے گئے مقاصد کے ذریعہ گھر گھر سے کچرے کا حصول اور مناسب انداز میں میونسپل کے ذریعہ ان کی نکاسی کے اقدامات83ہوار وارڈس، شہری علاقوں میں2019تک کئے جائیں گے ۔ سوچھ سرویکشن کے صفائی کی سطح کا جائزہ75شہروں میں لیاجائے گا اور بیک وقت شہروں کے درمیان صحتمندانہ مسابقت بھی رکھی جائے گی ۔ یہ بات کوالیٹی کونسل کے چیرمین عادل زین بھائی نے کہی۔

75 cities to be ranked under Swachh Bharat Mission

0 comments:

Post a Comment