Search | تلاش
Archives
TaemeerNews Rate Card

Ads 468x60px

Our Sponsor: Socio Reforms Society India

تعمیر نیوز آرکائیو - TaemeerNews Archive

2015-11-09 - بوقت: 23:41

جرمنی میں پناہ گزینوں کی آمد سے اسلام کو فروغ

Comments : 0
برلن
یو این آئی
یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں اب تک زیادہ تر مسلمان ترک نسل کے باشندے ہیں لیکن لاکھوں نئے مہاجرین کی امد کے ساتھ اب جرمنی میں اسلام کا تشخص بدل رہاہے اور وہ عرب طرز کا متنوع ہوتا جارہا ہے ۔ اس بارے میں جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے ایک تفصیلی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اس سال جرمنی میں جتنے بھی نئے مہاجرین یا تارکین وطن آئے ہیں،ان میں بہت بڑی اکثریت خانہ جنگی کے شکار شام، عراق یا پھر افغانستان کے باشندوں کی ہے ۔ یہ تارکین وطن مسلمانوں کے طور پر اپنے ساتھ اسلام کا اپنا اپنا فہم اور سماجی اور مذہبی تصور بھی لائے ہیں۔ جرمنی مین آج تک قریب تین ملین یا اس سے بھی زیادہ مسلمانوں کی جو سب سے بڑی مذہبی اقلیت موجود رہی ، اس کا تشخص بنیادی طور پر ترک تھا کیونکہ ان مسلمانوں میں سب سے بڑا نسلی گروپ ترک باشندوں کا ہے ۔ لیکن اب یہ تناسب تبدیل ہونا شروع ہوگیا ہے ۔اور جرمنی میں آباد مسلمانوں میں ترک نسل کے مسلمانوں کی شرح نہ صرف کم ہورہی ہے بلکہ جرمن اسلام بھی مجموعی طور پر پہلے کے مقابلہ میں زیادہ عرب اور متنوع ہوتا جارہا ہے ۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اب جرمنی میں مسلمانوں کے ساتھ سب سے بڑی مذہبی اقلیت کے طور پر مکالمیت اور بھی زیادہ ضروری ہوگئی ہے کیونکہ اب تک اس سلسلے میں کوئی متفقہ مذہبی پلیٹ فارم موجود نہیں ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ مذہب کوئی بھی ہو، وہ مہاجرت یا بے وطنی کے شکار افراد کو سہارا دیتا ہے ۔ جو نئے مسلمان مہاجرین اب تک جرمنی آئے ہیں اور وہ اپنی آمد کے بعد عبادت کے لئے اپنے ارد گرد کے علاقوں میں مسجدیں ڈھونڈتے ہیں ۔ اس طرح ان تارکین وطن کو مختلف شہروں میں نہ صرف مسلم برادری کے مقامی طور پر طاقتور سماجی ڈھانچے مل جاتے ہیں بلکہ اسی وجہ سے آئندہ جرمنی میں مختلف قومیتوں کے نمائندہ مسلمانوں کی بڑی تنظیموں کو حاصل اثر ورسوخ بھی تبدیل ہوتا جائے گا۔ جرمن شہر مائنز سے تعلق رکھنے والے اسلامی امور کے ماہر مروان ابو طعام کے مطابق اب تک جرمنی میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم دیتیب(Ditib) ہے، جو ترک مسلمانوں کی اسلامی یونین ہے ۔ باقی تمام مسلم تنظیمیں اس سے چھوٹی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عام جرمن شہری کے لئے اسلام کا وہی تشخص زیادہ جانا پہچانا ہوتا ہے جو ترک اسلامی تشخص ہے ۔ جرمنی میں لاکھوں مہاجرین اور مہاجرین کی صورت میں بہت زیادہ مسلمانوں کی آمد کے خلاف مظاہرے بھی کئے جارہے ہیں ۔ لیکن مروان ابو طعام کے بقول نئے آنے والے مہاجرین کی بہت بڑی اکثریت شامی باشندوں کی ہے، جس کا مطلب ہے کہ اب جرمن اسلام کے زیادہ عربیائے جانے کا رجحان دیکھنے میں آئے گا ۔ یہ وہ صورت حال ہے جو مثال کے طور پر مستقبل میںDitibکی بجائے جرمنی میں مسلمانوں کی مرکزی کونسل کے لئے ممکنہ مضبوطی کا باعث بنے گی، اس لئے کہ اس تنظیم کے رکن مسلمان زیادہ تر عرب مسلمان ہیں۔ اسی طرح بڑی تعداد میں عراقی تارکین وطن کی آمد کے بعد جرمنی میں شیعہ اسلام کے پیروکاروں کی تعداد بھی بدل جائے گی ، اور پھر افریقی ممالک اور افغانستان سے آنے والے مسلمانوں کی وجہ سے ملک مین مسلم اقلیت میں مختلف قومیتوں کے مسلمانوں کا تناسب بھی بدل جائے گا، جو جرمنی میں اسلام کی مجموعی تصویر میں مزید تنوع کا سبب بنے گا۔

Refugee influx to shake up Germany's Muslim community

0 comments:

Post a Comment