Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-23 - بوقت: 23:30

اندھا دھند گرفتاریوں کی وجہ سے مسلمانوں میں بےچینی - تلنگانہ ڈی جی پی انوراگ شرما

Comments : 0
حیدرآباد
انڈین ایکسپریس
تلنگانہ پولیس چیف نے بتایا کہ مسلم نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاریوں کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہوتے جارہے ہیں ۔ اس کے علاوہ اس طرح کی گرفتاریوں کے باعث ان میں انتہا پسندی کا جذبہ فروغ پارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اتوار کو ختم ہوئی ڈائرکٹر جنرل آف پولیس کی کانفرنس کے دوران ان تاثرات اور احساسات کا اظہار کرتے ہوئے مختلف امور پر غوروخوض کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس بھوج میں منعقد ہوئی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں کے بعد مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کی وجہ سے اقلیتوں میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔ اس طرح کی بے چینی اور اضطراب انتہا پسند سر گرمیوں کا باعث ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے دوران اس مسئلہ پر غوروخوض کیا گیا تاکہ کوئی ایسے اقدامات کئے جاسکیں جس سے کہ انتہا پسندی کی سر گرمیوں کی روک تھام کی راہ ہموار ہوجائے ۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ کانفرنس میں سماجی اور معاشی مسائل پر بھی غوروخوض کیا گیا اور بتایا گیا کہ سماجی اور معاشی حالات بھی بعض اوقات نوجوانوں کو انتہا پسندی کے لئے مجبور کردیتے ہیں یا پھر وہ حالات کا شکار ہوکر انتہا پسندی سرگرمیوں سے خود کو وابستہ کرلیتے ہیں۔ اس لئے اس مسئلہ پر غوروخوض کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اجلاس میں سیکوریٹی امور پر بھی غوروخوض کیا گیا ۔ اس کے علاوہ داعش اور دوسرے انتہا پسند گروپس کے تعلق سے بھی غوروخوض کرکے ان کی دھمکیوں کی وجہ سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کا جائزہ لیا گیا ۔ اس موقع پر عہدیداروں نے تاثرات پیش کئے اور اپنے احساسات کا اظہار کیا۔ اس سالانہ اجلاس کا اہتمام انٹلی جنس بیورو کی جانب سے کیا گیا تھا ۔ تلنگانہ کے ڈی جی پی انوراگ شرما نے بھی اس موقع پراپنے تاثرات اور احساسات کا اظہار کیا۔ ذرائع نے بتایا کہ تلنگانہ ڈی جی پی انوراگ شرما کا یہ احساس ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ انصاف کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سماجی اور معاشی فوائد سے انہیں محروم رکھاجانے کی وجہ سے سمجھاجاتا ہے کہ وہ انتہا پسندی کی طرف مائل ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو سماجی اور معاشی فوائد کی توقع رہتی ہے لیکن اب ان کی یہ توقع پوری نہ ہوتو ان میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہونا لازمی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں اقلیتوں سے متعلق امور اور دوسرے مسائل کا بھی تذکرہ کیا اور کہا کہ جن علاقوں میں اقلیتوں کی اکثریت ہے وہان عام طور پر بنیادی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اس کے علاوہ معاشی فوائد کے مواقع بھی بہت کم ہوا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے سمجھاجاتا ہے کہ یہ فرقہ انتہا پسندی کی طرف راغب ہونے لگتا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے تعلق سے کہا کہ سمجھا جاتا ہے کہ اس طرح کی گرفتاریوں کی وجہ سے ان میں اضطراب اور بے چینی پیدا ہورہی ہے اور وہ انتہا پسندی کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ شرمانے اس سلسلہ میں مکہ مسجد میں ہوئے دھماکون کا تذکرہ کیا اور کہا کہ یہ دھماکے حیدرآباد کی مکہ مسجد میں2007میں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں کے بعد پولیس نے مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا جس کے بعد اس بات کا علم ہوا کہ یہ نوجوان بے گناہ ہیں اور ان دھماکوں سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ یہ دھماکے ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے کئے گئے تھے ۔

0 comments:

Post a Comment