Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-12-17 - بوقت: 23:59

گورنر ارونا چل پردیش پر منتخبہ جمہوری حکومت کو بے دخل کرنے کی کوشش کا الزام

Comments : 0
نئی دہلی
پی ٹی آئی
مودی حکومت پر ارونا چل پردیش کی کانگریس حکومت کو منصوبہ بند طریقہ سے بے دخل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے سونیا گاندھی ، راہول گاندھی اور دیگر پارٹی قائدین نے آج صدر جمہوریہ ہند پرنب مکرجی سے ملاقات کی اور ریاستی گورنر جیوتی پرساد راج کھوا کے خلاف سخت احتجاج درج کرایا ۔ کانگریس صدر نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد راشٹر پتی بھون میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ یہ بات صاف ہے کہ بی جے پی کی اعلیٰ قیادت نے بعض ناراض کانگریس ارکان اسمبلی کی ملی بھگت سے ارونا چل پردیش کی جمہوری منتخبہ کانگریس حکومت کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنایا ہے ۔ مرکزی حکومت میں اعلیٰ سطح پر یہ غیر اصولی حرکت ہوئی ہے ۔ کانگریس وفد نے پرنب مکرجی کو یادداشت سونپی اور ان سے خواہش کہ وہ دستور کا تقدس، ملک کا جمہوری روایات اور قانون کی حکمرانی کا تحفظ کریں ۔ صدر جمہوریہ سے یہ کہا گیا کہ وہ اس سلسلہ میں مناسب ہدایت دیں ۔ سونیا گاندھی زیر قیادت وفد میں پارٹی نائب صدر راہل گاندھی اور سینئر قائدین اے کے انٹونی ، قائد اپوزیشن لوک سبھا ملیکارجن کھرگے ، قائد اپوزیشن راجیہ سبھا غلام نبی آزاد، ڈپٹی لیڈر آنند شرما اور احمد پٹیل شامل تھے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ گورنر ارونا چل پردیش نے دستور کی اسپرٹ کے مغائر کام کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ گورنر، مرکزی حکومت کی ایما پر انحراف کرکے بی جے پی میں جا ملنے کے خواہاں کانگریس ارکان اسمبلی کو غیر قانونی طریقہ سے استعمال کررہے ہیں تاکہ ریاست کی جمہوری منتخبہ حکومت بے دخل ہوجائے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ گورنر کے اقدامات سے دستوری بحران پیدا ہوا ہے ۔ گونر راج کھووا نے16تا18دسمبر سہ روزہ سرمائی اجلاس طلب کرنے کے احکام چند دن قبل جاری کئے ۔ انہوں نے14تا18جنوری اجلاس طلب کرنے کے سابقہ احکام میں ترمیم کی۔ سونیا نے کہا کہ وفد نے صدر جمہوری کو اپنی تشویش سے واقف کرایا کہ ارونا چل پردیش کی کانگریس حکومت کو کس طرح عدم استحکام سے دوچار کیاجارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر جمہوریہ سے مطالبہ کیا کہ وہ دستور کا تقدس یقینی بنائیں۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مرکزی حکومت کی ہدایت پر گورنرغیر دستوری اقدامات کررہے ہیں ۔ اسمبلی اجلاس14جنوری سے شروع ہونے والا تھا لیکن گورنر نے خود اس کی تاریخ گھٹا دی ۔ چیف منسٹر کا بینہ اور اسپیکر کو اس کی کوئی جانکاری نہیں۔ دستور کی رو سے چاہے پارلیمنٹ کا اجلاس ہو یا اسمبلی کا اجلاس ہو، طلبی کا فیصلہ حکومت کرتی ہے ۔ بعد ازاں وہ قومی سطح پر صدر جمہوریہ سے اور ریاستی سطح پر گورنر سے اس سلسلہ میں درخواست کرتی ہے ۔ ریاست کے حالات بیان کرتے ہوئے وفد نے الزام عائد کیا کہ گورنر نے نہ صرف اپنے عہدہ کا وقار گھٹا دیا ہے بلکہ وہ جمہوری اصولوں اور روایات کی بھی نفی کررہے ہیں ۔ یہ بھی بے نقاب ہوگیا ہے کہ مرکزی حکومت، ارونا چل پردیش کی جمہوری منتخبہ حکومت کو بے دخل کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ کانگریس نے پارلیمنٹ اجلاس دوسرے دن بھی درہم برہم کرنے کے بعد صدر جمہوریہ سے ملاقات کی ۔ پارٹی نے راجیہ سبھا اجلاس کئی مرتبہ ملتوی ہونے پر مجبور کیا جب کہ لوک سبھا میں اس کے ارکان بشمول سونیا گاندھی اور راہول گاندھی نے واک آؤٹ کیا ۔ کانگریس ارکان نے دونوں ایوانوں میں الزام عائد کیا کہ شمال مشرقی ریاست میں دستور اور جمہوریت کا قتل ہورہا ہے ۔ انہوں نے گورنر کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ 14باغی کانگریس ارکان اسمبلی کو جن کا ہاتھ اسپیکر نابم روپیتا کو ہٹانے کی کوشش میں ہے ، آج اسمبلی سے نااہل قرار دیا گیا۔ سابق وزیر کلیکنوپل کی قیادت میں21کانگریس ارکان اسمبلی نے چیف منسٹر کی قیادت کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا ہے ۔ 60رکنی ایوان میں کانگریس ارکان کی تعداد47ہے۔


Congress Disrupts Rajya Sabha Over Role of Arunachal Pradesh Governor

0 comments:

Post a Comment