Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-28 - بوقت: 23:47

اسٹارٹ اپ اور اسٹینڈ اپ انڈیا ایکشن پلان کا 16 جنوری کو آغاز

Comments : 0
نئی دہلی
یو این آئی
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج غریبوں کی زندگی بدلنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اعلان کیا کہ گزشتہ15اگست کو بالخصوص پسماندہ طبقہ کے چھوٹے اور نوجوان تاجروں کی مدد کے لئے اعلان کئے جانے والی پہلے اسٹارٹ اپ انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا کا ایکشن پلان آئندہ16جنوری کو شروع کیاجائے گا۔ نئے سال کے موقع پر آل انڈیا ریڈیو پر نشر ہونے والے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ، من کی بات میں اظہار خیال کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا کہ ہندوستان کو اسٹارٹ اپ انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا کی عالمی دارالحکومت بنانے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بینکوں سے اپیل کی کہ وہ اس پہل کے لئے آگے آکر نوجوان تاجروں کو اپنا کاروبار شروع کرنے میں ہر ممکن مدد فراہم کریں ۔ وزیر اعظم مودی نے نئے سال کے موقع پر اپنے ریڈیو پروگرام من کی بات کے15ویں ایڈیشن میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس سال یوم آزادی پر انہوں نے لال قلعہ سے اسٹارٹ اپ انڈیا ، اسٹینڈ اپ انڈیا پہل کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد حکومت کے تمام محکموں میں اس پر کام شروع کردیا گیا ۔ اس سے ملک کے نوجوانوں کے لئے مینو فیکچرنگ ،سروس، زراعت و غیرہ شعبوں میں نیا پن ، نیا طریقہ نئی سوچ شروع ہوگی جس سے نوجوانوں کو اچھے مواقع مل سکیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پہل سے نوجوان نسل کے لئے بہت بڑا اور وسیع موقع پیدا ہونے کی توقع ہے ۔ اس لئے حکومت 16جنوری کوملک میں اس منصوبہ کا پورا خاکہ پیش کرنے جارہی ہے ۔ اس پروگرام میں ملک بھر کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی(آئی آئی ٹی) مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ (آئی آئی ایم) مرکزی یونیورسٹی اور دیگر ادارے حصہ لیں گے اور سب کو اس پروگرام کے راست نشریات سے جوڑا جائے گا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹارٹ اپ انڈیا، اسٹینڈ اپ انڈیا پروگرام اس روایتی سوچ سے ہٹ کر ہے جس میں کہاجاتا ہے کہ یہ پروگرام صر ف ڈیجیٹل ورلڈ اور آئی ٹی جیسے شعبوں کے لوگوں کے لئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام اس تصور کے برعکس ہے اور اس کا مقصد ملک کی ضروریات کے مطابق تبدیلی لانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ایسی سوچ پید اکرنی ہے کہ مشکل کام آسان ہوجائے ۔ مثلا غریب شخص مزدوری کرتا ہے اور اس کو سخت جسمانی اذیت برداشت کرنی پڑتی ہے لیکن اس پروگرام کے ذریعے ایسی پہل، ایسا اپ گریڈ لانے کی ضرورت ہے، جس سے غریبوں کو مزدوری کرنے میں تھوڑی سہولت ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس کو بھی اسٹارٹ اپ مانتا ہوں ۔ میں بینکوں سے کہوں گا کہ ایسے نوجوانوں کی مدد کریں ۔ میں نوجوانوں کو بھی کہوں گا کہ ہمت سے آگے بڑھو۔ تو تمہیں بھی مارکیٹ مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر کونے میں نوجوانوں کے پاس حوصلے ہیں اور ان کو موقع چاہئے اور اس منصوبہ کے ذریعے ان نوجوانوں کو موقع ملنے والا ہے۔ یہ پروگرام صرف چند شہروں میں محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اسے ملک کے ہر کونے میں پھیلانا ہے ۔ ریاستی حکومتوں کے ذریعہ اس پروگرام کو پرجوش طور پر آگے بڑھانے پر زور دیتے ہوئے انہوں نے عام لوگوں سے اس کی کامیابی کے لئے تجاویز بھی طلب کیں۔ وزیر اعظم مودی نے مختلف منصوبوں کی سبسیڈی کا پیسہ براہ راست مستحقوں کے بینک اکاؤنٹو میں ٹرانسفر کرنے کے منصوبہ کی غیر معمولی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے آج کہا کہ یہ دنیا کی سب سے بڑی اسکیم بن گئی ہے اور اسے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیاجاچکا ہے ۔ مودی نے کہا کہ انہیں اس بات سے کافی خوشی ہے کہ اس منصوبے کا براہ براست فائدہ غریب آدمی کو مل رہا ہے۔ کروڑوں روپے آسانی سے اہل افراد کے اکاؤنٹوں میں جارہے ہیں ۔ پہلے یہ یقینی بنانا مشکل تھا کہ سبسیڈی کے مستحقین کا پیسہ ان کے پاس پہنچ رہا ہے یا کہی اور جارہا ہے ان کی حکومت نے اس میں تھوڑی تبدیلی کی ہے جو اس کی کامیابی کا باعث بنی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن دھن اکاؤنٹ اور آدھار کارڈ کی مدد سے ڈائریکٹ بینیفٹ ٹرانسفر اسکیم دنیا کی سب سے بڑی اسکیم بن گئی اور اس کو کامیابی کے ساتھ نافذ کرردیا گیا ہے ۔ نومبر تک تقریبا15کروڑ رسوئی گیس کے صارفین کو پہل اسکیم کا فائدہ ملا اور ان کے اکاؤنٹ میں سبسیڈی کے سرکاری پیسے براہ راست جانے لگے ۔ ان مختلف منصوبوں کے تحت اب تک مستحقین کے بینک اکاؤنٹو ں میں تقریبا40ہزار کروڑ روپے پہنچ چکے ہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان منصوبوں کا پیسہ مستحقین کو دینے میں دلال یا سفارش کی ضرورت نہیں ہے اور نہ کوئی کرپشن کا امکان ہے ۔ ایک طرف آدھار کارڈ کی مہم، دوسری طرف جن دھن اکاؤنٹ کھولنے کی پہل، تیسری طرف ریاستی حکومتوں اور مرکزی حکومت کے ذریعہ آپس میں مل کر فائدہ اٹھانے والوں کی فہرست تیار کرنا ۔ ان کے آدھار نمبروں سے ان کے اکاؤنٹو کو جوڑنا ۔ یہ سلسلہ چل رہا ہے ۔ گاؤں میں روزگار کا موقع فراہم کرنے والے مہاتما گاندھی قومی روزگار گارنٹی ایکٹ (منریگا) کے پیسے کی منتقلی کے سلسلے میں بہت شکایتیں آتی تھیں لیکن اب مزدوری کا پیسہ براہ راست مزدوری کرنے والے شخص کے اکاؤنٹ میں جمع ہونے لگا ہے ۔ اسی طرح سے اسکالر شپ کا پیسہ بھی براہ براست متعلقہ طالب علم کے اکاؤنٹ میں جارہا ہے ۔

Start-Up India plan on Jan 16: PM Modi on Mann ki Baat

0 comments:

Post a Comment